38890: كيا اپنى جگہ پر واپس جانے كے ليے لوگوں كى گردنيں پھلانگنى جائز ہيں ؟


بعض بھائى نماز تراويح كے ليے نماز مغرب كے كچھ دير بعد ہى آجاتے ہيں تا كہ پہلى صف ميں بيٹھيں، پھر وہ پيچھے جانا چاہتا ہو اور بعض اوقات وضوء كے ليے نكلنا چاہے تو كيا وہ دوبارہ اپنى جگہ پر واپس آ سكتا ہے ؟
كيا يہ گردن پھلانگنے كے حكم ميں تو نہيں آتا، گزارش ہے كہ گردن پھلانگنے كى تفصيل بيان كر ديں ؟

الحمد للہ:

اول:

اگر كوئى شخص مسجد ميں بيٹھے اور پھر كسى ضرورت كى بنا پر وہاں سے اٹھے، مثلا وضوء وغيرہ كے ليے اور پھر وہ واپس اسى جگہ آئے تو وہ اس جگہ كا زيادہ حقدار ہے، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جو شخص اپنى جگہ سے اٹھا پھر واپس آيا تو وہ اس كا زيادہ حقدار ہے"

صحيح مسلم حديث نمبر ( 2179 ).

اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" مرد اپنى جگہ كا زيادہ حقدار ہے، اور اگر وہ اپنى ضرورت كے ليے وہاں سے گيا اور پھر واپس آيا تو اپنى بيٹھنے والى جگہ كا زيادہ حقدار ہے "

سنن ترمذى حديث نمبر ( 2751 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح الجامع حديث نمبر ( 3544 ) ميں اسے صحيح كہا ہے.

اس كا بيان سوال نمبر ( 66279 ) كے جواب ميں ہو چكا ہے.

اگر كوئى اس كى جگہ بيٹھ گيا ہو تو واپس آنے كى صورت ميں اسے اٹھنا چاہيے.

امام نووى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" ہمارے اصحاب كے ہاں يہى صحيح ہے، اور اس كے جانے كى صورت ميں وہاں جو شخص بيٹھے تو پہلے شخص كى واپس آنے كى صورت ميں اسے وہاں سے اٹھنا ہو گا.

اور بعض علماء كرام كا كہنا ہے: يہ مستحب ہے، واجب نہيں، جو كہ امام مالك كا مسلك ہے، ليكن صحيح پہلا قول ہے" انتہى.

شرح النووى على صحيح مسلم ( 14 / 162 ).

يہ تو اس وقت ہے جب اس نے اپنى جگہ كسى عذر كى بنا پر چھوڑى اور پھر واپس آ گيا، ليكن اگر اس نے بغير كسى عذر كے چھوڑى تو بغير كسى اختلاف كے اس كا حق ختم ہو جائيگا "

امام نووى رحمہ اللہ تعالى نے المجموع ( 4 / 420 ) ميں ذكر كيا ہے.

دوم:

اگر اسے واپس اپنى جگہ جانے كے ليے گردنيں پھلانگنى پڑيں تو اس ميں دو مسئلے ہيں:

گردنيں پھلانگنا، اور پہلى صف ميں خالى جگہ ميں جانے كے ليے گردن پھلانگنا.

علماء كرام نے گردنيں پھلانگنے ميں دو قول بيان كيے ہيں:

علماء كرام كى ايك جماعت نے اسے ناپسند كيا ہے، اور كچھ دوسروں نے اسے حرام قرار ديا ہے.

سوال نمبر ( 41731 ) كے جواب ميں اس كا بيان ہو چكا ہے، صحيح قول يہى ہے كہ ايسا كرنا حرام ہے.

يہ پہلا مسئلہ تھا اور دوسرا مسئلہ پہلى صف ميں خالى جگہ تك جانے كے ليے گردنيں پھلانگى جائيں.

ابن قدامہ رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" اگر كوئى شخص كسى جگہ بيٹھے اور پھر اسے كوئى ضرورت پيش آ جائے، يا اسے وضوء كرنے كى ضرورت ہو، تو اسے وہاں سے جانے كا حق ہے ( يعنى اگر وہاں سے نكلنے ميں لوگوں كى گردنيں پھلانگنا پڑيں )

عقبہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ ميں نے مدينہ ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پيچھے عصر كى نماز ادا كى، جب كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے نماز سے سلام پھيرا تو جلدى سے اٹھ كر لوگوں كى گردنيں پھلانگتے ہوئے ازواج مطہرات كے حجروں كى طرف چلے گئے اور فرمايا:

" مجھے ياد آيا كہ ہمارے گھر ميں سونے كا ايك ٹكڑا پڑا ہے تو ميں نے ناپسند كيا كہ كہيں وہ پڑا ہى نہ رہے، تو ميں نے اسے تقسيم كرنے كا حكم ديا ہے "

صحيح بخارى.

اگر وہ شخص اپنى جگہ سے اٹھے اور پھر واپس آئے تو وہ شخص اس كا زيادہ حقدار ہے، تو اس كا حكم خالى جگہ تك پہنچنے كے ليے گردنيں پھلانگنے والے كا ہو گا. انتہى مختصرا.

ديكھيں: المغنى ابن قدامہ ( 2 / 101 ).

ابن قدامہ رحمہ اللہ كا يہ بھى كہنا ہے:

اگر خالى جگہ ديكھے اور وہاں تك پہنچنے كے ليے گردنيں پھلانگنى پڑيں تو اس ميں دو روايتيں ہيں:

پہلى روايت: گردن پھلانگ سكتا ہے، امام احمد رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں: حسب استطاعت آدمى آگے داخل ہو اور اپنے سامنے كوئى خالى جگہ نہ چھوڑے، اور اگر جہالت كى بنا پر وہ اپنے آگے خالى جگہ چھوڑ دے تو اس كے بعد آنے والا شخص لوگوں كو پھلانگتا ہوا آگے جائےاور خالى جگہ ميں بيٹھے كيونكہ خالى جگہ چھوڑ كر كہيں اور بيٹھنے والے شخص كى كوئى حرمت نہيں.

اوزاعى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں: خالى جگہ تك پھلانگ كر جائے، اور قتادہ كہتے ہيں: وہ انہيں پھلانگ كر نماز والى جگہ تك جائے، اور حسن كہتے ہيں: جو لوگ مسجد ميں دروازوں ميں ہى بيٹھ جاتے ہيں انہيں پھلانگ كر جاؤ كيونكہ انہيں كوئى حرمت حاصل نہيں.

امام احمد سےايك اور روايت ہے: اگر ايك يا دو شخص كو پھلانگے تو اس ميں كوئى حرج نہيں، كيونكہ يہ آسان ہے اس ليے اسے درگزر كر ديا گيا اور اگر زيادہ ہوں تو ہم ناپسند كرتے ہيں.

اور امام شافعى رحمہ اللہ تعالى نے بھى ايسا ہى كہا ہے، ليكن اگر وہ اپنى نماز والى جگہ تك جانے كے ليے پھلانگے بغير نہيں جا سكتا تو وہ پھلانگ كر جائے تو ان شاء اللہ اس ميں وسعت ہے.

شائد امام احمد اور پہلى روايت ميں ان كى موافقت كرنے والوں كا قول اس ميں ہے كہ اگر انہوں نے خلى جگہ چھوڑ دى مثلا وہ لوگ جو مسجد كے آخر ميں صف بنا ليتے ہيں اور اپنے سے پہلى صفيں خالى رہنے ديتے ہيں، تو ايسے لوگوں كے ليے كوئى حرمت نہيں، جيسا كہ حسن رحمہ اللہ كا قول ہے؛ كيونكہ انہوں نے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے حكم كى نافرمانى كى اور فضيلت اور بہترين صف ميں بيٹھنے بے رغبتى برتى اور برى صفوں ميں بيٹھ گئے، اور اس ليے بھى كہ انہيں پھلانگنا ضرورى ہے.

اور ان كا دوسرا قول ان كے بارہ ميں جنہوں نے كوتاہى نہيں اور اپنى جگہوں ميں بيٹھے كيونكہ ان كے آگے والى جگہ بھرى ہوئى تھى، ليكن بھر بھى وہاں بيٹھنے كے ليے وسعت تھى، اور جب ايسا ہو كہ وہاں جا كر نماز ادا كرنے كے ليے انہيں پھلانگنا پڑے تو يہ جائز ہے؛ كيونكہ يہ ضرورت ہے " انتہى

اور امام نووى رحمہ اللہ تعالى " المجموع " ميں رقمطراز ہيں:

" اگر انہوں نے اپنے آگے خالى جگہ ديكھى اور وہاں تك پھلانگے بغير نہيں پہنچا جا سكتا تو اس ميں ہمارے اصحاب كا كہنا ہے كہ:

پھلانگنا مكروہ نہيں؛ كيونكہ خالى جگہ چھوڑ كر پيچھے بيٹھنے والوں نے غلطى اور كوتاہى كى ہے، چاہے اس كے علاوہ اسے جگہ ملے يا نہ ملے، يا قريب ہو يا دور، ليكن اگر كوئى اور جگہ ہو تو نہ پھلانگنا مستحب ہے، ليكن اگر كوئى اور جگہ نہ ہو اور قريب بھى ہو كہ وہاں تك پہنچنے كے ليے دو سے زيادہ لوگوں كو پھلانگنا نہ پڑے تو وہ وہاں چلا جائے.

اور اگر دور ہو اسے اميد ہو كہ نماز شروع ہونے كى حالت ميں لوگ آگے بڑھ جائينگے تو اس كے وہيں بيٹھ جانا مستحب ہے، اور وہ لوگوں كو مت پھلانگے، وگرنہ پھلانگ لے.

پھر انہوں نے قتادہ كا قول نقل كيا ہے كہ: وہ اپنى جگہ تك جانے كے ليے پھلانگ كر جائے، اور ابو نصر ان كى اجازت سے اس كو جائز كہا ہے، ابن منذر كہتے ہيں: ميرے نزديك اس ميں كچھ بھى جائز نہيں، كيونكہ تھوڑى اور زيادہ اذيت دينا حرام ہے " انتہى مختصرا

ديكھيں: المجموع للنووى ( 4 / 420 ).

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالى نے فتح البارى ميں امام شافعى رحمہ اللہ تعالى سے نقل كيا ہے كہ:

" ميں پھلانگنا ناپسند كرتا ہوں، ليكن جو شخص اس كے بغير نماز والى جگہ تك نہ جا سكے وہ كر لے " اھـ

پھر حافظ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اور اس ميں امام اور وہ شخص شامل ہے جو صف ميں خالى جگہ تك پہنچنا چاہے، اگر پہلے آنے والا شخص وہاں بيٹھنے سے انكار كرے، اور جو شخص اپنى جگہ سے كسى ضرورت كى بنا پر اٹھا اور پھر واپس جانا چاہے وہ بھى اس ميں شامل ہے " انتہى.

ديكھيں: فتح البارى ( 2 / 433 ).

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" اگر كوئى قائل يہ كہے: يہ حديث: " بيٹھ جاؤ يقينا تم نے اذيت دى ہے" عام ہے، كيونكہ ظاہر يہ ہوتا ہے كہ وہاں خالى جگہ تھى؛ اس ليے كہ انسان عادتا خالى جگہ تك پہنچنے كے ليے ہى پھلانگتا ہے.

ليكن فقھاء رحمہم اللہ نے اس مسئلہ كو استثناء كرتے ہوئے كہا ہے كہ: كيونكہ وہاں خالى جگہ تھى تو انہوں نے خود اپنے آپ پر ظلم كيا؛ كيونكہ انہيں تو پہلى صف پہلے مكمل كرنے كا حكم ہے، جب وہاں خالى جگہ ہو تو انہوں نے حكم كى مخالفت كى اور اس طرح كوتاہى ان كى جانب سے ہے، نہ كہ پھلانگنے والے كى جانب سے.

ليكن ميرے خيال ميں اگر جگہ خالى بھى ہو تو مت پھلانگے؛ كيونكہ اذيت كى علت موجود ہے، اور يہ كہ وہ آگے كيوں نہيں گئے اس كا كوئى سبب ہو سكتا ہے، مثلا: ابتدا ميں وہاں خالى جگہ زيادہ نہ ہو، ليكن بعد ميں ايك دوسرے كے ساتھ ملتے ہوئے وسعت پيدا ہو گئى ہو، تو اس صورت ميں ان كى كوئى كوتاہى نہيں، لہذا عموم پر عمل كرنا زيادہ بہتر ہے كہ خالى جگہ كے ليے بھى نہ پھلانگا جائے، ليكن اگر وہ نرمى كے ساتھ اور اجازت حاصل كر كے پھلانگے تو مجھے اميد ہے كہ ايسا كرنے ميں كوئى حرج نہيں " انتہى

ديكھيں: الشرح الممتع ( 5 / 70 ).

حاصل يہ ہوا كہ لوگوں كو پھلانگنا دو حالتوں سے خالى نہيں:

پہلى حالت:

يہ بغير كسى عذر كے كيا جائے، تو اس حالت ميں يہ حرام ہے، كيونكہ اللہ تعالى كا فرمان ہے:

﴿اور وہ لوگ جو مومن مرد و عورتوں كو بغير كسى جرم كے سرزد ہوئے اذيت ديں وہ بڑے ہى بہتان اور صريح گناہ كا بوجھ اٹھاتے ہيں ﴾الاحزاب ( 58 ).

اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے لوگوں كى گردن پھلانگنے والے شخص كو فرمايا:

" بيٹھ جاؤ تو نے اذيت سے دوچار كيا ہے "

دوسرى حالت:

كسى عذر كى بنا پر ہو تو ان شاء اللہ اس ميں كوئى حرج نہيں، اور اس ميں كئى ايك صورتيں شامل ہيں:

ايك صورت تو يہ ہے كہ: امام اپنى جگہ تك بغير پھلانگے پہنچ ہى نہ سكے.

ايك صورت يہ ہے: كسى ضرورت كى بنا پر اپنى جگہ سے نكلنا چاہے اس كى دليل عقبہ رضى اللہ تعالى عنہ كى مندرجہ بالا حديث ہے.

ايك صورت يہ ہے: اگر وہ اگلى صفوں ميں بيٹھا ہوا تھا كہ كسى ضرورت كى بنا پر اٹھ كر گيا اور واپس اپنى جگہ پر جانا چاہے تو اس كے پھلانگنا جائز ہے.

جواب كا خلاصہ يہ ہوا كہ:

جہاں سے اٹھ كر گيا تھا ان شاء اللہ اس جگہ پر جانے والے كے ليے لوگوں كو پھلانگنے ميں كوئى حرج نہيں، ليكن شرط يہ ہے كہ اس ميں نرمى اختيار كرے اور لوگوں سے اجازت حاصل كرے، اور اپنى جگہ تك پہنچنے والے شخص كو اجازت دينے كى عادت ہے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments