38750: ماہوارى سے كچھ يوم قبل خشك سرخ لوتھڑا آنا


ميرا حيض كے متعلق ايك مسئلہ ہے، وہ يہ كہ پہلے تين يوم بعض اوقات چھوٹا سا سرخ ٹكڑا آتا ہے، اور بعض اوقات ہلكا سرخ اور اس كے بعد گاڑھا خون درد كے ساتھ چار يوم تك آتا ہے اور پھر دو يوم تك ہلكے سرخ رنگ كى تاريں سى آتى ہيں.
سوال يہ ہے پہلے اور آخري ايام ميں روزے اور نمازوں كا حكم كيا ہے ؟
گزارش ہے كہ ميرے سوال كا جواب ضرور ديں كيونكہ مجھے علم نہيں كہ ميرى عبادت كيسے ہے.

الحمد للہ:

آپ كو جو گاڑھا اور درد كے ساتھ چار يوم خون آتا ہے وہ تو بلا شك و شبہ حيض ہے، اور ماہوارى سے قبل سرخ اور گدلا مادہ آنے ميں كچھ تفصيل طلب ہے:

اگر تو وہ خون كے متصل ہے تو يہ حيض ميں شمار ہوگا، اس ميں روزہ ركھنا اور نماز ادا كرنا صحيح نہيں.

اور اگر خون سے منفصل ہے تو يہ حيض نہيں.

اسى طرح دو روز ہلكے سرخ رنگ كى تاريں اگر تو طہر سے قبل آتى ہيں تو يہ حيض كا حصہ ہے، اور اگر طہر كے بعد آيا ہے تو يہ كچھ نہيں اور اس كا حكم استحاضہ كا حكم ہو گا، جو روزہ اور نماز ميں مانع نہيں، ليكن ہر نماز كے وقت آپ كو وضوء كرنا ہوگا.

طہر دو ميں سے ايك علامت كے ساتھ ظاہر ہوتا ہے: سفيد اور شفاف پانى كا آنا، يا پھر جگہ بالكل خشك ہو جائے كہ اگر روئى وغيرہ ركھى جائے تو وہ بالكل صاف نكلے اور اس ميں خون يا زردى يا گدلا پن كا نشان نہ ہو.

شيخ ابن باز رحمہ اللہ تعالى سے درج ذيل سوال كيا گيا:

ماہوارى سے قبل مجھے پانچ روز تك گدلے رنگ كا پانى سا آتا ہے، اور اس كے بعد حيض كا طبعى خون آتا جو آٹھ روز تك رہتا ہے، ميں پہلے پانچ روز نماز پڑھتى ہوں، ليكن ميرا سوال يہ ہے كہ: كيا مجھ پر ان پانچ ايام كے روزے اور نمازيں فرض ہيں يا نہيں ؟ مجھے معلومات فراہم كريں اللہ تعالى آپ كو جزائے خير عطا فرمائے.

شيخ رحمہ اللہ تعالى كا جواب تھا:

اگر تو پہلے پانچ روز گدلا پانى خون سے عليحدہ اور منفصل ہوتا ہے تو يہ حيض نہيں، آپ ان ايام ميں نمازيں بھى ادا كريں گى اور روزے بھى ركھيں اور ہر نماز كے ليے وضوء كرنا ہوگا؛ كيونكہ يہ پيشاب كے حكم ميں ہے، نہ كہ حيض كا حكم، يہ نماز اور روزہ ميں مانع نہيں، ليكن استحاضہ كے خون كى طرح ہر نماز كے ليے وضوء واجب ہے حتى كہ يہ ختم ہو جائے.

ليكن اگر يہ پانچ يوم حيض كے خون كے ساتھ متصل ہوں تو يہ حيض ميں شمار ہوگا، اور آپ اس ميں نماز اور روزہ ترك كرينگى.

اور اسى طرح اگر حيض سے طہر كے بعد يہ گدلا يا زرد پانى آئے تو يہ حيض شمار نہيں ہوگا، بلكہ اس كا حكم استحاضہ كا حكم ہے، آپ كو ہر نماز كے وقت استنجاء كر كے وضوء كر كے نماز ادا كرنا ہوگى، اور روزہ بھى ركھنا ہوگا، اور يہ حيض شمار نہيں كيا جائيگا، اور آپ خاوند كے ليے بھى حلال ہونگى.

كيونكہ ام عطيہ رضى اللہ تعالى عنہا كا قول ہے:

" ہم طہر كے بعد گدلا اور زرد پانى كچھ بھى شمار نہيں كرتى تھيں "

اسے امام بخارى نے صحيح بخارى ميں روايت كيا ہے، اور ابو داود نے سنن ابو داود ميں، اور يہ الفاظ ابو داود كے ہيں. انتہى.

ماخوذ از: مجموع فتاوى ابن باز ( 10 / 107 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments