Thu 24 Jm2 1435 - 24 April 2014
4025

اگر قرآن مجيد كا زيادہ حافظ اشعرى عقيدہ ركھتا ہو تو كيا اسے امامت كے ليے آگے كيا جائيگا ؟

اگر حافظ قرآن اشعرى عقيدہ ركھے تو كيا اسے امامت كے مقدم كيا جائيگا يا نہيں ؟

الحمد للہ:

اگر وہ اپنى بدعات كى دعوت نہيں ديتا اور جب اسے حق معلوم اور واضح ہو جائے تو جھگڑا نہيں كرتا تو اسے امامت كے ليے آگے كرنے ميں كوئى حرج نہيں، وگرنہ اس كے علاوہ كوئى اور شخص بہتر ہے، چاہے وہ اس سے كم حفظ والا ہى ہو.

واللہ اعلم .

الشيخ محمد صالح المنجد
Create Comments