40608: حائضہ عورت میقات سے لیکرحج کے آخرتک کیا کرےگي


اگرعورت کوایام حج میں مکہ داخل ہونے سے قبل ہی ماہواری آجائے تووہ کیا کرے ؟

الحمدللہ

جب کوئي حائضہ عورت حج کا ارادہ رکھتی ہواورمیقات سے گزرے تو اسے میقات سے احرام باندھنا چاہیے اورجب مکہ پہنچے تووہ حج کے سارے اعمال کرے گي لیکن صرف بیت اللہ کا طواف اورصفا مروہ کے مابین سعی نہیں کرسکتی بلکہ وہ ان دونوں کومؤخر کردے اورپاک صاف ہونے کے بعد طواف اورسعی کرے گي ، اوروہ عورت جسے احرام باندھنے کے بعد اورطواف کرنے سے قبل ماہواری شروع ہوجائے وہ بھی اسی طرح کرےگی ۔

لیکن وہ عورت جسے طواف کرنے کے بعد ماہواری شروع ہوجائے وہ صفا مروہ کے مابین سعی کرے گي اگرچہ وہ حالت حیض میں ہی کیوں نہ ہو۔

مستقل فتوی کمیٹی سعودی عرب کے علماء کرام سے مندرجہ ذيل سوال کیا گيا :

حائضہ عورت کے حج کا حکم کیا ہے ؟

توان کا جواب تھا :

حيض حج کرنے میں مانع نہیں ، لھذا جوعورت بھی حالت حیض میں احرام باندھے وہ بیت اللہ کے طواف کے علاوہ باقی سارے اعمال حج ادا کرے گی ، اورجب وہ حیض سے فارغ ہوکرغسل کرکے پاک صاف ہوجائے توبیت اللہ کا طواف کرلے ۔

اورنفاس والی عورتوں کا بھی یہی حکم ہے ، لھذا جب یہ عورت ارکان حج ادا کرلے تواس کا حج صحیح ہوگا ۔

دیکھیں : فتاوی اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 11 / 172 - 173 ) ۔

اورشیخ محمد بن صالح عثيمین رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے :

جوعورت بھی عمرہ کرنا چاہتی ہو اس کے لیے احرام کے بغیر میقات تجاوز کرنا جائزنہیں چاہے وہ حالت حیض میں ہی کیوں نہ ہو بلکہ وہ ماہواری کی حالت میں ہی احرام باندھےگي اوراس کا احرام صحیح ہوگا ، اس کی دلیل مندرجہ ذيل حدیث ہے :

نبی صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحلفیہ مقام پرتھے اورحجۃ الوداع کا ارادہ تھا توابوبکررضي اللہ تعالی عنہ کی بیوی اسماء بنت عمیس رضي اللہ تعالی عنہا نے ذی الحلیفہ مقام پربچہ جنم دیا توانہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پیغام بھیجا کہ اب وہ کیا کریں تورسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

غسل کرکے کپڑے کا لنگوٹ باندھ کراحرام باندھ لو ۔

اورحیض کا خون بھی نفاس کے خون جیسا ہی ہے لھذا ہم حائضہ عورت سے یہ کہيں گے کہ جب وہ حج یا عمرہ کے ارادہ سے میقات پرپہنچے توہم اسے یہی کہیں گے کہ : تم غسل کرکے کپڑے کا لنگوٹ باندھ کراحرام باندھ لو ۔

استثفری کا معنی یہ ہے کہ وہ اپنی شرمگاہ پرکپڑا باندھ لے اورپھر وہ حج یا عمرہ کا احرام باندھ لے ، لیکن جب وہ احرام باندھ لے اورمکہ پہنچے تووہ پاک صاف ہونے تک بیت اللہ نہ جائے اورنہ ہی طواف کرے ، اوراسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضي اللہ تعالی کوجب وہ دوران عمرہ حائضہ ہوگئي تھیں توانہيں یہ فرمایا تھا :

تم حاجیوں والے سارے اعمال کرو اورپاک صاف ہونے تک صرف بیت اللہ کا طواف نہ کرنا ۔ یہ بخاری اورمسلم کی روایت ہے ۔

اورصحیح بخاری میں یہ بھی ہے کہ : عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب وہ پاک صاف ہوئي توانہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا اورصفا مروہ کی سعی بھی کی ۔

تویہ اس بات کی دلیل ہے کہ جب کوئي عورت حالت حیض میں حج یا عمرہ کا احرام باندھ لے یا اسے طواف سے قبل حیض آجائے تووہ پاک صاف ہونے اورغسل کرنے سے قبل بیت اللہ کا طواف اورسعی نہيں کرے گی ، لیکن اگر اس نے طہر کی حالت میں طواف توکرلیا لیکن طواف مکمل کرنے کے بعد اسے حیض آجائے تووہ صفامروہ کی سعی جاری رکھے گی اگرچہ وہ حالت حیض میں ہی ہو اورسعی کے بعد سرکے بال کٹوا کراپنے عمرہ سے فارغ ہوجائے گی ، کیونکہ صفا مروہ کے مابین سعی کرنے کے لیے طہارت اوروضوء شرط نہيں ہے ۔

دیکھیں : 60 سوالا فی الحیض سوال نمبر ( 54 ) ۔

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments