3871: ھدیہ اوررشوت کے مابین فرق


میں اپنے انسٹیٹیوٹ کی خریداری کی ڈیمانڈ بھیجتا ہوں ، خریداری کا فیصلہ خریداری کے سلسلے میں قائم کردہ کمیٹی کرتی ہے چيز کی کوالٹی اورقیمت بھی وہی مقرر کرتی ہے اورجس سے خریدنی ہے اس کا فیصلہ بھی کمیٹی کرتی ہے ، میرا کام صرف یہ ہے کہ ان اشیاء کی فہرست بنا کر متعلقہ کمپنی کوبھیجنا ہوتی ہے ۔
جب کوئي ڈائری یا سالانہ کیلنڈر اورکوئي قیمص وغیرہ بطور ھدیہ دیا جائے توکیا میرے لیے یہ ھدیہ قبول کرنا جائز ہے ؟
میری گزارش ہے کہ ھدیہ اوررشوت کے مابین فرق کوتفصیل سے بیان کریں ؟

الحمد للہ
ہم نے مندرجہ ذیل سوال محمد بن صالح عثیمین رحمہ اللہ تعالی کے سامنے پیش کیا :

سوال :

بعض کمپنیاں کسی دوسری متعلقہ کمپنی کے ملازمین پرانعامات تقسیم کرتی ہیں اوربعض اوقات تویہ انعامات قیمتی ہوتے مثلا گھڑی اوربعض اوقات ان کی قیمت نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے مثلا عام سا قلم یا سالانہ کیلنڈر اورڈائری یا بنیان اورقمیص وغیرہ جس پرکپمنی کی علامت ہوتی ہے توان اشیاء کے لینے کا حکم کیا ہوگا ؟

مثلا ہم فرض کرتے ہیں کہ : ایک کمپنی کسی معین چيز یعنی لکڑی وغیرہ کی مارکیٹنگ کرتی ہے ، تووہ لوگ لکڑی خریدنے والی کپمنیوں کے پاس جاتے اوران کے ملازمین میں لکڑی کمپنی کے انعامات تقسیم کرتے ہیں ، تاکہ لکڑی بیچنے والی کمپنی کی ساکھ قائم ہو اورٹھیکے لینے والی کپمنیوں کے ملازمین کے ذہنوں میں لکڑی بیچنے والی کمپنی کا خیال رہے ۔

اوریہ ھدیے اورتحفے قیمت میں بھی مختلف ہوتے ہیں توکیا ٹھیکدارکپمنیوں کے ملازمین کے لیے یہ ھدیہ جات لینے جائز ہیں ؟

شیخ رحمہ اللہ تعالی کا جواب تھا :

مجھے خدشہ ہے کہ مارکیٹ میں اس کام کی بنا پرکھیل تماشہ یا پھر انعامات لینے والوں کی جانب سے خیانت ہوگی ، میری رائے یہی ہے کہ ایسا کرنا منع ہے ۔

سوال :

کیا یہ ممکن ہے کہ یہ کہا جائے کہ جب کمپنی یہ انعامات عام لوگوں کے لیے تقسیم کرے یعنی ڈائری وغیرہ ، تویہ ممکن ہے کہ وہ حاصل کرلیں اورجب ان کے لیے خاص کریں یا پھر اس کی قیمت نہ ہونے کے برابر ہو تووہ اسے حاصل ہی نہ کریں ؟

شيخ کا کہنا ہے : ہم اسی کا فتوی دیتےہیں ، لیکن مارکیٹ میں کھیل تماشہ بننے کا خدشہ ہے ، یعنی مثلا اگر کمپنی آپ کے ساتھ معاملات کرتی ہے اوراس نے آپ بھی باقی سب لوگوں کی طرح ھدیہ دیا ہے تواس میں کوئي حرج والی بات نہیں ، کیونکہ اس میں کسی پربھی کوئي ضرر نہيں آتا ۔

لیکن جب یہ ھدیہ اورانعام اسے دیا جائے توگاہک ، خریدار تلاش کرتا پھرے اوردوسروں پرتنگی کرے تویہ منع ہے ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ .

شیخ محمد بن صالح عثیمین
Create Comments