39752: قضاء كےروزے كےمتعلق يہ گمان كيا كہ يہ بھي نفلي روزے كي طرح توڑنا جائز ہے


ميري بيوي رمضان ميں ترك كيے ہوئے روزے قضاء كررہي تھي تو ميں نے اس سے روزے كي حالت ميں جماع كرليا كيونكہ ميرا گمان تھا كہ قضاء كے روزے كا حكم بھي نفلي روزے جيسا ہے ليكن پھر ميں نےاس كےعلاوہ حكم سنا تواس مسئلہ ميں كيا حكم ہے اور كيا اس ميں مجھ پر كوئي چيز لازم آتي ہے ؟

الحمد للہ :

 رمضان كي قضاء كےروزے واجب شدہ روزے ہيں جسےانسان بغير شرعي عذر كے توڑ نہيں سكتا، لھذا جب انسان قضاء كا روزہ ركھ لے تواس كومكمل كرنا لازم ہے ، يہ نفلي روزے كي طرح نہيں كہ جب چاہے كھول لے اور جب چاہے نہ كھولے.

مزيد تفصيل كےليے سوال نمبر ( 49985 ) كا جواب ضرور ديكھيں .

ام ھاني رضي اللہ تعالي عنہا سےثابت ہے كہ وہ كہتي ہيں : ( اے اللہ تعالي كےرسول صلي اللہ عليہ وسلم ميں روزہ سے تھي تو روزہ كھول ديا ہے ؟ تو رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نے انہيں فرمايا: كيا تم كسي كي قضاء كررہي تھي ؟ وہ كہنےلگيں نہيں ، تورسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم فرمانےلگے: اگر نفلي روزہ تھا توپھر تجھےكوئي نقصان نہيں دےگا . سنن ابوداود ( 2456 ) علامہ الباني رحمہ اللہ تعالي نےاسے صحيح قرار ديا ہے.

تويہ اس بات كي دليل ہے كہ اگر اس نے واجب روزہ توڑا تو اسے نقصان دے گا اور يہاں نقصان سے مراد گناہ ہے .

ليكن جوكچھ آپ دونوں كےمابين ہوا وہ جماع ہے اور جماع كا كفار صرف رمضان كا روزہ رمضان كے مہينہ ميں ہي باطل كرنے ميں لازم آتا ہے، تو اس بنا پر آپ كےذمہ كچھ لازم نہيں آتا صرف آپ رمضان كےاس دن كي قضاء ميں ايك روزہ ركھيں اور اس كےساتھ ساتھ اللہ تعالي سے توبہ واستغفار بھي كريں اور آئندہ اس طرح كا كام نہ كرنے كا عزم بھي كريں.

ابن رشد رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں:

جمہورعلماء كرام اس پر متفق ہيں كہ: رمضان كي قضاء ميں ركھے گئے روزہ كوعمدا كھولنے سے كفارہ لازم نہيں آتا اس ليے كہ اس كي ادائيگي حرمت زمان نہيں، ميري مراد رمضان ہے ( يعني يہ رمضان نہيں ) بدايۃ المجتھد ( 2 / 80 )

مستقل فتوي كميٹي ( فتاوي اللجنۃ الدائمۃ ) كےفتاوي جات ميں ہےكہ:

( كفارہ اس پر واجب ہوتا ہے جورمضان كےمہينہ ميں جماع كرے يہ وقت كي حرمت كي بنا پر ہے، علماء كرام كےصحيح قول كےمطابق قضاء ميں كفارہ واجب نہيں ہوتا ) اھ

ديكھيں: فتاوي اللجنۃ الدائمۃ ( 10 / 352 )

واللہ اعلم.

الاسلام سوال وجواب
Create Comments