Mon 21 Jm2 1435 - 21 April 2014
39494

پيشاب كى بيمارى ميں مبتلا شخص كى طہارت اور نماز

مجھے پيشاب كے قطرے آتے رہتے ہيں، ميں نے نماز كے متعلق دريافت كيا تو مجھے كہا گيا: ہر نماز كا وقت شروع ہونے پر وضوء كرو اور جتنى نماز چاہو ادا كر لو، اور جب دوسرى نماز كا وقت شروع ہو تو نيا وضوء كرو، ميرا سوال يہ ہے كہ:
كيا ميں نماز كا وقت شروع ہونے سے قبل وضوء كر سكتى ہوں، مثلا مسجد ميں نماز باجماعت ادا كرنے كے ليے، اور جب ميں گھر سے باہر ہوں تو كيا ميرے ليے حاضر نمازيں ايك ہى وضوء كے ساتھ ادا كرنا جائز ہيں ؟
اور اگر جائز نہيں تو مجھے زير جامہ لباس پاك كرنے، اور وضوء كر كے نماز ادا كرنے كے ليے كيا كرنا ہو گا، اور كيا ميرے ليے لمبى نمازيں مثلا نماز عشاء اور پھر نماز تراويح ايك ہى وضوء كے ساتھ ادا كرنى جائز ہے، جزاكم اللہ خيرا ؟

الحمد للہ:

1 - جس كا وضوء قائم نہ رہتا ہو، مثلا مسلسل پيشاب يا ہوا خارج ہونے كى بيمارى ميں مبتلا شخص، وہ ہر نماز كے ليے وضء كرے اور اس وضوء كے ساتھ دوسرى نماز كا وقت شروع ہونے تك جتنے فرض اور نفل ادا كرنا چاہے ادا كر سكتا ہے.

اس كى دليل صحيحين ميں عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا كى درج ذيل حديث ہے:

عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ فاطمہ بنت ابى حبيش نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس آئى اور كہنے لگى:

" اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم مجھے استحاضہ كى بيمارى ہے، اور ميں پاك نہيں ہوتى كيا ميں نماز چھوڑ دوں ؟

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" نہيں، بلكہ يہ تو ايك رگ ہے حيض نہيں، چنانچہ جب تجھے حيض آئے تو نماز چھوڑ دو، اور جب حيض ختم ہو جائے تو اپنا خون دھو كر نماز ادا كرو، اور پھر ہر نماز كے ليے وضوء كرو حتى كہ دوسرى نماز كا وقت ہو جائے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 226 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 333 ) يہ الفاظ صحيح بخارى كے ہيں.

اہل علم كے ہاں پيشاب كى بيمارى ميں مبتلا شخص بھى استحاضہ كے ساتھ ہى ملحق ہو گا.

ليكن اگر اسے يہ علم ہو كہ پيشاب اتنا وقت رك جاتا ہے جس ميں وضوء اور نماز ادا ہو سكتى ہے تو پھر اس كے ليے اس وقت تك نماز ميں تاخير كرنا لازم ہے.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

مسلسل پيشاب كى بيمارى ميں مبتلا شخص كى دو حالتيں ہيں:

پہلى حالت:

اگر تو پيشاب مسلسل آتا ہے اور كسى بھى وقت نہيں ركتا، جب بھى مثانہ بھى كوئى چيز جمع ہو وہ باہر نكل آئے تو ايسا شخص وقت شروع ہونے پر وضوء كرے، اور اپنى شرمگاہ پر كوئى چيز باندھ كر نماز ادا كر لے وضوء كے بعد خارج ہونے ميں كوئى نقصان نہيں.

دوسرى حالت:

اگر پيشاب كرنے كے بعد كچھ وقفہ ہوتا ہے، چاہے دس پندرہ منٹ بعد ہى تو ايسا شخص پيشاب ركنے كا انتظار كرے، اور ركنے پر وضوء كر كے نماز ادا كر لے، چاہے اس كى نماز باجماعت رہ بھى جائے "

ديكھيں: اسئلۃ الباب المفتوح سوال نمبر ( 17 ) لقاء نمبر ( 67 ).

استحاضہ وغيرہ والى عورت كى طہارت كے متعلق اہل علم كا اختلاف ہے كہ آيا وقت ختم ہونے پر طہارت ختم ہوتى ہے يا دوسرا وقت شروع ہونے پر، اس كى مثال يہ ہے كہ:

اگر كسى عورت نے فجر كى نماز كے ليے وضوء كيا، تو كيا وہ اسى وضوء كے ساتھ چاشت يا عيدين كى نماز ادا كر سكتى ہے ؟

وقت ختم ہونے پر طہارت باطل ہونے كے قول كے مطابق وہ ايسا نہيں كر سكتى، كيونكہ سورج طلوع ہونے پر اس كى طہارت كا وقت ختم ہو جائيگا.

اور جو دوسرا وقت شروع ہونے پر طہارت كو باطل قرار ديتے ہيں، وہ اسى وضوء كے ساتھ چاشت اور عيدين كى نماز ادا كرنے كى اجازت ديتے ہيں كيونكہ ظہر كا وقت شروع ہونے تك اس كى طہارت باقى ہے.

يہ دونوں قول امام احمد وغيرہ كے مسلك ميں ہيں.

ديكھيں: الانصاف ( 1 / 378 ) اور الموسوعۃ الفقھيۃ ( 3 / 212 ).

اور احتياط اسى ميں ہے كہ وہ چاشت اور عيدين كى نماز كے ليے نيا وضوء كرے، شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى كا فتوى يہى ہے.

آپ سوال نمبر ( 22843 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

2 - مندرجہ بالا بيان كى بنا پر آپ كے ليے قوت شروع ہونے سے قبل وضوء كرنا جائز نہيں تا كہ آپ اس كے بعد والى نماز ادا كر سكيں، چاہے يہ نماز باجماعت كے حصول كے ليے ہو، يا كسى اور كے ليے، كيونكہ نيا وقت شروع ہونے پر وضوء ختم ہو جائيگا.

ليكن يہاں ہم يہ تنبيہ كرنا چاہتے ہيں كہ: يہ حكم ايسے شخص كے ساتھ معلق ہے جس كا وضوء قائم نہيں رہتا، اور ہر وقت كچھ خارج ہوتا رہتا ہے، ليكن اگر فرض كريں كہ مسلسل پيشاب كى بيمارى والا شخص وضوء كرے اور پھر دوسرى نماز كا وقت شروع ہونے تك كوئى چيز خارج نہ ہو تو اسے دوسرا وضوء كرنا لازم نہيں، بلكہ اس كا پہلا وضوء قائم ہے.

چنانچہ فقھاء كا قول: ہر نماز كے ليے وضوء كرنا كسى چيز كے خارج ہونے سے ساتھ مقيد ہو گا.

بھوتى رحمہ اللہ " الروض المربع " ميں كہتے ہيں:

( اور مستحاضہ عورت وغيرہ ) جسے مسلسل پيشاب يا مذى يا ہوا خارج ہونے كى بيمارى ہے ... وقت شروع ہونے پر ( ہر نماز كے ليے وضوء كرے گا ) اگر اس كى كوئى چيز خارج ہو تو ( اور جب تك وقت ہو ) وہ ( فرضى اور نفلى ) نماز ادا كرے گا، ليكن اگر كچھ خارج نہ ہو وہ وضوء كرنا واجب نہيں ) انتہى.

ديكھيں: الروض المربع ( 57 ).

اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

( اگر كوئى چيز خارج ہوئى ہو تو مستحاضہ عورت پر ہر نماز كے ليے وضوء كرنا واجب ہے، اور اگر اس كى كوئى چيز خارج نہ ہو تو اس كا پہلا وضوء ہى باقى ہے ).

ديكھيں: الشرح الممتع ( 1 / 438 ).

3 - اور اگر آپ گھر سے باہر ہوں اور وقت ختم ہونے سے آپ كا وضوء ختم ہو جائے، اور آپ نماز ادا كرنا چاہيں تو آپ كے ليے مخصوص جگہ دھو كر وضوء دوبارہ وضوء كرنا ضرورى ہے، اور آپ كوئى ايسى چيز وہاں باندھے جو قدر امكان اسے خارج ہونے سے روكے ركھے.

اور زير جامہ لباس كى طہارت دھونے سے ہو جائيگى، اور اگر آپ نماز كے ليے پاك صاف اور طاہر لباس اپنے ساتھ ركھيں تو يہ زيادہ بہتر اور آسان ہے، ليكن اگر آپ كے ليے لباس دھونا يا تبديل كرنا مشكل ہو تو آپ اسى حالت ميں نماز ادا كر ليں.

شيخ ابن باز رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

مسلسل پيشاب خارج ہونے كى بيمارى والا شخص علاج معالجہ كرانے كے باوجود صحيح نہيں ہوتا تو اس كےليے ہر نماز كا وقت شروع ہونے پر وضوء كرنا ضرورى ہے، اور اس كے بدن پر جو كچھ لگا ہے وہ اسے دھو كر صاف كرے، اور نماز كے ليے پاك صاف اور طاہر لباس ركھے، اگر ايسا كرنے ميں مشقت نہ ہو، وگرنہ اسے ايسا كرنا معاف ہے.

اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿ اور اس نے تم پر دين ميں كوئى تنگى نہيں ركھى ﴾.

اور ايك مقام پر ارشاد ربانى ہے:

﴿ اللہ تعالى تمہارے ساتھ آسانى چاہتا ہے، اور تمہارے ليے مشكل اور تنگى نہيں چاہتا ﴾.

اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جب ميں تمہيں كوئى حكم دوں تو تم اپنى استطاعت كے مطابق اس پر عمل كرو "

اسے يہ احتياط كرنى چاہيے كہ پيشاب باقى جسم يا لباس پر نہ پھيلے، يا پھر نماز والى جگہ پليد نہ ہو جائے. انتہى

ماخوذ از: فتاوى اسلاميۃ ( 1 / 192 ).

اور اگر اس كے ليے ہر نماز كے وقت وضوء كرنا اور كپڑے دھونا مشكل ہو تو پھر اس كے ليے ظہر اور عصر ايك ہى نماز كے ساتھ جمع كرنا جائز ہے، چنانچہ آپ ايك ہى وضوء كے ساتھ دونوں نمازيں كسى ايك نماز كے وقت ميں ادا كر سكتى ہيں، اور اسى طرح مغرب اور عشاء كى نماز بھى اكٹھى ہو سكتى ہے، چاہے آپ گھر ميں ہوں يا گھر سے باہر.

شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" اور مريض اور استحاضہ والى عورت نماز جمع كرے " اھـ

ديكھيں: مجموع الفتاوى الكبرى ( 24 / 14 ).

اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" استحاضہ والى عورت كے ليے ظہر اور عصر اور مغرب اور عشاء كى نمازيں جمع كرنا جائز ہے، كيونكہ اس كے ليے ہر نماز كے وقت وضوء كرنے ميں مشقت ہے " اھـ

ديكھيں: الشرح الممتع ( 4 / 559 ).

4 - آپ نماز عشاء كے وضوء كے ساتھ ہى نماز تراويح بھى ادا كر سكتى ہيں، چاہے نماز تراويح آدھى رات كے وقت ہى ہوں.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى سے درج ذيل سوال دريافت كيا گيا:

كيا استحاضہ والى عورت كے ليے عشاء كے وضوء سے آدھى رات كے بعد ادا كردہ نماز تراويح ادا كرنا جائز ہيں ؟

شيخ رحمہ اللہ تعالى كا جواب تھا:

" اس مسئلہ ميں اختلاف پايا جاتا ہے، بعض اہل علم كہتے ہيں كہ جب آدھى رات ہو جائے تو اس كے ليے نيا وضوء كرنا ہوگا، اور ايك قول يہ ہے كہ اس كے ليے وضوء كى تجديد ضرورى نہيں، اور راجح بھى يہى ہے.

ديكھيں: فتاوى الطہارۃ للشيخ ابن عثيمين صفحہ نمبر ( 286 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments