Sat 19 Jm2 1435 - 19 April 2014
40223

حج قران كرنے والے كے ليے صرف ايك ہي سعي ہے

بيت اللہ كے حج كے متعلق سوال ...... حج قران كرنے والے حاجي كے متعلق ، كيا ہمارے ليے عمرہ اور حج كا اكٹھا احرام باندھنا ممكن ہے اس طرح كہ جوسعي ہم طواف افاضہ كے بعد كرني ہے وہ ( طواف قدوم كے بعد ) ہي كرلي جائے ؟ يعني طواف افاضہ كے بعد ہمارے ذمہ نہ ہو كيونكہ ہم نے طواف قدوم كے بعد ہم سعي كرچكے ہيں ؟

الحمدللہ

حج قران كرنے والا وہ شخص ہے جس نے عمرہ اور حج دونوں كا احرام باندھا ہو اور قران كرنے والے پر صرف ايك ہي سعي ہوتي ہے اور يہي سعي اس كے حج اور عمرہ كے ليے كافي ہے ، اور افضل يہ ہے كہ وہ طواف قدوم كےبعد سعي كرلے جيسا كہ نبي كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے بھي اسي پر عمل كيا تھا ، اور حج قران كرنے والا سعي كومؤخر كركے طواف افاضہ كے ساتھ سعي كرنے كا حق بھي ركھتا ہے .

حج قران كےذمہ صرف ايك ہي سعي ہونے كي كئي ايك دليليں ہيں جن ميں سے كچھ ذيل ميں دي جاتي ہيں :

1- نبي صلى اللہ عليہ نے حج قران كيا اور طواف قدوم كےبعد صفا مروہ كے مابين صرف أيك ہي سعي كي .

امام مسلم رحمہ اللہ تعالى نے جابر بن عبداللہ رضي اللہ تعالى عنہ سے بيان كيا ہے كہ : نبي كريم صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كے صحابہ كرام رضي اللہ عنھم نے صفا مروہ كے مابين ايك ہي سعي كي . صحيح مسلم ( 1215 )

امام نووي رحمہ اللہ تعالي كہتے ہيں :

( رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كے صحابہ كرام نے ايك ہي سعي كي ) يعني نبي كريم صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كے صحابہ ميں سے جوحج قران كرنے والے صحابہ تھے انہوں نے صفا مروہ كے مابين صرف ايك ہي سعي كي ، اور جو حج تمتع كرنے والے تھے انہوں نے دو بار سعي كي ايك سعي عمرہ كے ليے اور دوسري سعي يوم النحر( عيد كے دن ) اپنے حج كے ليے .

اس حديث ميں واضح طور پر امام شافعي رحمہ اللہ اور ان كے موافقين كي دليل پائي جاتي ہے كہ حج قران كرنے والے پر صرف ايك ہي طواف افاضہ اور ايك ہي سعي ہے . اھ

2- عائشہ رضي اللہ تعالي عنہا بيان كرتي ہيں كہ : جنہوں نے عمرہ كا احرام باندھا تھا ( اور وہ حج تمتع كرنے والے تھے ) انہوں نے بيت اللہ كا طواف اور صفا مروہ كےمابين سعي كي اور پھر احرام كھول ديا اور جب منى سے واپس آئے تو پھر ايك اور طواف كيا اور جنہوں نے حج اور عمرہ كوجمع كيا تھا ( اور حج قران كرنے والے ہيں ) انہوں نے صرف ايك ہي طواف كيا تھا . صحيح بخاري ( 1556 ) صحيح مسلم ( 1211 ) .

يہاں عائشہ رضي اللہ تعالي عنہا كي ايك طواف سے مراد صفا مروہ كے مابين سعي ہے اس ليے كہ سعي پر طواف كا اطلاق ہوتا ہے .

ابن قيم رحمہ اللہ كا كہنا ہے :

حديث ميں دليل ہے كہ حج تمتع كرنے والے پر ايك سے زيادہ سعي ہے كيونكہ عائشہ رضي اللہ تعالي عنہا كا يہ كہنا كہ : پھر انہوں نے منى سے واپس آنے كے بعد اپنے حج كا ايك اور طواف كيا ، اس سے ان كي مراد صفا مروہ كے مابين سعي تھي اور اسي ليے انہوں نے حج قران كرنے والوں سے اس كي نفي كي .

اور اگر اس سے عائشہ رضي اللہ تعالى عنہا كي بيت اللہ كا طواف ہوتا تو اس ميں سب برابر ہوتے كيونكہ حج تمتع اور حج قران كرنے والے پر طواف افاضہ ميں كوئي فرق نہيں . اھ

اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ سے سوال كيا گيا كہ :

كيا حج قران كر نے والے كےليے ايك طواف اور ايك ہي سعي كافي ہے ؟

تو ان كا جواب تھا :

جب كوئي شخص حج قران كرے تواس كے ليے حج كا طواف اور حج كي سعي عمرہ اور حج دونوں كےليے كافي ہو گي , اور اس كا طواف قدوم طواف سنت ہو گا اور اگر وہ چاہے تو سعي مقدم كرتے ہوئےطواف قدوم كے بعد سعي كرلے جيسا كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے كيا تھا ، اور اگر چاہے تو عيد كے دن طواف افاضہ تك مؤخر بھي كرسكتاہے ليكن مقدم كرنا افضل ہے كيونكہ رسول كريم صلى اللہ نے اسي پر عمل كيا تھا .

لھذا جب عيد كا دن ہو تو وہ صرف طواف افاضہ ہي كرے اور سعي نہ كرے اس ليے كہ وہ پہلے سعي كرچكا ہے اس كي دليل كہ عمرہ اور حج كے ليے طواف اور سعي كافي ہے وہ عائشہ رضي اللہ تعالي عنہا جوكہ حج قران كررہي تھيں كورسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا يہ فرمان ہے :

( تيرا بيت اللہ كاطواف اور صفا مرہ كي سعي كرنا تيرے حج اور عمرے كے ليے كافي ہے ) سنن ابوداود ( 1897 ) علامہ الباني رحمہ اللہ تعالي نے سلسۃ الصحيحۃ ( 1984 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے .

تو نبي كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے بيان كيا كہ حج قران كرنے والے كا طواف اور اس كي سعي حج اور عمرہ دونوں كے ليے ہي كافي ہے . ا ھ

ديكھيں : فتاوي اركان الاسلام صفحہ نمبر ( 563 ) .

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments