39349: تبلیغی جماعت کیساتھ بیٹھنا اور انکے ساتھ تبلیغ کیلئے جانا


سوال: تبلیغی جماعت کیساتھ صرف حصولِ علم اور ذکر کیلئے بیٹھنا کیسا ہے؟

الحمد للہ:

تبلیغی جماعت  دین اسلام کی  نشر  و اشاعت  کیلئے جد و جہد کرنے والی  ایک جماعت ہے،  منحرف و گناہگاروں کو  دعوت دینے کے متعلق ان لوگوں  کی قابل ستائش  سرگرمیاں ہیں، اس کے ساتھ ساتھ یہ لوگ وقت و مال دونوں چیزیں صرف کرنے  سمیت  سفر کی مشقتیں بھی برداشت کرتے ہیں، اور  بستی بستی ، گاؤں گاؤں  چکر بھی لگاتے ہیں۔

اس جماعت کے بانی حضرات اور بڑے مشائخ  کے کچھ غلط نظریات و افکار کو مد نظر رکھ کر  متعدد اہل علم نے  یہ فتوی صادر کیا ہے کہ اہل علم لوگوں کاتبلیغ سے منسلک افراد  کو سکھانے اور دعوت دینے  کی غرض سے  ان کے ساتھ نکلنا درست ہے۔

شیخ ابن باز رحمہ اللہ سے درج ذیل سوال پوچھا گیا:
"میں  پاک و ہند کی تبلیغی جماعت کیساتھ  دعوت کیلئے گیا، ہم سب اکٹھے ہو کر ایسی مساجد میں نمازیں پڑھتے تھے جہاں  قبریں بھی  ہوتی تھیں، اور میں نے یہ سنا ہے کہ جس مسجد میں  قبر  ہو وہاں نماز ادا کرنا باطل ہے، تو میری  ان نمازوں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، کیا میں ان نمازوں کو دہراؤں؟ اور اسی طرح تبلیغی جماعت کیساتھ ایسی جگہوں پر جانے کا کیا حکم ہے؟"

تو انہوں نے جواب دیا:
"تبلیغی جماعت کے پاس عقیدے کے مسائل میں بصیرت نہیں ہے، چنانچہ ان کے ساتھ وہی جائےجس کے پاس اہل سنت والجماعت کے صحیح عقیدے کے متعلق علم و بصیرت ہے،  تا کہ ایسا شخص تبلیغی جماعت والوں کی رہنمائی کرے، بوقت ضرورت ان کی اصلاح بھی کرے، اور بھلائی کے کاموں میں ان کا ہاتھ بھی بٹائے؛  [ان کے ساتھ مشروط طور پر دعوتی کام کی اجازت دینے کیلئے سبب یہ ہے کہ] وہ اپنے کاموں میں خوب سرگرم ہیں، تاہم انہیں مزید علم کی ضرورت ہے، انہیں ایسے علمائے توحید و سنت کی ضرورت ہے جو انہیں عقیدے کے بارے میں بصیرت مہیا کریں، اللہ تعالی سب لوگوں کو دین  کی سمجھ، اور دین پر استقامت نصیب فرمائے۔۔۔"
"مجموع فتاوی ابن باز "(8/331)

چنانچہ اگر آپ کے پاس موجود تبلیغی جماعت سے منسلک لوگ صحیح عقیدہ رکھتے ہوں، اور اہل علم بھی ہوں تو آپ ان کے ساتھ تعاون کر سکتے ہیں، اس میں کوئی حرج والی بات نہیں ہے، آپ انکی محفلوں میں بھی جا سکتے ہیں۔

شیخ ابن باز رحمہ اللہ  سے یہ بھی پوچھا گیا:
"ہم  ایک بستی کے رہائشی ہیں، ہم میں سے کچھ لوگ  تو گھروں میں رہتے ہیں، اور کچھ لوگ جانور چرانےکیلئے باہر  چلے جاتے ہیں، ہمارے پاس دعوتی مقاصد کیلئے ایک جماعت آتی ہے، ہم ان میں سے کچھ لوگوں کو تو شخصی طور پر جانتے ہیں،  اور  ان کی نیت پر بھی ہمیں کوئی شک نہیں ہے، تاہم وہ  سب اہل علم نہیں ہوتے، چند ایک  اہل علم بھی ان کے ساتھ  ہوتے ہیں،  یہ لوگ ہمیں آس پاس کی دیگر بستیوں کی طرف دعوت دینے  کیلئے ترغیب دلاتے ہیں، اور اس کیلئے دنوں ،  ہفتوں، اور مہینوں  کی قید بھی لگاتے ہیں، ہم نے یہ بات نوٹ کی ہے کہ ہمارے پاس قائم کردہ دعوتی حلقوں میں  کسی قسم  کا کوئی شبہ نہیں ہے، تو کیا ان کی بات سننی چاہیے؟ یا آس پاس کی بستیوں سمیت  بیرون  ملک  دعوت کیلئے جانا چاہیے؟"

 تو انہوں نے جواب دیا:
"اگر سوال میں مذکور افراد  صحیح عقیدہ ، علم و فضل ، اور نیک چال چلن   کے ساتھ معروف ہوں تو  ان کے ساتھ دعوت الی اللہ  ، اور تعلیم و تعلّم کیلئے تعاون میں کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
( وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى )
ترجمہ: نیکی اور تقوی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔[المائدہ: 2]

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:(جو شخص  کسی بھی نیکی کیلئے رہنمائی کرے تو اسے بھی کرنے والے کے برابر ثواب ملے گا)  اللہ تعالی سب لوگوں کو اچھے کاموں کی توفیق دے"
"مجموع فتاوی ابن باز" (9/307)

واللہ اعلم.

اسلام سوال و جواب
Create Comments