38602: وسوسے كے شكار شخص كا بہت زيادہ قسميں اٹھانا اور توڑنا


وسوسے كے شكار شخص نے كئى ايك قسميں اٹھائيں كہ وہ عمل بار بار نہيں كريگا، ليكن قسم توڑ دى، اس پر بہت سى قسميں اور عہد جمع ہو چكے ہيں، جس كى تعداد كا علم اللہ ہى كو ہے، اور اسے وسوسہ كى بيمارى بھى ہے، سابقہ قسموں كا كفارہ كيسے ادا كرے ؟

الحمد للہ:

اول:

جس شخص نے بھى كئى ايك قسميں اٹھائيں، اور قسم توڑ دى اور كسى ايك كا بھى كفارہ ادا نہ كيا تو اس كى دو حالتيں ہيں:

پہلى حالت:

ايك ہى چيز پر قسم اٹھائى گئى ہو، مثلا وہ يہ كہے: اللہ كى قسم ميں سگرٹ نوشى نہيں كرونگا، پھر قسم توڑ دے، اور اپنى قسم كا كفارہ ادا نہ كرے، پھر دوبارہ قسم اٹھائى كہ وہ سگرٹ نوشى نہيں كريگا، اور پھر قسم توڑ دے..... تو اسے ايك كفارہ ہى لازم آئيگا.

دوسرى حالت:

اس كى قسميں مختلف قسم كے كاموں پر ہوں، مثلا وہ اس طرح كہے: اللہ كى قسم ميں سگرٹ نوشى نہيں كرونگا، اللہ كى قسم ميں فلاں جگہ نہيں جاؤنگا، اور پھر ان سب قسموں كو توڑ دے، تو كيا اس پر ايك ہى كفارہ لازم آتا ہے يا قسموں كى تعداد كے مطابق ؟

اس مسئلہ ميں فقھاء كرام كا اختلاف پايا جاتا ہے، جمہور كے ہاں كفارہ قسموں كى تعداد كے مطابق ہوگا، اور حنابلہ يہ كہتے ہيں كہ: اس پر ايك كفارہ ہى لازم آتا ہے.

ليكن اس ميں راجح مسلك جمہور علماء كا ہے؛ كيونكہ اس نے مختلف كاموں پر قسميں اٹھائيں تھيں، اس ليے ايك قسم توڑنے سے دوسرى نہيں ٹوٹتي، اور يہ ايك دوسرے ميں داخل نہيں ہونگى.

المغنى ابن قدامہ ( 9 / 406 ) بھى ديكھيں.

شيخ ابن باز رحمہ اللہ سے درج ذيل سوال دريافت كيا گيا:

ميں نوجوان ہوں اور ميں نے تين بار سے زيادہ قسم اٹھائى كہ ميں حرام كام كے ارتكاب سے توبہ كرونگا، ميرا سوال يہ ہے كہ:

كيا مجھ پر ايك كفارہ لازم آتا ہے يا كہ تين، اور كفارہ كيا ہے ؟

شيخ رحمہ اللہ كا جواب تھا:

" آپ كے ذمہ ايك ہى كفارہ ہے اور وہ يہ كہ: دس مسكينوں كو كھانا دينا، يا انہيں لباس مہيا كرنا، يا ايك غلام آزاد كرنا، اور جو يہ نہ پائے تو وہ تين روز ركھ لے، كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿ اللہ تعالى تمہارا لغو قسموں ميں مؤاخذہ نہيں كرتا، ليكن اس كا مؤاخذہ كرتا ہے جو تم نے پختہ قسم اٹھائى ہے، اس كا كفارہ يہ ہے كہ دس مسكينوں كو اوسط درجے كا كھانا ديا جائے جو تم اپنے اہل وعيال كو كھلاتے ہو، يا ان كے كپڑے دينا، يا ايك غلام آزاد كرنا، اور جو يہ نہ پائے تو وہ تين يوم كے روزے ركھے، يہ تمہارى قسموں كا كفارہ ہے جب تم قسم اٹھاؤ، اور تم اپنى قسموں كا خيال ركھو ﴾المآئدۃ ( 89 ).

اور اسى طرح كسى ايك فعل كے كرنے يا كسى ايك چيز كے كرنے پر ہر قسم چاہے اس ميں تكرار ہو تو اس ميں پہلى كا كفارہ نہ ديا گيا ہو تو ان سب ميں ايك كفارہ ہى ہوگا، ليكن اگر پہلى قسم كا كفارہ ادا كر ديا گيا ہو اور پھر دوبارہ قسم اٹھائى تو قسم توڑنے كى صورت ميں اس پر دوبارہ كفارہ ہوگا، اور اسى طرح اگر تيسرى بار اٹھائے اور دوسرى كا كفارہ ادا كر ديا ہو تو اس كے ذمہ تيسرا كفارہ ہوگا.

ليكن اگر اس نے كئى ايك افعال كرنے يا متعدد افعال ترك كرنے پر تكرار كے ساتھ قسميں اٹھائيں تو اس كے ذمہ ہر قسم كا كفارہ ہے، مثلا اگر وہ كہے:

اللہ كى قسم ميں فلاں شخص سے كلام نہيں كرونگا، اللہ كى قسم ميں كھانا نہيں كھاؤنگا، اللہ كى قسم ميں اس جگہ كا سفر نہيں كرونگا، يا يہ كہے: اللہ كى قسم ميں فلاں شخص سے ضرور كلام كرونگا، اللہ كى قسم ميں اسے ضرور مارونگا، يا اس طرح كى دوسرى كلام كرے.

مسكين كو كھانا دينے ميں واجب يہ ہے كہ ہر مسكين كو نصف صاع اپنے علاقے ميں كھايا جانے والا غلہ ديا جائے، جو تقريبا ڈيرھ كلو بنتا ہے.

اور كپڑے ميں وہ چيز دى جائيگى جو نماز كى ادائيگى ميں كفائت كرتى ہو مثلا قميص اور سلوار، يا تہہ بند، اور اگر انہيں وہ دوپہر يا رات كا كھانا كھلا دے تو اوپر بيان كردہ آيت كى عموم كے مطابق كفائت كر جائيگا.

اللہ تعالى ہى توفيق بخشنے والا ہے " انتہى.

ماخوذ از: مجموع فتاوى الشيخ ابن باز ( 23 / 145 ).

دوم:

اگر جس شخص كے بارہ ميں سوال كيا گيا ہے وہ وسوسہ كا شكار ہے اور اس نے يہ قسميں وسوسہ كى تاثير كے تحت بغير كسى قصد اور ارادہ كے اٹھائى ہيں اور اسے قسم اٹھانے كى رغبت بھى نہ تھى تو اس كے ذمہ كچھ لازم نہيں آتا.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" وسوسہ ميں شكار شخص كى طلاق واقع نہيں ہوگى چاہے وہ زبان سے الفاظ بھى ادا كر دے جب تك قصد نہ ہو، كيونكہ وسوسہ كے شكار شخص سے يہ الفاظ بغير كسى ارادہ اور قصد كے ادا ہوتے ہيں، بلكہ وسوسہ كى قوت اور قلت مانع كى وجہ سے وہ يہ الفاظ كہنے پر مجبور اور مكرہ ہوتا ہے، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" اكراہ ميں طلاق نہيں ہوتى "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 1874 ).

اس ليے اگر وہ حقيقى ارادہ اور اطمنان كے ساتھ نہ ہو تو طلاق واقع نہيں ہوگى، تو يہ چيز اس پر بغير كسى قصد اور ارادہ اور اختيار كے ٹھونسى گئى ہے تو اس سے طلاق واقع نہيں ہوگى " انتہى.

ماخوذ از: فتاوى اسلاميۃ ( 3 / 277 ).

اور جب طلاق ميں يہ مسئلہ ہے تو پھر قسم كے باب ميں بدرجہ اولى ہوگا، كيونكہ نكاح كا معاملہ تو قسم كے معاملے سے بھى زيادہ عظيم ہے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments