40468: كيا طالب علموں كے ٹور سے باقى مانندہ رقم لے سكتا ہے، كيونكہ اس نے نگرانى پر كچھ نہيں ليا ؟


ميں حفظ القرآن الكريم كلاسز كا انچارچ ہوں، اور طالب علموں كے سياحتى ٹور ميں سے كچھ رقم بچ جاتى ہے، كيا ميں يہ رقم لے سكتا ہوں؟ يہ علم ميں رہے كہ كلاسوں ميں كام كا مجھے كوئى معاوضہ نہيں ملتا، اور كيا ميں اتنى رقم لے سكتا ہوں جو مجھے كافى ہو، يا پھر طلباء كى فيس ميں سے كچھ رقم لے سكتا ہوں ؟

الحمد للہ:

اس رقم ميں سے آپ كچھ بھى نہيں لے سكتے، كيونكہ آپ سياحتى ٹور كے ليے جمع كردہ رقم كو خرچ كرنے كے امين ہيں، لھذا جس غرض كے ليے رقم دى گئى ہے اس كے علاوہ كہيں اور خرچ نہيں كر سكتے.

كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

{بلاشبہ اللہ تعالى تمہيں تاكيدى حكم ديتا ہے كہ امانتيں امانت ركھنے والوں كو واپس كردو... }النساء ( 58 ).

اور جو رقم باقى بچے اس كا واپس كرنا ضرورى ہے، يا پھر اسے محفوظ ركھيں تا كہ آپ اسے صرف اسى غرض ميں خرچ كريں جس كے ليے رقم دى گئى ہے، اور آپ كا تخواہ يا تعاون نہ لينا آپ كے ليے خيانت اور باطل طريقہ سے مال كھانا مباح نہيں كرتا، اور آپ كو يہ حق حاصل ہے كہ آپ اپنے كام كے عوض ميں معاوضہ لينے كا مطالبہ كريں.

اور جيسا كہ ہم ذكر كر چكے ہيں كلاسوں كى فيس ميں سے بھى آپ كوئى رقم نہيں لے سكتے.

آپ پر واجب ہے كہ اللہ تعالى سے ڈريں اور اس كا تقوى اختيار كرتے ہوئے حرام مال كھانے سے بچيں.

ميرى دعا ہے كہ اللہ تعالى آپ كى مدد فرمائے، اور آپ كو توفيق دے، اور آپ كى روزى زيادہ كرے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments