Fri 18 Jm2 1435 - 18 April 2014
38194

كيا جماعت بڑى ہونے كى وجہ سے اجر بھى زيادہ ہوتا ہے ؟

اگر كوئى شخص زيادہ نمازيوں والى جماعت ميں نماز ادا كرے تو كم نمازيوں والى جماعت سے زيادہ اجر حاصل ہو گا ؟
بڑى جماعت كے ساتھ نماز ادا كرنے كے فوائد كيا ہيں ؟

الحمد للہ:

جى ہاں نوافل اور فرائض ميں نمازيوں كى كثرت سے اجروثواب بھى زيادہ حاصل ہوتا ہے.

ابى بن كعب رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" ايك آدمى كى دوسرے آدمى كے ساتھ نماز ادا كرنا انفرادى طور پر نماز ادا كرنے سے زيادہ بہتر ہے، اور ايك آدمى كى دو آدميوں كے ساتھ نماز ادا كرنا ايك شخص كے ساتھ نماز ادا كرنے سے زيادہ بہتر ہے، اور جتنے زيادہ ہونگے وہ اللہ عزوجل كو زيادہ محبوب ہيں "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 554 ) سنن نسائى حديث نمبر ( 843 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح ابو داود ميں اسے حسن قرار ديا ہے.

اور بزار اور طبرانى نے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان روايت كيا ہے كہ:

" دو آدميوں كى نماز باجماعت اللہ تعالى كے ہاں آٹھ انفرادى طور پر نماز ادا كرنے والوں سے بہتر ہے، اور چار اشخاص كى نماز باجماعت اللہ تعالى كے ہاں ايك سو انفرادى نماز ادا كرنے والوں سے بہتر ہے "

ديكھيں: الصحيح الترغيب حديث نمبر ( 412 ).

حديث ميں " تترى " كا معنى عليحدہ اور انفرادى نماز ادا كرنا ہے.

سندى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" ازكى " يعنى زيادہ اجروثواب ہے.

" وما كانوا اكثر " يعنى جس قدر نمازى زيادہ ہونگے اتنے ہى وہ كم سے زيادہ محبوب ہونگے"

ديكھيں: شرح النسائى ( 2 / 105 ).

شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" لوگوں كا ايك مسجد ميں جمع ہونا دو مسجدوں ميں متفرق ہونے سے افضل ہے؛ كيونكہ جتنى جماعت زيادہ ہو گى اسى قدر افضل بھى ہو گى ...

پھر انہوں نے اس حديث سے استدلال كيا ہے " اھـ

ديكھيں: مجموع الفتاوى ( 31 / 221 ).

اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

اگر فرض كريں كہ دو مسجديں ہوں ايك ميں نمازى دوسرى مسجد سے زيادہ ہوں تو زيادہ نمازيوں والى مسجد ميں جانا افضل ہو گا؛ كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" ايك شخص كا دوسرے شخص كے ساتھ نماز ادا كرنا انفرادى طور پر نماز ادا كرنے سے زيادہ اجروثواب كا باعث ہے، اور اس كا دو اشخاص كے ساتھ نماز ادا كرنا ايك شخص كے ساتھ نماز ادا كرنے سے زيادہ اجروثواب كا باعث ہے، اور جس قدر ( نمازى ) زيادہ ہونگے وہ اللہ تعالى كو زيادہ محبوب ہيں "

يہ عام ہے، چنانچہ اگر دو مسجديں ہوں ايك ميں زيادہ نمازى ہوں اور دوسرى ميں كم تو زيادہ جماعت والى مسجد ميں نماز ادا كرنا افضل ہے.

ديكھيں: الشرح الممتع ( 4 / 150 - 151 ).

اور بعض علماء كرام كا كہنا ہے كہ فضيلت اور اجروثواب ميں جماعتوں ميں كوئى كم اور زيادہ نہيں، كيونكہ ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما كى حديث ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" نماز باجماعت انفرادى نماز سے ستائيس درجے افضل ہے "

متفق عليہ.

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے سب جماعتوں كى نماز كو ستائيس اور پچيس درجے افضل قرار ديا اور كسى بھى جماعت ميں فرق نہيں كيا.

ان كے اس استدلال كا رد اس طرح كيا گيا ہے كہ:

ولى الدين عراقى كا كہنا ہے:

" اس حديث ميں جماعتوں ميں مساوات كا كہنے والوں كے ليے كوئى دليل نہيں؛ كيونكہ ہم كہتے ہيں: اس سے جو كم از كم حاصل ہوتا ہے وہ يہ كہ جماعت اجروثواب ميں زيادتى كا باعث ہے، اور اس ميں كوئى مانع نہيں كہ كسى اور سبب سے اجروثواب ميں زيادتى ہو، مثلا كثرت جماعت، يا مسجد كے شرف و مرتبہ، يا پھر مسجد كا دور ہونا وغيرہ " اھـ

ديكھيں: طرح التثريب ( 2 / 301 - 302 ).

يعنى جب بھى نماز باجماعت ہو اگرچہ دو آدميوں كى ہى تو حديث ميں بيان كردہ زيادہ ( ستائيس درجہ ) اجروثواب حاصل گا، اور اس ميں كوئى مانع نہيں كہ كسى اور سبب كى بنا پر اجروثواب اور بھى زيادہ ہو جائے، ان ميں نمازيوں كى كثرت بھى شامل ہے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments