39191: اگر قربانى كا جانور متعين كر دينے كے بعد عيب دار ہو جائے ؟


ميں نے قربانى كا جانور خريدا اور جب ذبح كرنے لگے تو وہ چھلانگ لگا كر چھت سے نيچے كود گيا تو ہم نے اسے مرنے سے قبل ہى جا كر ذبح كر ديا، تو كيا اس طرح قربانى ادا ہو گئى يا نہيں ؟

الحمد للہ:

اول:

جب انسان قربانى كا جانور متعين كر دے اور پھر اس ميں بغير كوتاہى كيے خود بخود ہى كوئى عيب پيدا ہو جائے اور قربانى كے وقت اسے ذبح كر ديا جائے تو اس كى قربانى ادا ہو جاتى ہے.

ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" جب قربانى ہر قسم كے عيوب سے سليم حاصل كر لى جائے اور پھر اس ميں كوئى عيب پيدا ہو جائے جو اس كے مانع عيوب ميں شامل ہوتا ہو تو وہ اسے ذبح كرے تو اس كى قربانى ہو جائيگى، عطاء، حسن، نخعى، زھرى، ثورى، مالك، شافعى، اسحاق رحمہم اللہ سے يہى مروى ہے" انتہى.

ديكھيں: المغنى ابن قدامہ ( 13 / 373 ).

اس كى دليل بيھقى كى درج ذيل حديث ہے:

ابن زبير رضى اللہ تعالى عنہما كى قربانيوں ميں ايك كانى اونٹنى آئى تو انہوں نے فرمايا:

" اگر تو اسے يہ عيب تمہارے خريدنے كے بعد پيدا ہوا ہے تو پھر اسے قربانى كے جانوروں ميں ہى رہنے دو، اور اگر خريدنے سے قبل تھا تو اس كو تبديل كر دو "

امام نووى رحمہ اللہ نے المجموع ( 8 / 328 ) ميں اس كى سند كو صحيح كہا ہے.

اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ " احكا الاضحيۃ " ميں قربانى كا جانور متعين كرنے كے بعد اس پر مرتب ہونے والے احكام كا ذكر كرتے ہوئے لكھتے ہيں:

" جب اس ميں كوئى ايسا عيب پيدا ہو جائے جو قربانى كرنے ميں مانع ہو تواس كى دو حالتيں ہيں:

پہلى حالت:

يہ عيب اس كے فعل يا پھر كوتاہى كى بنا پر پيدا ہوا ہو تو اس صورت ميں اس جانور كو تبديل كرنا واجب ہے، اور مكمل اسى طرح كى صفات كا حامل جانور حاصل كرنا ضرورى ہے يا اس سے بہتر؛ كيونكہ وہ عيب اس كى وجہ سے پيدا ہوا ہے اس ليے اسے اس كے بدلے اسى طرح كا جانور ذبح كر كے نقصان پورا كرنا ہوگا، اور صحيح قول كے مطابق وہ عيب دار جانور اس كى ملكيت ہو گا وہ اسميں جو چاہے تصرف كر سكتا ہے چاہے اسے فروخت كرے يا نہ كرے.

دوسرى حالت:

اس ميں عيب اس كى وجہ سے پيدا نہ ہوا ہے اور نہ ہى اس كى كوتاہى كى بنا پر ہو تو وہ اسے ذبح كردے تو قربانى ہو جائيگى، كيونكہ وہ اس كے پاس امانت تھى اور اس ميں اس كى كوتاہى كے بغير ہى عيب پيدا ہوا ہے تو اس ميں كوئى حرج اور ضمان نہيں ہوگى " انتہى.

دوم:

قربانى كے جانور كى تعيين كيسے ہو گى ؟

قول كے ساتھ ہى قربانى كے جانور كى تعيين ہو جائيگى مثلا كوئى شخص كہے كہ يہ قربانى كا جانور ہے.

اور قربانى كى نيت سے جانور خريدنے كے متعلق بعض علماء كہتے ہيں كہ اس طرح بھى تعيين ہو جاتى ہے، ان ميں امام ابو حنيفہ اور امام مالك شامل ہيں، اور امام شافعى كہتے ہيں كہ اس طرح تعيين نہيں ہو گى.

اور مستقل فتوى كميٹى كے علماء كرام كا كہنا ہے كہ قربانى كرنے كى نيت سے جانور خريدنا بھى تعيين ہے.

كميٹى كے فتاوى جات ميں ہے:

" قربانى كرنے كى نيت سے جانور خريدنے يا پھر اس كى تعيين كرنے سے بھى قربانى كى تعيين ہو جاتى ہے " انتہى.

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 11 / 402 ).

اور شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كا كہنا ہے:

" اور جب قربانى كا جانور خريدے اور ذبح كرنے سے قبل اس ميں كوئى عيب پيدا ہو جائے تو علماء كرام كے ايك قول كے مطابق وہ اسے ذبح كر لے " انتہى.

ديكھيں: مجموع الفتاوى ( 26 / 304 ).

تو اس بنا پر جب آپ نے قربانى كا جانور قربانى كرنے كى نيت سے خريدا اور آپ كى كسى كمى و كوتاہى كے بغير عيب دار ہو گيا تو اس كى قربانى ہو جائيگى، ان شاء اللہ.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments