Fri 25 Jm2 1435 - 25 April 2014
40527

باڈى بلڈنگ كرنے كا حكم

اسلام ميں باڈى بلڈنگ جيسى ورزش كرنے كا حكم كيا ہے، كيا ہمارے ليے پہلوانوں جيسے جسم بنانے جائز ہيں، جب ہم اپنے جسم كسى كے سامنے ننگے نہ كريں، اور خود اس سے مستفيد ہوں ؟

الحمد للہ:

جسم كو مضبوط كرنا يا جسم بنانا اور باڈى بلڈنگ كى ورزش كرنے كا مقصد جسم كو قوى اور مضبوط و صحيح كرنا ہے، اور يہ ايسا ہدف ہے جو مطلوب اور مرغوب ہے.

دين اسلام نے انسان كى روح اور جسم دونوں كا خيال ركھا اور اس كا اہتمام كيا ہے، اور كئى قسم كى ورزش كرنے كى تشجيع دلائى ہے جس سے جسم بنايا جا سكتا ہے، اور صحت كى حفاظت ہوتى ہے، اور اس سے تفريح اور راحت حاصل ہوتى ہے، مثلا تيراكى، نشانہ بازى، گھڑ سوارى، پہلوانى اور مقابلہ ميں آنا.

ليكن اتنا ہے كہ جب اسلام ورزش كو قبول كرتا، اور اس كو تلاش كرنے كى دعوت ديتا ہے تو اسے فى ذاتہ مقصد اور غايت نہيں بناتا، بلكہ اس نے دينى حرمت و كرامت اور مسلمانوں كے حقوق محفوظ ركھنے كا ايك وسيلہ شمار كيا ہے؛ اور يہ كہ اسلام كے مقابلہ ميں كھڑى ہونے والى ركاوٹوں كو ختم، اور دھمكيوں كا مقابلہ كرنے، اور مدد و نصرت كا اہم سبب اور وسيلہ ہے.

چنانچہ اگر باڈى بلڈنگ كى اس ورزش كى غرض و غايت جسم اس ليے بنانا ہے كہ وہ فريضہ جھاد كو صحيح اور اچھى طرح ادا كر سكے، اور اللہ تعالى كا كلمہ بلند كرنے پر قادر ہو تو پھر يہ ورزش مطلوب ہے ہے.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

﴿ اور ان كے مقابلہ كے ليے اپنى استطاعت كے مطابق قوت كى تيارى كرو، اور گھوڑے تيار ركھو ﴾الانفال ( 60 ).

اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" قوى اور طاقتور مومن اللہ تعالى كے ہاں ضعيف و كمزور مومن سے بہتر اور زيادہ محبوب ہے "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 6774 ).

اور اگر اس كا مقصد اور غرض نفس كى تفريح اور صحت كى حفاظت ہو تو يہ ورزش مباح ہو گى.

اور اگر كسى حرام كام مثلا نماز كے ضياع، يا ستر ننگا كرنے، يا عورتوں سے اختلاط وغيرہ پر مشتمل ہو تو يہ ورزش بھى حرام ہو گى.

باڈى بلڈنگ كا كھيل اور ورزش كرنے والوں كى عادت ہے كہ وہ دوران ورزش اپنا ستر ننگا كرتے ہيں، جو بلا شك و شبہ حرام ہے، كيونكہ مرد كا ستر گھٹنے سے ليكر ناف تك ہے، جسے بيوى كے علاوہ كسى اور كے سامنے ننگا كرنا جائز نہيں، اسى طرح مرد كے ليے بھى كسى اور كا ستر ديكھنا جائز نہيں ہے.

اس كى دليل رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا يہ فرمان ہے:

" ناف اور گھٹنے كے درميان ستر ہے "

علامہ البانى رحمہ اللہ نے اراو الغليل حديث نمبر ( 271 ) ميں اسے حسن كہا ہے.

اگر تو ورزش ان ممنوعات سے خالى ہو تو پھر اس ورزش كو كرنے ميں كوئى حرج نہيں.

ليكن يہاں دو چيزوں پر متنبہ رہنا چاہيے:

اول:

جو شخص اس طرح كى ورزش كرتا ہے، اسے يہ اپنے نفس بڑا گھمنڈ ہونے لگتا ہے، اور وہ تكبر و فخر اور لوگوں كے سامنے اپنے جسم اور عضلات اور قوت كو نماياں كرنا پسند كرنے لگتا ہے.... اور اس كے علاوہ كئى ايك اسباب بھى ہيں، جو كہ ايك دوسرے سے زيادہ قبيح ہيں، مومن شخص كو اس سے احتراز كرنا اور بچنا چاہيے، اور اسے اخلاق حسنہ اور تواضع اور عدل اپنانا چاہيے.

دوم:

جسم كو خوبصورت بنانے اور اس كا اہتمام كرنے ميں مبالغہ اور غلو كرنا قابل تحسين امر نہيں، بلكہ قابل تحسين تو وہ ہے جو مسلمان كى صحت كى حفاظت كرے، اور جھاد فى سبيل اللہ ميں اس كا ممد و معاون ثابت ہو، اور ان عبادات ميں معاون بنے جو جسمانى طاقت كى محتاج ہيں مثلا حج .

ليكن اس ميں زيادتى اور غلو كرنا ايك ايسى چيز ہے جو غالبا ايك مسلمان شخص كو اس سے بھى اہم كام سے مشغول كر ديتى ہے، جيسا كہ اب اس طرح كى ورزش كرنے والوں ميں فى الواقع ديكھا بھى گيا ہے، آپ انہيں ديكھيں گے وہ روزانہ كئى كئى گھنٹے اس ورزش ميں گزار ديتے ہيں.

جب كسى مسلمان شخص كا جسم بيل كى طرح قوى اور موٹے عضلات والا ہو، ليكن اس كا دل ايمان اور ہر قسم كى فضيلت سے خالى ہو تو اس سے وہ كيا فائد حاصل كر سكتا ہے ؟!

اللہ تعالى سے ہمارى دعا ہے كہ وہ ہميں ہر اس كام كى توفيق نصيب فرمائے جس ميں ہمارى دين و دنيا اور آخرت كى سعادت ہے.

مزيد آپ سوال نمبر ( 22963 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

اور اللہ تعالى ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم پر اپنى رحمتيں نازل فرمائے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments