Wed 16 Jm2 1435 - 16 April 2014
39234

روزے كے فديہ ميں غلہ كى بجائے قيمت ادا كرنى جائز نہيں

ايك بوڑھا بيمارى آدمى روزہ نہيں ركھ سكتا، كيا اس كى جانب سے غلہ كى بجائے غلہ كى قيمت ادا كرنا جائز ہے ؟

الحمد للہ:

" ہمارے ليے ايك اہم اور ضرورى قاعدہ معلوم كرنا واجب ہے وہ يہ كہ اللہ تعالى نے جو بھى اطعام يا طعام يعنى غلہ دينے كے الفاظ ذكر كيے ہيں اس ميں ضرورى ہے كہ وہ غلہ ہى ہو.

اللہ سبحانہ وتعالى نے روزوں كے متعلق فرمايا ہے:

﴿ اور ان لوگوں پر جو اس كى طاقت نہيں ركھتے ان كے ذمہ ايك مسكين كا كھانا ہے، اور جو كوئى تطوع اختيار كرے تو وہ اس كے ليے بہتر ہے، او تمہارے ليے روزہ ركھنا بہتر ہے، اگر تمہيں علم ہو﴾.

اور قسم كے كفارہ ميں فرمان ربانى ہے:

﴿ چنانچہ اس كا كفارہ يہ ہے كہ دس آدميوں كو درميانے درجہ كا كھانا ديا جائے، جو تم اپنے اہل و عيال كو كھلاتے ہو، يا انہيں لباس ديا جائے، يا ايك غلام آزاد كيا جائے، اور جو كوئى يہ نہ پائے تو وہ تين يوم كے روزے ركھے، جب تم قسم اٹھاؤ تو تمہارى قسموں كا كفارہ يہى ہے، اور اپنى قسموں كى حفاظت كرو، اسى طرح اللہ تعالى تمہارے ليے اپنى آيات بيان كرتا ہے تا كہ تم شكر ادا كرو ﴾.

اور فطرانہ كے متعلق نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ہر شخص پر ايك صاع غلہ مقرر كيا ہے.

چنانچہ جن نصوص ميں غلہ يا كھانا بيان ہوا ہے وہاں اس كى جگہ قيمت كى ادائيگى كافى نہيں ہوگى.

اس بنا پر بوڑھا شخص جس كے ذمہ روزہ ركھنے كے بدلے غلہ اور كھانا كھلانا ہے اس كے بدلے ميں غلہ يا كھانا كى قيمت ادا كرنا كفائت نہيں كريگى چاہے وہ دس بار بھى قيمت ادا كر دے، پھر بھى ادائيگى نہ ہوگى؛ اس ليے كہ اس نے نص كے حكم سے حكم عدولى كى ہے.

اسى طرح فطرانہ بھى اگر قيمت كى صورت ميں ادا كيا جائے تو چاہے دس بار قيمت ادا كى جائے تو گندم وغيرہ كے صاع كى ادائيگى نہ ہوگى؛ كيونكہ نص ميں قيمت بيان نہيں ہوئى.

اور پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جس نے بھى كوئى ايسا عمل كيا جس پر ہمارا حكم نہيں تو وہ كام مردود ہے "

اس بنا پر ہم بڑھاپے كى بنا پر روزہ ركھنے كى استطاعت نہ ركھنے والے بھائى سے گزارش كرينگے كہ وہ ہر يوم كے بدلے ايك مسكين كو كھانا كھلائے اور اس ميں آپ كے ليے دو طريقے ہيں:

پہلا طريقہ:

يہ كھانا آپ ان كے گھروں ميں جا كر تقسيم كرديں، اور ہر ايك شخص كو ايك صاع كا چوتھا حصہ اور اس كے ساتھ سالن كے ليے بھى كوئى چيز ديں.

دوسرا طريقہ:

آپ خود كھانا تيار كروائيں اور مسكينوں كو دعوت دے كر انہيں كھانا كھلا ديں، يعنى جب دس روز گزر جائيں تو آپ ان كے ليے رات كا كھانا تيار كريں اور دس فقراء اور مسكين افراد كو بلا كر انہيں كھانا كھلا ديں.

اور اسى طرح دوسرے باقى دس دس يوم كے بھى دو بار كھلائيں، انس بن مالك رضى اللہ تعالى عنہ بھى جب بوڑھے ہوگئے اور روزہ نہ ركھ سكتے تھے تو وہ بھى رمضان المبارك كے آخرى روز تيس مسكينوں كو بلا كر انہيں كھانا كھلاتے تھے" انتہى.

ديكھيں: مجموع فتاوى ابن عثيمين ( 19 / 116 ).
Create Comments