41086: مریض بیوی کواس کا خاوند ڈیوٹی پر جانے کے لیے مجبورکرتا ہے


مجھے ایک مشکل درپیش ہے اورمیں جاننا چاہتی ہوں کہ میں اس میں خاوند کی اطاعت کروں یا نہ کروں ؟
میں ایک مسلمان عورت اورملازمت کرتی ہوں اور تقریبا دو ہفتوں سے بیمار ہوں ، علاج کے لیے میں ڈاکٹر کے پاس گئي تواس نے دوائی اور کام سے چھٹی کے لیے مجھے ایک لیٹر بھی دیا تا کہ آرام کرسکوں ، خاوند مجھ سے مطالبہ کرتا ہے کہ میں ڈیوٹی پر جاؤں حالانکہ میں ابھی تک بیمار ہوں ۔
یہ میرے لیے مشکل پیدا کرتا اورجب میں بیمار ہوجاؤں اسی مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، میرا خاوند کہتا ہے کہ میں بیماری کا بہانہ کرکے ڈرامہ کرتی ہوں ، اوراس کا خیال ہے کہ میں ملازمت نہیں کرنا چاہتی ، میں اپنی ملازمت سے محبت کرتی اورڈرامہ وغیرہ نہیں کرتی ۔
تو کس طرح میں اپنے خاوند کو اس پر اطمنان دلاسکتی ہوں کہ میں بیمار ہوں اورڈرامہ نہیں کررہی ، کیونکہ وہ میری بات تسلیم نہيں کرتا ؟

الحمدللہ

اول :

سب سے پہلے توہم اس پر متنبہ کرنا چاہتے ہیں کہ بعض اوقات عورت کی ملازمت کرنا حرام بھی ہوتی ہے مثلا جب اس کی ملازمت میں غیر مردوں سے اختلاط اورمیل جول وغیرہ ، یا پھر ایسی چيز بنانا اوربیچنا جوحرام ہے ، یا پھر بنکاری کے نظام وغیرہ میں تو ایسی ملازت حرام ہے ۔

تواگرمذکورہ عورت کی ملازمت اسی طرح کی جس کا ہم نے اوپر بیان کیا ہے توعورت کو چاہیے کہ وہ اس جیسے اعمال سے رک جائے اوراس کے علاوہ کوئي اورمباح اورجائز ملازمت تلاش کرے ۔

اورخاوند پر بھی ضروری اورواجب ہے کہ اپنی بیوی پر احسن انداز میں حسب استطاعت خرچ کرے ، آپ مزید تفصیل کے لیے سوال نمبر ( 33710 ) کا بھی مراجعہ کریں ۔

دوم :

دوسری بات یہ ہے کہ :

اوراگر اس عورت کی ملازمت کسی جائز کام میں ہے ، اوراسے بیماری آدبوچے جس کی بنا پر اس کا ڈیوٹی پر جانا مشکل ہو ، یا پھر اس کی بیماری لمبی ہوجائے اورجلد شفایابی نہ ہو ، یا پھر مرض شدت اختیار کرجائے توخاوند کواس کا خیال رکھنا چاہیے اوراسے تنگ نہیں کرنا چاہیے ، اورخاوند کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنی بیوی سے ایسا مطالبہ کرے جس میں بیوی کوکسی قسم کا ضرر اورنقصان ہو ۔

اورخاوند پر یہ ضروری اورواجب ہے کہ وہ اپنی بیوی سے حسن معاشرت کرتے ہوئے اچھے طریقے سے زندگی بسر کرے ۔

اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

{ اوران عورتوں کے ساتھ اچھے اوراحسن انداز میں بود و باش اورمعاشرت اختیار کرو } النساء ( 19 ) ۔

اوریہ کوئي اچھا طریقہ نہیں کہ بیوی سے اس کی بیماری کی حالت میں ڈیوٹی پر جانے کا مطالبہ کیا جائے ۔

حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اپنی امت کی عورتوں کے بارہ میں مردوں کو یہ وصیت فرماتے ہوئے کہا ہے :

( عورتوں سے اچھائي اوربھلائی کرو اورمیری نصیحت ان کے بارہ میں قبول کرو ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 3331 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1468 ) ۔

اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ : ان عورتوں کے متعلق میری وصیت قبول کرو ، اور ان کے ساتھ نرمی اوراچھا برتاؤ اورحسن معاشرت کرو ۔ ا ھـ دیکھیں فتح الباری ۔

اورخاوند کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ بیوی کی سچائي میں شک نہ کرتا رہے ، بلکہ اس کی اپنی بیوی کے ساتھ توزندگی ثقاہت اوصدق پر قائم ہونی چاہیے نہ کہ شک و شبہ کی بنیاد پر ۔

اورجب خاوند میڈيکل رپورٹ جوکہ بیوی کی بیماری کو ثابت کررہی ہواوربیماری کے آثار سے بھی اس بات پر یقین نہ دلاسکیں کہ اس کی بیوی بیمار ہے توپھر ایسی کون سی چيز ہے جواسے بیماری کا یقین دلائے گي ؟ بلکہ کوئي ایسی چيز نہيں جواسے بیماری کا یقین دلائے ۔

توبیوی کوچاہیے کہ وہ اس سے اپنے رویہ کونرم رکھے اوراس کے ساتھ اچھے طریقے سے معاملات کرے ہوسکتا ہے اللہ تعالی اس کے خاوند کو وہ راہ دکھا دے جس میں اس کے خاندان اوراہل وعیال کی خیر وبھلائي ہو ۔

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments