Wed 23 Jm2 1435 - 23 April 2014
38135

کیا خاوند کے لیے جائز ہے کہ وہ بیوی کے ساتھ افطاری کرنے کی بجائے مسجد میں افطاری کرے

کیاگھرمیں بیوی کے ساتھ افطاری کرنے سے مسجدمیں جماعت کے ساتھ افطاری کرنا زیادہ اہم ہے ، کیونکہ بیوی حاملہ ہونے کے با‏عث گھرسے نہيں جاسکتی ؟
میں نے چند ماہ قبل شادی کی اوراپنے خاوند کے ساتھ یہ پہلا رمضان بسرکر رہی ہوں ، اب تک اس نے میرے ساتھ گھر میں ایک افطاری بھی نہیں کی ، وہ مسجد میں افطاری کرنے کے بعد رات دس بجے گھر واپس آتا ہے ، توکیا ایسا کرنا شرعی طور پر صحیح ہے ؟
میری آپ سے گزارش ہے کہ آپ اس کا جواب دیں ، میں نئي مسلمان ہوئي ہوں اورمیرا خاوند اصلا مسلمان ہے اس کا کہنا ہے کہ اسلامی تعلیمات ایسی ہی ہیں ، لیکن میرے خیال میں یہ اسلامی تعلیمات نہیں ہیں ؟

الحمد للہ
اس میں کوئي شک نہيں کہ معاشرت زوجیت میں یہ بات شامل ہے کہ : خاوند کو بیوی کے دینی اوردنیاوی معاملات کا خیال رکھنا چاہیے ، اوراس پر بیوی کے واجب کردہ حقوق ادا کرنے چاہييں ، خاوند پر بیوی کے واجب حقوق میں سب سے اولی اوراہم حق خاوند کے ذمہ یہ ہے کہ وہ بیوی کو دینی معاملات اورعقیدہ اس طرح سکھائے جس طرح اللہ تعالی کا حکم ہے ۔

بلا شبہ خاوند کا آپ کویہ باور کرانا کہ وہ جوکچھ کررہا ہے وہ اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے ، اس کا یہ کہنا صحیح نہیں بلکہ غلط ہے ، اوراللہ تعالی کے ذمہ ایسی بات ہے جس کا اسے علم ہی نہیں ، حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام کے ساتھ صحبت اورتعلقات اوران کے معاملات کا اہتمام اورضروریات پورا کرنے کے باوجود گھریلوکام کاج بھی کیا کرتے اورگھروالوں کا خیال رکھا کرتے تھے ۔

اسود رحمہ اللہ تعالی بیان کرتے ہیں کہ میں نے عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں کیا کرتے تھے ؟

وہ فرمانے لگیں :

نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھروالوں کی خدمت کیا کرتے تھے اورجب نماز کا وقت ہوتا تونماز کے لیے نکل جاتے ۔

صحیح بخاری حدیث نمبر ( 644 ) ۔

اوراللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

{ اورعورتوں کے ساتھ احسن انداز سے بود وباش اختیارکرو } ۔

اس سے یہ پتہ چلا کہ حسن معاشرت جس کا اللہ تعالی نے حکم دیا ہے حیات زوجیت کی اساس ہے ۔

اوریہ معلوم ہونا چاہیے کہ بیوی کے ساتھ مل کر افطاری کرنا بھی حسن معاشرت میں شامل ہے چاہے کچھ ایام کے لیے ہی ہو اورخاص کرازدواجی زندگي کے ابتدائي ایام میں اس کا زیادہ اہتمام کرنا چاہیے کیونکہ ان ایام میں ان اشیاءکا اہتمام کرنا چاہیے جس سے حیات زوجیت میں قوت پیدا ہو ، شریعت اسلامیہ نے بھی اسی کا حکم دیا ہے ۔

اور خاص کرجب بیوی کے ساتھ افطاری نہ کرنے کی وجہ سےبیوی وحشت محسوس کرے توایسا نہیں کرنا چاہیے بلکہ اسے دینی تعلیم دینے لیے ایک سنہری موقع سمجھنا چاہیے اورافطاری میں کھانے پینے کے آداب اورسنن بیان کرتے ہوئے عملی طورپر بھی سکھانا چاہیے ۔

مندرجہ بالاسطور میں جوکچھ بیان ہوا ہے اس کی بنا پر ہم خاوند کو کہیں گے کہ گھراور بیوی کے معاملات کا اہتمام کرتے ہوئے ان کا خیال رکھے اوران کے حقوق میں کمی کوتاہی نہ کرے ، اسے یہ علم ہونا چاہیے کہ دوسرے لوگوں کے معاملات حل کرنے سے زيادہ اجروثواب تو اپنے گھرکی ضروریات پوری کرنے میں ہیں ۔

اوراسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ :

( مسکین پرصدقہ کرنا توصرف صدقہ ہی ہے ، اوررشتہ دار واقربا پر صدقہ کرنا ڈبل اجرکا باعث ہے ایک تو صدقہ اوردوسرا صلہ رحمی کا ) سنن نسائي حدیث نمبر ( 2528 ) ، علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے اسے صحیح قراردیا ہے ۔

اورایک حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کچھ اس طرح ہے :

( اپنی عیالت والے سے ابتداء کرو ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1360 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1034 ) ۔

اس کا معنی یہ نہیں کہ شرعی طور پر اسے روزانہ بیوی کے ساتھ ہی افطاری کرنی واجب ہے ، لیکن اس میں کوئي شک نہيں کہ بیوی اورگھروالوں سے محبت والفت اور ان سے وحشت ختم کرنے کے لیے انس کا اظہار کرنا نیکی ہے ، اورخاص کر جب سائلہ یہ کہتی ہے کہ وہ حمل کے باعث کام کاج نہيں کرسکتی ، توایسی حالت میں اوربھی زيادہ نیکی ہوگي ۔

اوراسی طرح بیوی اور گھروالوں سے نرم رویہ اوررحمدلی اوران کی ضرویات کا خیال کرنا بھی نیکی ہے ، یہ نیکی نہیں کہ دوست واحباب کو راحت پہنچانے کے لیے راتوں کی نیند حرام کرتے ہیں اورگھر کا خیال ہی نہیں اورنہ ہی بیوی کی ضروریات کا خیال کرتے ہیں ۔

ہم اللہ تعالی سے دعا گوہیں کہ وہ مسلمانوں کے حالات کی اصلاح فرمائے اورھدایت سے نوازے ۔

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments