40882: ايك عيسائى كااسلام ميں شراب كي حرمت قطعى كے سبب كا سوال


مرحبا.... ميں ايك عيسائى ہوں ...
جب ہم سوال كرتے ہيں كہ اسلام ميں شراب كي حرمت كا سبب كيا ہے تو ہميں يہ كہا جاتا ہے كہ شراب نوشى سے عقل جاتى رہتى ہے، ليكن ہر چند ماہ ميں ايك چھوٹا سا گلاس شراب پينا كوئي نقصان نہيں ديتا، بلكہ بعض لوگ تو يہ كہتے ہيں كہ اس كي قليل مقدار دل كے لئے مفيد ہوتى ہے تو پھر اس كي يہ قطعى حرمت كيوں حتى كہ اس كا ايك قطرہ بھى نہيں پيا جا سكتا ؟
انسان تو عقل كا مالك ہے تا كہ وہ يہ جان سكے كہ اپنے افعال كو كيسے كنٹرول كرے اور نشہ ميں آجانے سے قبل شراب نوشى سے رك جائے تو پھر اسلام نے مسلمانوں كو شراب نوشى اور خنزير كا گوشت كھانے سے دور رہنے كا كيوں كہا ہے تا كہ ان كے دين كي اصلاح كرے اور ان دونوں اشياء كے نقصانات بيان كرنے اور لوگوں كے ليے اختيار باقى ركھنے پر ہى اكتفا كيوں نہيں كيا ؟

الحمد للہ:

اول:

ہم آپ كو اپنى ويب سائٹ پر ايك ريسرچ كرنے والے اور حقيقت كے متعلق سوال كرنے والے كي حيثيت سے خوش آمديد كہتے ہيں، اور اللہ تعالى سے ہمارى دعا ہے كہ ہمارا جواب كافى اور شافى ہو اور اسے بنظر غائر پڑھنے اور انصاف كے ساتھ غور وفكر كرنے كے بعد آپ كے سامنے شريعت اسلاميہ كي حكمت اور اس كي تكميل واضح ہو جو آپ كو اس طرف لائے كہ آپ اپنے نفس كا مراجعہ كريں اور حق تلاش كركے اس كي اتباع و پيروى كريں.

دوم:

ہمارى شريعت اسلاميہ ميں جو كچھ مقرر كردہ ہے اس ميں يہ بھى ہے كہ يہ شريعت اسلاميہ مصالح كي تحصيل اور اس كي تكثير كے لئے اور مفاسد و خرابى كو ختم اور اسے كم كرنے كے لئے آئى، لھذا جو چيز بھى نفع مند تھى يا پھر اس كا نفع غالب تھا وہ حلال ہے، اور جو چيز نقصان دہ اور مضر تھى يا اس كا نقصان و ضرر غالب تھا وہ حرام كر دى گئى، اور شراب بغير كسى نزاع و اختلاف كے اس دوسرى قسم ميں شامل ہوتى ہے كہ يہ نقصان دہ يا پھر اس كا ضرر اس پر غالب ہے .

فرمان بارى تعالى ہے:

{آپ سے شراب اور جوئے كے متعلق سوال كرتے ہيں آپ كہہ ديجئے كہ ان دونوں ميں بہت بڑا گناہ اور لوگوں كےلئے دنياوى فائدہ بھى ہے ليكن ان كا گناہ ان كے فائدے سے زيادہ ہے} البقرۃ ( 219 ).

شراب كے نقصانات اور اس كے مفاسد كے متعلق تو ہر عالم اور جاہل اور ہر قريب اور دور والا سب جانتا ہے، اور شراب نوشى كے ضرر و نقصانات ميں سے كچھ تو يہ ہيں جو اللہ تعالى نے مندرجہ ذيل فرمان ميں بيان كيے ہيں:

فرمان بارى تعالى ہے:

{اے ايمان والو ! بات يہى ہے كہ شراب اور جوا اور تھان اور فال نكالنے كے پانسے كے تير يہ سب كچھ گندى باتيں، شيطانى كام ہيں ان سے بالكل الگ رہو تا كہ تم فلاح حاصل كرلو، شيطان تو يہى چاہتا ہے كہ شراب اور جوئے كے ذريعہ تمہارى آپس ميں عداوت و بغض ڈال دے اور اللہ تعالى كي ياد اور نماز سے تمہيں غافل كردے لھذا اب بھى باز آجاؤ} المائدۃ ( 90 - 91 )

ان دونوں آيتوں ميں اللہ تعالى نے شراب كي حرمت كي بہت ہى بليغ تاكيد كي ہے كہ اسے تھانوں اور پانسے كے تيروں كے ساتھ ملا كر ذكر كيا ہے جو كہ شرك كے مظاہر ميں سے ہيں اور اس وقت اسلام سے قبل جزيرہ عرب ميں يہ عام تھے، اور اللہ تعالى نے انہيں شيطانى اعمال ميں سے قرار ديا بلكہ ايسا كرنا فحش اور برائى ہے اور اللہ تعالى نے ان سے اجتناب كرنے كا حكم ديتے ہوئے اس سے اجتناب كو كاميابى و فلاح كى راہ قرار ديا، اور اس كے دينى نقصانات ذكر كيے كہ يہ واجبات و فرائض اور شرعى فضائل اللہ تعالى كا ذكر اور نماز جيسے اعمال سے روكتے ہيں.

شراب نوشى ميں بہت سے نقصانات و ضرر پائے جاتے جو يقينى ہيں اور ان كے متعلق رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے تو يہاں تك فرمايا ہے كہ :

" شراب ام الخبائث يعنى سب برائيوں كي جڑ ہے " يہ حديث حسن ہے اور اسے علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے السلسلۃ الصحيحۃ ( 1854 ) ميں ذكر كيا ہے.

اور يہ حديث ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم كے سچا ہونے كي دليل ہے انہوں نے جو كچھ فرمايا وہ سچ ثابت ہوا، كيا آپ كو اس نوجوان كي خبر نہيں پہنچى جو نشہ كي حالت ميں گھر واپس آيا اور خنجر لے كر اپنى والدہ كو دھمكى دى كہ اگر وہ اس كے ساتھ برائى نہيں كرتى تو وہ اسے قتل كردے گا لھذا ماں كو شفقت نے گھير ليا اور اس نے بيٹے كي بات تسليم كرلى اور جب بيٹا ہوش ميں آيا اور نشہ ختم ہوا تو اس نے جو كچھ كيا تھا اس كا علم ہوا تو خود كشى كرلى.

ديكھيں شراب نوشى كرنے كے بعد انتھاء اور خاتمہ كس پر ہوا شراب نوشى كي اور پھر والدہ كے ساتھ زنا كيا اور بالآخر خود كشى كرلى! اللہ تعالى ہميں سلامتى و عافيت سے نوازے.

بلكہ برطانوى ادارۃ المعارف كي ريسرچ ہے كہ محرم عورتوں كے ساتھ جتنے بھى جنسى زيادتيوں كے واقعات ہوتے ہيں مثلا بہن يا ماں اور بيٹى وغيرہ كےساتھ يہ سب شراب نوشى كي بنا پر نشہ ميں دھت ہو كر كيے جاتے ہيں.

اور يہ كہنا كہ: شراب كي كم مقدار كا استعمال دل كے ليے فائدہ مند ہے اس كا جواب يہ ہے كہ:

اول:

نئى تحقيق سے يہ بات سامنے آئى ہے كہ شراب نوشى كا دل كے لئے فائدہ مند ہونا اور اس كى شريانوں كو كھولنا يہ سب كچھ غلط ہے اور بہت بڑى غلطى تھى، كيونكہ شراب دل كى ان مغذى اور اہم شريانوں كو نہيں كھولتى پہلے دور ميں جس كا گمان كيا جاتا ہے، بلكہ يہ ان جلد كے نيچے پائے جانے والے خونى خليوں كو وسيع كرتى ہے اور اسى وقت دل كي اہم شريانوں كو تنگ كرديتى ہے اس كا سبب يہ ہے كہ اس كے اندر پائے جانے والے كوسٹرول اور چكناہٹ كے مادہ كو ناكارہ بنا ديتى ہے جس كي بنا پر دل كي دھڑكن تيز ہو جاتى اور سينہ كي درد ميں اضافہ ہو جاتا ہے، اور خاص كر سگرٹ نوشى كے ساتھ تو اور بھى زيادہ ہوتى ہے.

اور ذاتى طور پر دل كے عضلات پر تو شراب نوشى كا خاص اثر ہوتا ہے، اس طرح كہ دل كو زہرآلودہ كرديتى اور اس كا بنيادى كام كو معطل كركے ركھ ديتى ہے خاص كر كوبالٹ پر مشتمل بيرہ پينے سے، اسى طرح دل كو ( fb1 ) كے بہہ جانے كي بنا پر جلن اور خارش زدہ كرديتى ہے.

دوم:

يہ فائدہ اور منفعت جس كا گمان كيا جاتا ہے كہ شراب سے حاصل ہوتا ہے اسے شراب كے علاوہ كسي اور چيز سے حاصل كيا جاسكتا ہے كيونكہ شراب كا ضرر اور نقصان اس كے فائدہ اور منفعت پر غالب ہے.

سوم:

يہ بھى كہا جاسكتا ہے كہ شراب سے دل كو جو فائدہ حاصل ہوتا ہے وہ تو ان پھلوں اور ان مواد كي بنا پر ہے جس سے شراب حاصل كي جاتى ہے مثلا انگور، اور سيب وغيرہ، تو اس بنا پر ہم يہ كہيں گے كہ اس فائدہ كو ان پھلوں سے اس طريقہ پر حاصل كرنا ممكن ہے جس طرح اللہ تعالى نے ان پھلوں كو شراب بنائے بغير حاصل كيا جا سكتا ہے.

چہارم:

دل كو حاصل ہونے والے اس فائدہ كا : - اگر يہ اسى طرح صحيح ہے - ان مفاسد اور نقصانات سے موازنہ كرنا جو انسان كي صحت كو ہميشہ كے ليے پہنچتے ہيں، اور ان نقصانات كو ہر اس طبى مصدر اور مرجع سے معلوم كيا جاسكتا ہے جس ميں شراب اور الكحل اور انسان پر اس كے نقصانات كے متعلق بحث كي گئى ہے .

مثلا ان كتابوں كو ديكھيں: الايمان الكحولى تاليف ڈاكٹر نبيل صبحى الطويل، طبع مؤسسۃ الرسالہ بيروت .

ابحاث و اعمال المؤتمر العالمى الثالث و الرابع عن الطب الاسلامى طبع الكويت 1405 هـ 1407 هـ .

اور جب دور قديم اور دور جديد ميں بعض لوگوں كا خيال تھا كہ شراب ميں نفع اور فائدہ پايا جاتا ہے، رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے صحابہ كرام ميں سےايك صحابى طارق بن سويد الجعفى رضى اللہ تعالى عنہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس آئے اور شراب كے متعلق دريافت كيا تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے انہيں شراب سے منع كيا تو وہ كہنے لگے ميں بطور دوائى اور علاج تيار كرتا ہوں تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" يہ دوائى اور علاج نہيں ليكن ايك بيمارى ہے" صحيح مسلم .

اور يہ حديث نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كي صدق نبوت كي دليل ہے.

اور آپ كا يہ كہنا كہ: انسان عقل كا مالك ہے تا كہ وہ يہ جان سكے كہ كس طرح اپنے افعال كو كنٹرول كرے اور نشہ ہونے سے قبل شراب نوشى سے رك جائے.

تو يہ اس شخص كا قول ہے جو لوگوں كو اللہ رب العالمين سے دور كرنے كے ليے شيطان ملعون كي راہوں كي طرف متنبہ نہيں ہوا، اور پھر يہ اس شخص كا قول ہے جو يہ نہيں جانتا اور اس سے جاہل ہے كہ شراب نوشى كرنے والے كا شراب كے ساتھ تعلق كس طرح قائم ہوتا ہے حتى كہ شراب نوشى كرنے والا نشئى اور شراب كا رسيا اور عادى شراب نوش بن جاتا ہے.

اور پھر شيطان تو بندے كو آہستہ آہستہ اور بتدريج كم سے زيادہ اور چھوٹے سے بڑے اور معصيت و گناہ سے كفر و شرك كي طرف جتنى وہ طاقت ركھے اس طرف لے جاتا ہے اور اس ميں ايك ايك قدم چلتا ہے اور چيز سے دوسرى چيز كي طرف منتقل ہوتا ہے، اور اللہ سبحانہ وتعالى نے بھى سورۃ النور ميں اسى طرف اشارہ كرتے ہوئے فرمايا:

{ايمان والو ! شيطان كے قدم بقدم نہ چلو، جو شخص شيطانى قدموں كي پيروى كرے تو وہ بے حيائى اور برے كاموں كا ہى حكم كرے گا، اور اگر تم پر اللہ تعالى كا فضل و كرم نہ ہوتا تو تم ميں سے كوئى بھى كبھى پاك صاف نہ ہوتا، ليكن اللہ تعالى جسے چاہتا ہے پاك كرديتا ہے اور اللہ تعالى سننے والا اور جاننے والا ہے} النور ( 21 ).

اور اسى معنى كي طرف شاعر بھى يہ كہتا ہوا اشارہ كرتا ہے:

نظر پڑى اور پھر مسكراہٹ نكلى اور پھر سلام اور سلام كے بعد بات چيت ہوئى اور ملاقات كا وعدہ ہوا.

يہ سب كچھ تو ظاہر ہے اور ہر وہ شخص جو نفسوں اور شيطان كے داخل ہونے كي جگہوں كو جانتا اور سمجھتا ہے وہ بھى اس كو جانتا ہے اور پھر شراب اور شراب نوشى كرنے والے ميں تو يہ چيز اور بھى ظاہر ہے .

ايك مشرقى ضرب المثل ہے:

ابتدا ميں تو انسان شراب كا ايك گلاس ليتا ہے .... پھر ايك كے بعد دوسرا گلاس ليتا ہے .. اور پھر شراب كا گلاس ہى انسان كو پكڑ ليتا ہے .

يہ قصہ ڈاكٹر كي ايك نصيحت يا پھر كسى دوست كي نصيحت سے شروع ہوتا ہے كہ كھانے كي چاہت مكمل كرنے كے ليے شراب كا ايك گلاس لو جو تمہيں شعور و احساس ميں بھى مدد مہيا كرے گا يا پھر دوستو و احباب كي مجلس جس ميں شراب كے جام چل رہے ہوں يا پھر كھانے كى دعوت ميں شراب كھانے كا ايك حصہ اورجزء ہو اس كي ابتدا ہوتى ہے ، يا .... يا ... يا ...

پھر آہستہ آہستہ شراب اور نفس كے مابين روابط اور تعلقات بڑھنا شروع ہوتے ہيں حتى كہ شراب انسان كي زندگى كا ايك جزء اور حصہ بن جاتى ہے حتى كہ وہ نشئى بلكہ اپنے نشہ اور شراب كا ہى غلام بن جاتا ہے، اسے نشہ كي چاہت اسى طرح ہوجاتى ہے جس طرح ايك مريض دوائى اور علاج كي چاہت اور طلب ہوتى ہے جيسا كہ شاعر بھى كہتا ہے:

اور ايك گلاس ميں نے لذت پر نوش كيا ، اور اس كا ايك گلاس ميں نے اس كے علاج كے ليے پيا.

اس نے پہلے گلاس ميں بغير كسي اول فول اور بكواس كے منفعت - بغير نشہ كے - اور راحت و چستى پائى، اور دوسرا بھى اس جيسا ہى، اور وہ آج كل كے گلاس كا شوق ركھتا ہے، اور اس شراب كے زہريلے مادوں كو قبول كرنے كى عادت بن جانے پر وہ ہر بار اس مقدار سے زيادہ پينے كي ضرورت محسوس كرتا ہے تا كہ اسے وہ راحت اور نشاۃ حاصل ہو جو پہلے گلاس ميں حاصل ہوئى تھى، پھر وہ اتنا نشئى بن جاتا ہے كہ الكحل اور شراب كے استعمال ميں مكمل نظم ركھتا اور اسے پينے ميں زيادہ انہماك كا اہتمام كرتا ہے، اسى ليے اس كے عادى نشئى ہونے كےخلاف سارى ضمانت يہى ہے كہ اسے ايك بار بھى شراب اور الكحل نہ دى جائے.

اسى بنا پر شريعت اسلاميہ كي يہ حكمت ہے كہ اس نے شراب كي كم اور زيادہ مقدار بھى حرام قرار دى ہے، لھذا كم مقدار ہى زيادہ مقدار كي اول اور ابتدا ہے، اور كم مقدار تھوڑى كے ساتھ بھى زيادہ ہے.

چھوٹى چيز كو حقير نہ جانو كيونكہ پہاڑ كنكريوں سے ہى ہيں.

اور آپ كا يہ كہنا كہ: اسلام نے مسلمانوں كے ليے يہ شرط كيوں ركھى ہے كہ وہ شراب اور خنزير كے گوشت سے دور رہيں تا كہ ان كے دين كي اصلاح ہوتى رہے اور ان دونوں كے نقصانات اور ضرر بيان كرنے اور لوگوں كواس ميں اختيار بيان كرنے پر ہى اكتفا كيوں نہيں كيا؟ !

يہ ايسا سوال ہے جو نفس كو بہت بڑے مغالطہ ميں ڈالتا ہے، وگرنہ يا تو ہر ايك كو معلوم ہے كہ سب لوگوں كي عقليں ايك جيسى نہيں كہ ہر ايك نفع اور نقصان كي چيز كا ادراك ايك جيسا ہى كرے، اور پھر ان كے ارادے اور طاقت بھى ايك جيسى نہيں كہ وہ نفع والى چيز كو اختيار كرسكيں اور نقصان دہ چيز كو ترك كرديں، لھذا يہ ممكن ہى نہيں كہ ہر انسان كو اختيار دے كر فرد اور معاشرہ كے معاملات اور سلوك كو منضبط اور مرتب كيا جاسكے .

اور اگر اس معاملہ كو اختيار پر چھوڑ ديا جائے تو شراب نوشى اور اس كے برے اثرات صرف اكيلے شراب نوشى كرنے والے پر ہى نہيں ہونگے حتى كہ اسے اختيار دے ديا جائے كہ وہ جو چاہے كرے، بلكہ يہ ضرر اور نقصانات تو معاشرے كے ہر فرد كو تك جائيں گے لھذا شراب نوشى سے پيدا ہونے والے امراض اور بيمارياں پورے معاشرے كو كمزور كرنے كا باعث بنيں گےكيوكہ معاشرہ افراد كے مجموعے كا نام ہے كسى فرد كا نہيں اور كسي عادى بيمارى سے پيدا ہونے والے مرض كے نقصانات اور ضرر دوسرے كے ليے بھى نقصان دہ ہيں اور اس كے علاج ميں خرچ كيا جانے والا بجٹ بھى دوسرے كے ليے نقصان دہ ہے، جو آپ كو اس نشہ كي عادت سے پيدا ہونے والے جرائم كو روكنے كے ليے صرف ہو نگے.

عالمى ادارہ صحت كى جارى كردہ تفصيلات كے مطابق تيس ملك جن ميں امريكہ، برطانيا، بھى شامل ہيں ميں پائے جانے والے جرائم ميں 86 % فيصد قتل كے جرائم اور50 % فيصد اغوا كے جرائم شراب نوشى كي بنا پر ہوتے ہيں .

اور دنيا كے مختلف ممالك ميں اس طرح كے سروے كي تفصيلات بہت زيادہ ہے.

اور ٹريفك كے حادثات تو اس سے بھى زيادہ اور مشہور ہيں، مثال كے طور پر 1965ميلادى ميں امريكہ كے اندر ٹريفك كے حادثات ميں 49000 لوگ مرے اور 1.800.000لوگ دائمى معذور بن گئے، اس وقت صحت كے عمومى مسؤلين نے يہ اندازہ لگايا كہ ان ميں نصف لوگوں كي موت كا سبب شراب نوشى اور الكحل كا استعمال تھا، اور ان حادثات ميں اس برس مالى نقصان ( 8900 )ملين ڈالر ہوا.

اور جنوبى امريكہ كي رياست چيكى ميں 1966ميلادى ميں ہونے والے ٹريفك حادثات ميں سے 70% ستر فيصد حادثات نشہ كي بنا پر تھے اور پيرس ميں مجموعى حادثات ميں سے دس سے پندرہ فيصد حادثات بھى شراب نوشى كي بنا پر ہوتے ہيں .

پھر سائل پر يہ اعتراض بھى كيا جا سكتا ہے:

كہ كيوں نہ ہم لوگوں كے سامنے چورى كي برائى بيان كريں اور انہيں اختيار ديں كہ جسے چاہيں وہ اختيار كرليں اور ان پر كوئى سزا يا الزام متعين نہ كيا جائے؟ اور اسى طرح قتل اور رشوت ميں بھى، كيوں، كيوں، كيوں، ... ؟

حتى كہ معاشرہ بے قاعدگى اور بے ہنگم ہو جائے اور اسے قابو كرنا ہى مشكل ہو، اور معاشرہ ميں جنگل كا قانون بن جائے يا پھر حيوانى قانون كي شكل اختيار كر لے .

پھر يہى سوال تو ان سب قوانين اور نظاموں پر بھى ہوتا ہے جن پر لوگ اپنى زندگى بسر كررہے ہيں .

اللہ تعالى كے دين جو آسمان سے نازل كردہ ہے سے دور اور عليحدہ ہونے اور اللہ تعالى نے اپنے بندوں كے ليے جو مشروع كيا ہے اس سے باہر نكلنے كى اساس اور بنياد ايك سوچ اور فكر ہے اور وہ سوچ اور فكر يہ ہے كہ انسان كو بغير كسى حكم كا مكلف نہ بنايا جائے جس كي تنفيذ اس پر لازم ہو، يا پھر اسےكسى كام سے منع كيا جائے جسے اس كے لئے ترك كرنا ضرورى ہو، باوجود اس كے كہ امر اور نہى كا التزام كرنا اور حلال و حرام پر عمل كرنا ہى اللہ تعالى عبوديت ہے يہى معنى سب سے بسيط ہے اور عبادت خالصتا اللہ تعالى كا ہى حق ہے كسى اور كي عبادت نہيں كى جا سكتى كيونكہ وہ خالق ہے اور مخلوق ہے كا حق ہے كہ وہ اپنے خالق كي عبادت كرے ، كيونكہ مخلوق پر سب سے اول اور پہلا حق يہى ہے كہ وہ اپنے خالق كي عبادت كرے كيونكہ وہ مخلوق ہے اور اللہ ان كا خالق ہے، اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

{كيا انسان يہ سمجھتا ہے كہ اسے ويسے ہى بيكارچھوڑ ديا جائے گا} القيامۃ ( 36 ) .

يعنى كيا انسان يہ خيال كرتا ہے كہ اللہ تعالى اسے ويسے ہى بغير كسي كام كے مكلف كيے چھوڑ دے گا اور اسے كوئي حكم نہيں كرے گا اور اسے كسى كام سے نہيں روكے گا، پھر اس كے نتيجہ ميں اسے اس كي قبر ميں بھى ويسے ہى چھوڑ دے، نہ تو كوئي حساب و كتاب اور نہ ہى حشر و نشر تو پھرجب كوئي اور امر اور نہى نہ ہو اور كوئي ثواب اور سزا نہ ہو تو پھر عبوديت كہاں اور پھر ہم جنت ميں كس لئے داخل ہونگے؟ !

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments