Thu 24 Jm2 1435 - 24 April 2014
40113

مردوں كے ليے نماز باجماعت كا حكم

كيا مسجد قريب ہوتے ہوئے بھى گھر ميں نماز ادا كرنى جائز ہے، يہ علم ميں رہے كہ نماز صرف دو ہيں ؟

الحمد للہ:

علماء كرام كے صحيح قول كے مطابق صحتمند مردوں پر نماز باجماعت مسجد ميں ادا كرنى واجب ہے، اس كے بہت سے دلائل ہيں، جن ميں سے چند ايك يہ ہيں:

1 - فرمان بارى تعالى ہے:

﴿اور جب آپ ان ميں ہوں اور انہيں نماز پڑھائيں تو ان ميں سے ايك جماعت آپ كے ساتھ نماز ادا كرے اور وہ اپنا اسلحہ ساتھ ركھيں، جب وہ سجدہ كر چكيں تو ہٹ كر پيچھے چلے جائيں، اور جس جماعت نے نماز ادا نہيں كى وہ آكر آپ كے ساتھ نماز ادا كرے ﴾النساء ( 102 ).

اس آيت سے استدلال كئى ايك وجوہ كى بنا پر ہے:

پہلى وجہ:

اللہ سبحانہ وتعالى نے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو انہيں باجماعت نماز پڑھانے كا حكم ديا، پھر اللہ تعالى نے دوسرے گروہ كے بارہ ميں بھى دوبارہ يہى حكم ديتے ہوئے فرمايا:

﴿اور چاہيے كہ دوسرا گروہ جس نے نماز ادا نہيں كى آئے اور آپ كے ساتھ نماز ادا كرے﴾.

اس ميں دليل ہے كہ جب اللہ تعالى نے پہلے گروہ كے اس فعل كى ادائيگى كى بنا پر دوسرے گروہ سے اسے ساقط نہيں كيا تو يہ فرض عين ہونے كى دليل ہے.

اور اگر نماز باجماعت ادا كرنا سنت ہوتى تو سب عذروں ميں سے خوف كى عذر كى بنا پر يہ بالاولى ساقط ہوتى، اور اگر فرض كفايہ ہوتى تو پھر پہلے گروہ كى ادائيگى كى بنا پر ساقط ہو جاتى، لہذا اس آيت ميں نماز باجماعت فرض ہونے كى دليل پائى جاتى ہے، جو كہ تين وجوہات كى بنا پر ہے:

پہلى: پہلے اللہ تعالى نے اس كا حكم ديا، اور پھر دوبارہ حكم ديا، اور خالت خوف ميں بھى اسے ترك كرنے كى رخصت نہيں دى.

ابن قيم رحمہ اللہ كى كلام ختم ہوئى، ماخوذ از: كتاب الصلاۃ.

2 - دوسرى وجہ:

صحيحين ميں ـ اور يہ الفاظ بخارى كے ہيں ـ ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ سے مروى ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" اس ذات كى قسم جس كے ہاتھ ميں ميرى جان ہے، ميں نے ارادہ كيا كہ ايندھن جمع كرنے كا حكم دوں اور وہ جمع ہو جائے تو پھر ميں نماز كے ليے اذان كا حكم دوں اور پھر كسى شخص كو لوگوں كى امامت كرانے كا حكم دوں اور پھر ميں ان مردوں كے پيچھے جاؤں اور انہيں گھروں سميت جلا ڈالوں، اس ذات كى قسم جس كے ہاتھ ميں ميرى جان ہے، اگر كسى كو معلوم ہو جائے كہ اسے موٹى سے گوشت والى ہڈى حاصل ہو گى، يا پھر اسے اچھے سے دو پائے كے كھر حاصل ہونگے تو وہ عشاء كى نماز ميں حاضر ہوں "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 7224 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 651 ).

العرق: باقى مانندہ گوشت لگى ہوئى ہڈى، يا پھر گوشت.

المرماۃ: بكرى كے پائے ميں دونوں كھروں كے درميان گوشت، اور ظلف گھوڑے كى طرح بكرى اور گائے كے كھر كو كہتے ہيں.

ابن منذر رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

( نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا نماز سے پيچھے رہ جانے والوں كو گھروں سميت جلانے كا اہتمام واضح بيان ہے كہ نماز باجماعت فرض ہے؛ وگرنہ مندوب اور جو چيز فرض نہيں اس سے پيچھے رہنے كى بنا پر رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا جلانا جائز نہ ہوتا ).

ديكھيں: الاوسط ( 4 / 134 ).

مزيد دلائل معلوم كرنے كے ليے آپ سوال نمبر ( 8918 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

جب يہ ثابت ہو گيا كہ نماز باجماعت مسجد ميں ادا كرنى واجب ہے اور مسجد ميں جماعت كے ساتھ نماز ادا كرنے كى استطاعت ركھنے والے مرد كے ليے گھر ميں نماز ادا كرنا جائز نہيں، چاہے وہ اپنے گھر ميں نماز باجماعت ادا ہى كيوں نہ كرے.

شيخ ابن باز رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

نماز باجماعت ترك كرنا برائى اور منكر ہے، ايسا كرنا جائز نہيں، اور يہ منافقين كى صفات ميں سے ہے.

مسلمان پر نماز باجماعت مسجد ميں ادا كرنا واجب ہے، جيسا كہ ابن ام مكتوم ـ جو كہ نابينا صحابى ہيں ـ كى حديث سے ثابت ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے انہوں نے عرض كيا:

" اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم مجھے مسجد تك لانے والا كوئى نہيں، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے انہوں نے گھر ميں ہى نماز پڑھنے كى رخصت مانگى، اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے انہيں رخصت دے دى، جب وہ جانے لگے تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے انہيں بلايا اور فرمانے لگے:

كيا تم نماز كى اذان سنتے ہو؟

تو انہوں نے جواب ديا: جى ہاں، تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: تو پھر آيا كرو"

صحيح مسلم حديث نمبر ( 635 ).

اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے يہ بھى ثابت ہے كہ آپ نے فرمايا:

" جس نے اذان سنى اور نہ آيا تو اس كى بغير عذر كے نماز ہى نہيں "

اسے ابن ماجہ اور دار قطنى اور ابن حبان اور حاكم نے صحيح سند كے ساتھ روايت كيا ہے.

ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما سے كہا گيا كہ عذر كيا ہے ؟ تو انہوں نے فرمايا:

( خوف يا پھر مرض )

اور صحيح مسلم ميں ابن مسعود رضى اللہ تعالى عنہما سے مروى ہے وہ بيان كرتے ہيں كہ:

" ہم نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا عہد مبارك ديكھا، نماز باجماعت سے صرف منافق يا پھر مريض ہى پيچھے رہا كرتا تھا "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 654 ).

مقصد يہ ہے كہ: مومن پر مسجد ميں نماز ادا كرنا واجب ہے، اور اس كے ليے مسجد قريب ہوتے ہوئے سستى و كاہلى اور گھر ميں نماز ادا كرنا جائز نہيں " انتہى

اور يہ كہ مسجد ميں صرف دو شخص ہى كا نماز ادا كرنا اس بات كى تاكيد كرتا ہے كہ جماعت كے ساتھ حاضر ہوا جائے، تا كہ گناہ اور كمى و كوتاہى سے بچا جائے، اور ان دونوں اشخاص كو مسجد ميں نماز باجماعت ادا كرنے پر ابھارا جائے تا كہ كہيں ان ميں بھى سستى و كاہلى منتقل نہ ہو جائے.

اور دو يا دو سے زيادہ شخص جماعت كہلاتے ہيں.

ابن ھبيرہ رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

( علماء كا اجماع ہے كہ نماز باجماعت كے ليے كم ازكم تعداد نماز جمعہ كے علاوہ جس سے فرضى نماز جماعت ہوتى ہے وہ دو افراد ہيں، ايك امام اور ايك مقتدى جو كہ امام كے بائيں جانب كھڑا ہو گا ).

ديكھيں: الافصاح ( 1 / 155 ).

اور ابن قدامہ رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

( دو يا دو سے زيادہ افراد سے جماعت ہو جاتى ہے، اس ميں اختلاف كا ہميں كوئى علم نہيں ). انتھى

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments