40461: ايك شخص پر قسم كے كئى كفارے ہيں، اسے علم نہيں كيا كرے


ميرے ذمہ قسم كے كئى كفارے ہيں، جب ميں كفارے ادا كرنے چاہتا ہوں تو ميں يہ نہيں جانتا كہ كيا كروں؟
نہ تو كوئى مسكين اور نہ ہى فقير پايا جاتا ہے، تو كيا ميں نقدى پيسوں سے كفارہ ادا سكتا ہوں؟
ہر فقير كو ميں كتنے دوں، اور كيا يہ جائز ہے كہ ميں مجاہدين كے ليے چندہ جمع كرنے والى تنظيم كو كفارہ كى رقم ادا كردوں ؟

الحمد للہ :

اول:

قسم كا كفارہ درج ذيل ہے:

ايك مومن غلام آزاد كرنا، يا دس مسكينوں كو كھانا يا انہيں لباس مہيا كرنا، اور جو شخص ان ميں سے كوئى ايك چيز نا پائے تو وہ تين يوم كے روزے ركھے.

اس كى دليل اللہ تعالى كا مندرجہ ذيل فرمان ہے:

﴿ اللہ تعالى تمہارى لغو قسموں ميں تمہارا مؤاخذہ نہيں كرتا ليكن ان قسموں كا مؤخذہ فرماتا ہے جن قسموں كو تم نے مضبوط كيا ہو، اس كا كفارہ دس محتاجوں كو اوسط درجے كا كھانا دينا جو اپنے گھروالوں كو كھلاتے ہو، يا ان كو لباس دينا، يا ايك غلام آزاد كرنا، اور جس كے پاس اس كى استطاعت نہ ہو اور وہ يہ نہ پائے تو وہ تين يوم كے روزے ركھے، يہ تمہارى قسموں كا كفارہ ہے ﴾المآئدۃ ( 89 ).

دوم:

جب قسم توڑنے سے قبل كئى ايك قسميں ہوں ـ اور جس پر قسم كھائى گئى ہے وہ ايك ہى چيز ہو ـ تو اس ميں صرف ايك كفارہ ہى واجب ہو گا ليكن اگر قسميں اور جس چيز كى قسم كھائى گئى ہے وہ مختلف ہوں تو پھر ہر قسم كا عليحدہ كفارہ ہو گا.

سوم:

قسم كا كفارہ مسكينوں كو ديا جائے گا جيسا كہ اللہ جل جلالہ نے ذكر بھى فرمايا ہے، اور فى سبيل اللہ جھاد كرنے والے مجاہدين كو قسم كا كفارہ دينے ميں بھى كوئى حرج نہيں، كيونكہ اللہ تعالى نے انہيں مصارف زكاۃ ميں ذكر كيا ہے، اور خاص كر جب فقراء اور مساكين نہ پائيں جائيں جنہيں كفارہ ادا كيا جائے.

چہارم:

قسم كے كفارہ كى مد ميں نقد رقم نكالنى جائز نہيں، كيونكہ يہ اللہ تعالى كى ذكر كردہ نص قرآنى كے خلاف ہے، اور آپ كا رب بھولنے والا نہيں، تو اللہ تعالى نے منصوص كفارہ كے بدلہ ميں نقدى دينے كا ذكر نہيں فرمايا .

ماخوذ از: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 23 / 27 ).
Create Comments