38205: روزہ دار كا كم مقدار ميں عمدا قيئ كرنے كا حكم


كيا تھوڑي مقدار ميں عمدا كي گئي قيئ روزے كو فاسد كرديتي ہے ؟ جو كہ قيئ اور تھوك كےمابين سي تھي، گزارش ہےكہ حكم كي وضاحت كي جائے ؟

الحمد للہ :

كھانےوغيرہ كا پيٹ سے باہر نكلنے كوقئي كہا جاتا ہے، لسان العرب ميں ہے " التقيؤ پيٹ ميں پائي جانےوالي اشياء كوجان بوجھ كرباہر نكالنےكانام ہے" ديكھيں لسان العرب ( 1 / 135 )

روزہ فاسد كردينےكےمتعلق اس كا حكم يہ ہےكہ اگر توكسي شخص نے قيئ جان بوجھ كركي تواس كا روزہ فاسد ہوجائےگا، اور اس پر اس دن كي قضاء ميں روزہ ركھنا لازم ہے، ليكن اگر قيئ اس پر غالب آجائے اور اس كےاختيار كے بغير كي ہي قيئ ہو تو اس كا روزہ صحيح ہے اوراس پر كچھ نہيں ، اس كي تفصيل سوال نمبر ( 38023 ) كےجواب ميں بيان ہوچكي ہے.

اور اگركسي بيماري كي بنا پر اسے قيئ كرنا پڑے اور قيئ اس كےعلاج ميں ممد ومعاون ثابت ہوتي ہو توجان بوجھ كرقيئ كرنا جائز ہے اور اس كے بدلے ميں اسے رمضان كےبعد ايك دن كي قضاء كرنا ہوگي كيونكہ اللہ تعالي كا فرمان ہے:

{اور جوكوئي بھي تم ميں سے مريض ہو يا مسافر تو وہ دوسرے ايام ميں اس كي گنتي پوري كرے} البقرۃ ( 185 )

صحيح تويہي ہے كہ قيئ كي مقدار كم ہويا زيادہ اس ميں كوئي فرق نہيں، لھذا اگر كسي نے جان بوجھ كرعمدا قيئ كي اور تھوڑي سي چيز كا اخراج بھي ہوگيا تواس كا روزہ ختم ہوجائےگا، " الفروع " ميں ہےكہ:

" اور اگر اس نےجان بوجھ خود قيئ كي تو كوئي بھي چيز قيئ ميں نكل آئي اس كا روزہ ختم ہوجائےگا كيونكہ ابوھريرہ رضي اللہ تعالي عنہ كي حديث ہے : ( جس كو قيئ خود بخود آئے اس پر كچھ نہيں اور جس نے عمدا جان بوجھ كرقيئ كي وہ قضاء كرے ) ديكھي: الفروع ( 3 / 49 )

يہ حديث ابوداود ( 2380 ) اور ترمذي ( 720 ) نے روايت كي اور كہا ہےكہ اہل علم كےہاں اسي پر عمل ہے اور علامہ الباني رحمہ اللہ تعالي نے اسے صحيح قرار ديا ہے.

ليكن تھوك اور قيئ ميں فرق ہے، لھذا تھوك اور بلغم وغيرہ پيٹ سے نہيں آتيں اس ليے ان كےاخراج يا تھوكنے ميں كوئي حرج نہيں، ليكن قيئ تو پيٹ ميں جوكچھ ہوتا ہے اسے نكالنے كو كہتےہيں جس كا بيان پہلے گزر چكا ہے .

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments