Wed 23 Jm2 1435 - 23 April 2014
38213

کیا افضل جگہ اوراوقات میں نیکی اوربرائي میں بھی اضافہ ہوتا ہے ؟

کیا یہ صحیح ہے کہ رمضان المبارک میں نیکیوں کی طرح برائيوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے ؟ اورکیا اس کی کوئي دلیل ملتی ہے ؟

الحمدللہ

جی ہاں افضلیت والی جگہ اوراوقات میں نیکیوں اوربرائیوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے ، لیکن نیکی اوربرائي کے اضافہ میں فرق پایا جاتا ہے ، لھذا نیکیوں میں اضافہ کمیت اورکیفت کے اعتبارسے ہوتا ہے کمیت سےتعداد مراد ہے لھذا ایک نیکی دس گنا یااس سے بھی زيادہ بڑھتی ہے ، اورکیفیت سے مراد یہ ہے کہ اس نیکی کا ثواب بڑھتا اورعظیم ہوتا ہے ۔

لیکن برائي میں صرف کیفیت کے اعتبارسے اضافہ ہوتا ہے یعنی اس کا گناہ عظیم اورسزا بہت سخت ہوتی ہے ، لیکن تعداد کے اعتبار سے برائي ایک ہی رہتی ہے اورایک سے زيادہ نہيں بڑھتی ۔

مطالب اولی النھی میں یہ کہا گيا ہے کہ :

فضلیت والی جگہ میں نیکی اوربرائي میں بھی اضافہ ہوتا ہے مثلا مکہ اورمدینہ اوربیت المقدس اورمساجد میں ، اوراسی طرح فضیلت والے اوقات میں بھی نیکی اوربرائي میں اضافہ ہوتا ہے مثلا : جمعہ کا دن اورحرمت والے مہینے ، اوررمضان المبارک ۔

نیکیوں میں اضافہ کے بارہ میں توکسی بھی قسم کا کوئي اختلاف نہیں ، لیکن برائیوں میں اضافہ کے مسئلہ میں ابن عباس اورابن مسعود کے متبعین کے ایک گروہ اس کا قائل ہے ، اوربعض محققین کاکہنا ہے کہ ابن عباس اورابن مسعود رضي اللہ تعالی عنہم کا برائيوں میں اضافہ کے قول سے مراد یہ ہے کہ اس کی کیفیت میں اضافہ ہوتا ہے نہ کہ کمیت میں ۔ اھـ

دیکھیں مطالب اولی النھی ( 2 / 385 ) ۔

اورشیخ ابن باز رحمہ اللہ تعالی سے مندرجہ ذیل سوال کیا گیا :

کیا مسلمان شخص کے روزے صغیرہ اورکبیرہ گناہوں کا کفارہ بنتے ہیں؟ اور کیا رمضان المبارک میں گناہوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے ؟

توشیخ رحمہ اللہ تعالی کا جواب تھا :

رمضان المبارک اوردوسرے مہینوں میں بھی مسلمان شخص کے لیے مشروع ہے کہ وہ برائي پرابھارنے والے نفس کے خلاف مجاھدہ کرے تا کہ اس کا نفس امارہ برائي پرابھارنے کی بجائے نفس مطمئن بنے اوراسے بھلائي اورخیرکا حکم دے اوراس کی رغبت رکھے ، اورمسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اللہ تعالی کے دشمن ابلیس لعین کے خلاف لڑائي کرے تا کہ وہ اس کے شروبرائي سے محفوظ ہوسکے ۔

لھذا مسلمان شخص تواس دنیاوی زندگی میں مسلسل جھاد کی حالت میں رہتا ہے ، نفس کے ساتھ جھاد ، خواہشات کے خلاف جھاد ، شیطان لعین کے خلاف جھاد ، اورمسلمان شخص کوچاہیے کہ وہ ہروقت اورہرلمحہ توبہ واستغفار کرتا رہے ، لیکن اوقات بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں :

لھذاماہ رمضان المبارک سال بھرکے مہینوں میں سب سے افضل ماہ کا درجہ رکھتا ہے ، یہ ماہ مبارک مغفرت ورحمت ، اورآگ سے آزادی وچھٹکارے کا مہینہ ہے ، لھذا جب مہینہ فضیلت والا ہواورجگہ بھی افضل ہوتواس میں نیکیاں بھی بڑھتی اورزيادہ ہوتی ہیں ، اوراس کے ساتھ ساتھ برائيوں کا گناہ بھی زيادہ ہوجاتا ہے ۔

لھذا رمضان المبارک میں کی گئي برائي کا گناہ دوسرے اوقات میں کی گئي برائي سے زيادہ ہوتا ہے ، جس طرح رمضان المبارک میں کی گئي نیکی و بھلائي کا ثواب بھی اللہ تعالی کے ہاں دوسرے مہینوں کے مقابلہ میں زيادہ ہوتا ہے ، اورجب رمضان المبارک کویہ فضيلت ومرتبہ حاصل ہے تواس ماہ مبارک میں اطاعت وفرمانبرداری کوبھی بہت بڑا درجہ حاصل ہے اوراجروثواب میں اضافہ ہوتا ہے ، تواسی طرح اس ماہ مبارک میں معصیت وگناہ کی سزا بھی دوسرے مہینوں کے مقابلہ میں بہت زيادہ ہوتی ہے ۔

لھذا مسلمان شخص کواس فرصت سے فائدہ اٹھانا چاہیے اوراسے موقع غنیمت جانتے ہوئے اس ماہ مبارک میں زيادہ سے زيادہ اطاعت وفرمانبرداری اوراعمال صالحہ کرنے چاہييں اورگناہوں اورنافرمانیوں سے اجتناب کرنا چاہیے ہوسکتا ہے اللہ سبحانہ وتعالی اسے شرف قبولیت بخشے اوراسے حق پراستقامت کی توفیق عطا فرمائے ۔

لیکن برائي تعداد کے اعتبار سے ایک ہی رہتی ہے اس میں نہ تورمضان المبارک اورنہ ہی کسی اورمہینہ میں اضافہ ہوتا ہے ، بلکہ نیکیاں اوربھلائیاں دس گنا بلکہ اس سے بھی زيادہ تک بڑھ جاتی ہيں ، کیونکہ سورۃ الانعام میں اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

{ جوشخص نیک کام کرے گا اس کواس کے دس گناہ ملیں گے ، اورجو شخص برا کام کرے گا اس کواس کے برابر ہی سزا ملے گی اوران لوگوں پر ظلم نہ ہوگا } الانعام ( 160 ) ۔

اس معنی کی آیات توبہت زيادہ ہیں لیکن اسی پراکتفا کرتا ہوں ۔

اوراسی طرح فضلیت والی جگہ مثلاحرم مکہ اورحرم میدینہ شریف میں بھی کیفیت اورکیمیت کے اعتبارسے نیکی وبھلائي میں بہت زيادہ اضافہ ہوتا ہے ، لیکن برائياں کمیت کے اعتبارسے زایادہ نہيں ہوتیں بلکہ کیفیت کے اعتبارسے فضیلت والے اوقات اورجگہ میں زيادہ ہوتی ہیں جس کا اشارہ پیچھے کیا جا چکا ہے ۔

اللہ سبحانہ وتعالی ہی توفیق بخشنے والا ہے ۔ انتھی ۔ دیکھیں : مجموع فتاوی ومقالات متنوعۃ ( 15 / 446 ) ۔

اورشیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ تعالی نے الشرح الممتع ( 7 / 262 ) میں کہا ہے کہ :

فضلیت والی جگہ اوراوقات میں نیکیوں اوربرائيوں میں اضافہ ہوتا ہے ۔

لھذا نیکیاں کمیت اورکیفیت کے اعتبارسے بڑھتی ہیں ، لیکن برائیاں کیفیت کے اعتبارسے بڑھتی ہیں نہ کہ کمیت کے اعتبارسے ، کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالی نے سورۃ الانعام جوکہ مکی سورت ہے میں ارشاد جاری کیا ہے :

{ جوشخص نیک کام کرے گا اس کواس کے دس گناہ ملیں گے ، اورجو شخص برا کام کرے گا اس کواس کے برابر ہی سزا ملے گی اوران لوگوں پر ظلم نہ ہوگا } الانعام ( 160 ) ۔

اورایک دوسرے مقام میں کچھ اس طرح فرمایا :

{ جوبھی ظلم کے ساتھ وہاں الحاد کا ارادہ کرے ہم اسے دردناک عذاب چکھائيں گے } الحج ( 25 ) ۔

یہاں اللہ سبحانہ وتعالی نے یہ نہيں فرمایا کہ ہم اس میں اضافہ کریں گے بلکہ یہ فرمایا { ہم اسے دردناک عذاب چکھائيں گے } تواس طرح مکہ یا مدینہ شریف میں کیفیت کے اعتبارسے زيادہ ہوتی ہیں ۔

اس کا معنی یہ ہوگا کہ یہ اس کے لیے زيادہ تکلیف دہ اورسزا کا موجب ہوگا کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالی نے فرمایا ہے :

{ جوبھی ظلم کرے ساتھ وہاں الحاد کا ارادہ کرے ہم اسے دردناک عذاب چکھائيں گے } الحج ( 25 ) ۔اھـ

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments