Mon 21 Jm2 1435 - 21 April 2014
38145

شراب نوشى كرنے والے كے ليے ہلاكت

ايك لڑكى نے رمضان سے قبل شراب نوشى كى اور پھر رمضان المبارك كے ابتدا ميں روزے بھى ركھے، تو اسے كسى بہن نے كہا كہ اس كے روزے قابل قبول نہيں بلكہ مردود ہيں، اور اللہ تعالى اس كے روزے قبول نہيں كريگا كيونكہ اس نے ابھى كچھ ايام قبل ہى شراب نوشى كى ہے، اس ليے اسے چاليس يوم تك انتظار كرنا چاہيے حتى كہ اللہ تعالى اس كى نماز اور روزے قبول كرے، تو كيا يہ بات صحيح ہے ؟

الحمد للہ:

شراب نوشى كرنا كبيرہ گناہوں ميں شمار ہوتا ہے.. اور يہ ام الخبائث يعنى سب گناہوں كى جڑ ہے، اور ہر شر و برائى كى كنجى ہے.. يہ عقل كو ماؤف كر كے ركھ ديتى ہے، اور مال كو ضائع كرتى اور سر چكرا ديتى ہے، اس كا ذائقہ بہت ہى كريہہ اور بدمزہ ہے، اور يہ پليد اور شيطانى عمل ميں شامل ہوتا ہے؛ شراب نوشى لوگوں كے درميان حسد و بغض اور عداوت و دشمنى پيدا كرتى ہے.... اور اللہ تعالى كے ذكر اور نماز كى ادائيگى سے روكتى ہے... اور زنا و بدكارى كى دعوت ديتى ہے...

اور ہو سكتا ہے بعض اوقات شراب نوشى اپنى صلبى بيٹى اور بہن اور محرم عورتوں كے ساتھ زنا كرنے تك بھى لے جائے... اور شراب نوشى غيرت ختم كر ديتى ہے، اور ذلت و رسوائى اور ندامت كا باعث ہے.. اور شراب نوشى كرنے والے كو سب سے ناقص انسان كے ساتھ ملايا جاتا ہے اور وہ مجنون اور پاگل لوگ ہيں، يہ اسرار و راز كو ختم كر ركھ ديتى ہے، اور ستر و پردہ ختم كر ديتى ہے.. اور بےشرمى پيدا كرتى ہے، اور قبيح اور گناہ كے كام كو آسان كر ركھ ديتى ہے... اور محرم عورتوں كى تعظيم دلوں سے نكال ديتى ہے، اور مستقل طور پر شراب نوشى كرنے والا بت پرستى كرنے والى كى طرح ہے..

شراب نوشى نے كتنى ہى لڑائياں بھڑكائيں؟

اور كتنے مالداروں كو تنگ دست اور فقير كر ديا؟

كتنے ہى عزت والوں كو ذليل و رسوا كر ديا ؟

اس نے كتنے ہى شرف زادوں كے شرف كو ختم كرديا؟

اس نے كتنى ہى نعمتوں كو چھين ليا ؟

اور كتنے لوگوں كے درميان ناراضگياں پيدا كيں ؟

كتنے ہى خاوند اور بيوى كے مابين جدائى پيدا كى؟ .. اور اس كے دل كو لےگئى اور اس كے اصل كو لے كر چلتى بنى.

اور كتنى ہى حسرتيں اور افسوس پيچھے چھوڑيں، يا پھر كتنى عبرتيں لائى ؟..

شراب نوشى كرنے والے كے ليے شراب نے خير و بھلائى كے كتنے ہى دروازے بند كر ديے، اور كتنے ہى شر و برائى كے دروازے كھول ديے ؟..

كئى لوگوں كو اس نے آزمائش و مصيبت ميں ڈالا اور كتنوں كو جلد موت ميں دھكيل ديا؟..

شراب نوشى كرنے والے پر كئى مصيبتيں آئيں؟..

شراب سب گناہوں كو جمع كرنے، اور ہر برائى و شر كى كنجى اور نعمتوں كو چھيننے والى، اور ناراضگى اور غضب كو لانے والى ہے ..

اگر اس كى برائيوں اور رذائل ميں اور كچھ بھى نہ ہو تو صرف اتنا ہى كافى ہے كہ يہ اور جنت كى شراب ايك پيٹ ميں جمع نہيں ہو سكتى، بندے كے ليے تو يہى مصيبت كافى ہے.

ہم نے اوپر جو كچھ بيان كيا ہے شراب كى آفتيں اور مصيبتيں تو اس سے بھى كئى گنا زيادہ ہيں" اھـ

يہ كلام ابن قيم رحمہ اللہ كى تھى.

ديكھيں: حادى الارواح.

اور پھر اللہ سبحانہ و تعالى نے ہميں اس سے ڈراتے ہوئے اپنے نبى كى زبان سے اپنى كتاب عزيز ميں يہ فرمان جارى كيا:

1 - اللہ كا فرمان ہے:

{ اے ايمان والو! بات يہى ہے كہ شراب اور جوا اور تھان اور فال نكالنے كے پانسے كے تير يہ سب گندى باتيں، شيطانى كام ہيں، ان سے بالكل الگ رہو تا كہ تم كامياب ہو جاؤ }المآئدۃ ( 90 ).

2 - اللہ سبحانہ و تعالى نے شراب نوشى كرنے والے پر لعنت كى ہے...

سنن ابو داود ميں ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما سے مروى ہے كہ:

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے شراب، اور شراب نوشى كرنے والے، اور شراب پلانے والے، اور شراب فروخت كرنے والے، اور شراب خريدنے والے، اور شراب كشيد كرنے والے، اور شراب كشيد كروانے والے، اور شراب اٹھانے والے اور جس كى طرف اٹھا كر لے جائے سب پر لعنت فرمائى "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 3189 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ابو داود ( 2 / 700 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

3 - نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے شراب نوشى كے عادى كو بت پرست كے مشابہ قرار ديا.

ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" شراب نوشى كا عادى بت پرستى كرنے والے كى طرح ہے "

سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 3375 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 2720 ) ميں اسے حسن قرار ديا ہے.

4 - شراب نوشى كا عادى شخص جنت ميں داخل ہونے سے محروم رہےگا.

ابو درداء رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" شراب نوشى كا عادى شخص جنت ميں داخل نہيں ہو گا "

سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 3376 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ابن ماجہ حديث نمبر ( 2721 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

5 - عثمان رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ:

" شراب نوشى سے اجتناب كرو كيونكہ يہ برائيوں كى جڑ ہے، تم سے پہلے ايك عبادت گزار شخص تھا، اس سے ايك بدكار عورت كو محبت اور عشق ہو گيا، تو اس نے اپنى لونڈى كو اس عبادت گزار كى جانب بھيجا اور اسے كہا كہ ہم تمہيں گواہى دينے كے ليے بلا رہے ہيں، تو وہ اس لونڈى كے ساتھ گيا، اور جب وہاں پہنچا تو اور جس دروازے سے بھى اندر داخل ہوتا تو وہ اس كے پيچھے دروازہ بند كر ديا جاتا، حتى كہ وہ ايك بہت ہى برى اور بدكار عورت كے پاس پہنچا جس كے پاس ايك بچہ اور شراب كا برتن ركھا تھا، تو وہ عورت اسے كہنے لگى، اللہ كى قسم ميں نے تجھے گواہى كے ليے نہيں بلايا، بلكہ اس ليے بلايا ہے كہ يا تو تم ميرے ساتھ برائى كرو، يا پھر شراب كا ايك گلاس پيئو، يا پھر اس بچے كو قتل كر دو.

تو اس نے كہا مجھے يہ شراب كا ايك گلاس پلا دو تو اس عورت نے اس آدمى كو ايك گلاس پلايا، وہ كہنے لگا مجھے اور دو، تو وہ اور پيتا رہا حتى كہ اس عورت كے ساتھ زنا بھى كيا، اور اس بچے كو بھى قتل كر ديا"

اس ليے تم شراب نوشى سے اجتناب كرو، كيونكہ اللہ كى قسم ايمان اور شراب نوشى كى عادت اكٹھى نہيں ہو سكتى، مگر خدشہ ہے كہ ان دونوں ميں سے كوئى ايك دوسرے كو نكال اس سے نكال ديگا "

سنن نسائى حديث نمبر ( 5666 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح نسائى حديث نمبر ( 5236 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

6 - شراب نوشى كرنے والے كى چاليس يوم تك نماز قبول نہيں ہوتى.

عبد اللہ بن عمرو رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جس نے بھى شراب نوشى كى اور اسے نشہ آگيا تو اس كى چاليس روز تك نماز قبول نہيں ہو گى، اور اگر وہ مر گيا تو آگ ميں جائيگا، اور اگر توبہ كر لے تو اللہ اس كى توبہ قبول كريگا، اور اگر اس نے دوبارہ شراب نوشى كى اور نشہ ہوگيا تو چاليس يوم تك اس كى نماز قبول نہيں ہو گى، اگر مر گيا تو آگ ميں جائيگا، اور اگر توبہ كر لے تو اللہ اس كى توبہ قبول كر لےگا، اور اگر اس نے پھر دوبارہ شراب نوشى كى اور نشہ ہوگيا تو اس كى چاليس يوم تك نماز قبول نہيں ہو گى، اگر مر گيا تو آگ ميں جائيگا، اور اگر توبہ كر لے تو اللہ اس كى توبہ قبول كريگا، اور اگر وہ پھر دوبارہ شراب نوشى كرتا ہے تو پھر اللہ كو حق ہے كہ وہ اسے روز قيامت ردغۃ الخبال پلائے.

صحابہ كرام نے عرض كيا: اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم ردغۃ الخبال كيا ہے ؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: جہنميوں كا خون اور پيپ "

سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 3377 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ابن ماجہ حديث نمبر ( 2722 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

نماز قبول نہ ہونے كا معنى يہ نہيں كہ نماز ہى صحيح نہيں، يا پھر وہ نماز ادا ہى نہ كرے، بلكہ اس كا معنى يہ ہے كہ اسے اس نماز كا اجروثواب نہيں ملےگا، تو اس طرح نماز ادا كرنے كا فائدہ يہ ہو گا كہ وہ نماز كى ادائيگى سے برى الذمہ ہو جائيگا، اور اسے ترك كرنے كى سزا نہيں دى جائيگى، ليكن اگر وہ نماز بھى ادا نہ كرے تو اسے اس كى بھى سزا ہو گى.

ابو عبد اللہ محمد بن نصر المروزى كہتے ہيں:

" قولہ: " اس كى نماز قبول نہيں ہو گى " يعنى اسے شراب نوشى كى سزا كے طور پر چاليس يوم تك نماز كا ثواب حاصل نہيں ہو گا، جيسے علماء نے خطبہ جمعہ كے دوران كلام كرنے والے شخص كے متعلق كہا ہے كہ وہ ادا تو كرے گا ليكن اس كا جمعہ نہيں ہو گا، ان كى مراد يہ ہے كہ اسے اس گناہ كى پاداش ميں جمعہ كى ثواب حاصل نہيں ہو گا "

ديكھيں: تعليم قدر الصلاۃ ( 2 / 587 - 588 ).

مزيد آپ سوال نمبر ( 20037 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

اور امام نووى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اور اس كى نماز كى عدم قبوليت كا معنى يہ ہے كہ اسے اس نماز كا اجروثواب نہيں ملےگا، اگرچہ نماز ادا كرنے كى وجہ سے اس كا فرض ادا ہو جائيگا، اور اسے دوبارہ ادا كرنے كى كوئى ضرورت نہيں " اھـ

اور سوال كرنے والى كو جو يہ كہا گيا ہے كہ اس كے روزے مردود ہيں اور قابل قبول نہيں، يہ بعض علماء كرام كے قول پر مبنى ہے كہ حديث ميں نماز كى عدم قبوليت كا ذكر ہے لہذا اس سے مراد يہ ہے كہ اس كى كوئى بھى عبادت چاليس يوم تك قبول نہيں ہو گى.

مباركپورى رحمہ اللہ تحفۃ الاحوذى ميں لكھتے ہيں:

" اور يہ بھى كہا گيا ہے كہ: بالخصوص نماز كا ذكر اس ليے كيا گيا ہے كہ يہ بدنى عبادات ميں سب سے افضل عبادت ہے، چنانچہ جب يہ قبول نہيں ہوتى تو پھر دوسرى عبادات بالاولى قبول نہيں ہونگى " اھـ

ماخوذ از تحفۃ الاحوذى. كچھ كمى و بيشى كے ساتھ.

اور عراقى اور مناوى رحمہما اللہ نے بھى اسى طرح كہا ہے.

تو اس قول كى بنا پر روزے بھى قبول نہيں ہونگے، اور اس كا يہ معنى نہيں كہ جس نے شراب نوشى كو تو وہ روزے بھى چھوڑ دے، نہيں بلكہ اسے روزے ركھنا ہونگے شراب نوشى كى سزا ميں اس كے روزے قبول نہيں ہونگے.

اور بلاشك و شبہ شرابى شخص پر نماز كى بروقت ادائيگى فرض ہے، اور اسے رمضان المبارك كے روزے بھى ركھنا ہونگے، اور اگر اس نے كوئى نماز ادا نہ كى، يا روزہ نہ ركھے تو وہ كبيرہ گناہ كا مرتكب ٹھرےگا، جو كہ شراب نوشى كے جرم سے بھى بڑا جرم ہے.

اور يہ معلوم ہونا چاہيے كہ مسلمان شخص كا معصيت و نافرمانى ميں پڑ جانا، اور اس سے توبہ نہ كرنا يہ كمزور ايمان كى نشانى ہے، اس كے ليے نافرمانى و معصيت كا عادى ہونا اور مسلسل نافرمانى كرنا جائز نہيں، اور اس كے ليے جائز نہيں كہ وہ اطاعت و فرمانبردارى ترك كرے اور اس ميں كوتاہى كا مرتكب ہو.

بلكہ اس پر واجب ہے كہ وہ اپنى استطاعت كے مطابق اطاعت و فرمانبردارى كرے، اور كبيرہ گناہ كے ارتكاب اور ہلاكت والى اشياء كو ترك كرنے كى كوشش كرے.

اور مسلمان پر يہ بھى واجب اور ضرورى ہے كہ وہ اللہ كا تقوى اختيار كرے، اور شيطانى وسوسوں اور اس كى چالوں سے بچ كر رہے، اور اپنے آپ كو شيطان كا آلہ كار نہ بننے دے، اور اگر اس كا شيطان اس پر حاوى اور غالب ہو جائے، اور اسے اللہ خالق الملك كى معصيت و نافرمانى ميں مبتلا كر دے تو اسے فورا اور جلدى سے توبہ كر لينى چاہيے، كيونكہ " توبہ كرنے والا شخص ايسا ہى ہے جيسے كسى كا كوئى گناہ نہ ہو "

سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 2450 ) علامہ بوصيرى رحمہ اللہ نے اسے صحيح قرار ديا ہے، جيسا كہ سنن ابن ماجہ كے حاشيہ الزوائد ميں ہے.

يہ تو شراب نوشى كرنے والى كى سزا ہے جب وہ توبہ نہ كرے، ليكن جو شخص توبہ كر لے تو اللہ تعالى اس كى توبہ قبول كر كے اس كے اعمال بھى قبول فرما ليتا ہے.

اللہ تعالى سے ہمارى دعا ہے كہ وہ ہميں شيطانى چالوں اور وسوسوں سے محفوظ ركھے، اور ہميں ظاہرى اور باطنى فتنوں سے بچائے.

اور سب تعريفات اللہ رب العالمين كے ليے ہى ہيں.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments