Thu 24 Jm2 1435 - 24 April 2014
4160

سونے كے سكوں پر تصاوير اور اشكال كا حكم

درج ذيل اشياء كا حكم كيا ہے:
اول:
سونے كے سكے جن پر لفظ جلالہ يا اللہ كے صفاتى نام مثلا عبد الرحمن، عبد اللہ ... الخ كنندہ ہوں ؟
دوم:
وہ سونے كے سكے جن پر مختلف برج مثلا برج عقرب، حمل، ميزان ... الخ كى تصاوير بنائى گئى ہو، چاہے وہ مطبوع ہو كنندہ اوراس كا سايہ بھى ہو، اور اس ميں نماز كا حكم كيا ہے ؟
سوم:
وہ سونے كے سكے جن پر جسم كى بجائے صرف سر كى تصوير بنى ہو ؟
چہارم:
بعض سونے كے سكے اور وہ جو كچھ زيورات ميں شامل كيے جاتے ہيں، اور ان ميں مرد كے چہرے كى سائڈ كى تصوير بنى ہو، مثلا جارج وغيرہ كى تصوير ؟
پنجم:
اسرائيل سٹار، يا صليب يا پھر يہوديوں يا عيسائيوں كے شعار اور علامات ميں كوئى شعار اور علامت بنى ہو ؟
ششم:
مردوں كے ليے مخصوص انگوٹھياں، جن كے متعلق سنار كہتے ہيں كہ ہم يہ صرف غير مسلموں كو ہى فروخت كرتے ہيں ؟

الحمد للہ:

اول:

معدنيان اور پتھر وغيرہ پر قرآنى آيات اور اللہ تعالى كے نام كنندہ نہيں كرنے چاہيے كيونكہ يہ عمل آيات قرآنيہ كو اس عظيم مقصد كے دور كر ديتا ہے جس كے ليے قرآن نازل كيا گيا ہے، اور پھر يہ بھى خدشہ ہے كہ لفظ جلالہ اور آيات كى اہانت ہو.

دوم:

برج بنانا جاہليت كى سوچ ہے، اس ليے مسلمان شخص كو اس سے دور رہتے ہوئے اجتناب كرنا چاہيے، اور ہر چيز اور عمل سے دور رہے جس ميں دور جاہليت كے افكار اور سوچ كى احياء ہوتى ہو، چہ جائيكہ اس ميں ذى روح كى تصاوير بھى پائى جاتى ہيں، اس بنا پر سونے كے سكوں پر مختلف قسم كى اشكال و تصاوير بنانى جائز نہيں اور نہ ہى ايسى اشكال اور تصاوير والے سكے ركھنے چاہيے، اور نہ ہى اس ميں نماز ادا كرنى چاہيے.

سوم اور چہارم:

ذى روح كى تصاوير كو حرام قرار دينے والا احاديث عام ہيں چنانچہ وہ احاديث ہر اس تصوير كو شامل ہونگى جس پر تصوير كا اطلاق ہوتا ہو، اس كا اطلاق ہوتا ہو كہ وہ ذى روح كى تصوير ہے، اور سر كى تصوير بھى اس ميں شامل ہے، اس بنا پر اس طرح كے سكے بنانا جائز نہيں.

اور ذى روح كى تصاوير بنانا اور اس كى خريدارى حرام ہے؛ كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" بلاشبہ اللہ اور اس كے رسول ( صلى اللہ عليہ وسلم ) نے شراب اور مردار، اور خنزير اور بتوں كى خريد و فروخت منع فرمائى ہے "

صحيح بخارى ( 3 / 43 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 3 / 1207 ).

اور اس ليے بھى كہ ہو سكتا ہے يہ چيز لوگوں كے ليے غلو كا سبب بنے، جيسا كہ نوح عليہ السلام كى قوم ميں ہوا تھا.

صحيح بخارى ميں ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما سے مروى ہے كہ اللہ تعالى كے فرمان:

﴿ اور انہوں نےكہا كہ ہرگز اپنے معبودوں كو نہ چھوڑنا، اور نہ ود اور سواع اور يغوث اور يعوق اور نسر كو چھوڑنا ﴾نوح ( 23 ).

كى تفسير ميں ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما نے كہا:

" يہ نوح عليہ السلام كى قوم كے نيك و صالح آدميوں كے نام ہيں، اور جب يہ لوگ فوت ہو گئے تو شيطان نے ان كى قوم كے دلوں ميں ڈالا كہ وہ ان كى تصاوير اپنى بيٹھنى والى جگہوں ميں لگائيں جہاں ان كے بڑے لوگ بيٹھتے تھے، اور انہوں نے ان كو نام بھى انہى كے ديں، تو انہوں نے ايسا ہى كيا ليكن ان كى عبادت نہيں كى جاتى تھى، ليكن جب يہ لوگ فوت ہو گئے اور علم ختم ہو گيا تو ان كى عبادت كى جانے لگى "

صحيح بخارى ( 6 / 73 ).

اس كے علاوہ اور بھى بہت سارى نصوص ہيں جن ميں تصوير اور ذى روح كى تصاوير كے استعمال كو حرام كيا گيا ہے.

يہ تو اس كے متعلق ہے جو ذى روح كى شكل اور صورت ميں ہو، ليكن وہ اشياء جن پر ذى روح كى تصاوير اور اشكال كنندہ ہوں چاہے وہ سونے كا سكہ ہو يا چاندى كا، يا پھر كاغذ كا يا كپڑے كا يا كوئى آلہ ہو، اگر تو وہ لوگوں ميں عام ہو اور اسے ديواروں پر لٹكايا جاتا ہوجس ميں اس كى اہانت اور توہين شمار نہ ہو، تو اس كا لين دين حرام ہے، كيونكہ تصوير كى حرمت اور ذى روح كى تصاوير كے استعمال والے دلائل كو شامل ہے.

اور اگر وہ چيز جس پر تصاوير ہوں اس كى اہانت ہوتى ہو مثلا كوئى آلہ جس سے كاٹا جاتا ہو،يا پھر چٹائى اور قالين جسے روندھا جاتا ہو، يا تكيہ جس پر ٹيك لگا كر بيٹھا جاتا ہو تو يہ جائز ہے، كيونكہ صحيح بخارى اور صحيح مسلم ميں عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا سے مروى ہے كہ:

" انہوں نے ايك پردہ لگايا جس ميں تصاوير تھيں، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے آكر اسے كھينچ كر اتار ديا "

عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ: ميں نے اسے كاٹ كر دو تكيے بنا ديے جس پر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم بيٹھا كرتے تھے "

صحيح بخارى ( 6 / 247 ، 214 ، 103 ) صحيح مسلم ( 3 / 116، 1169 ) حديث نمبر ( 2107 ).

اور مسند احمد كے الفاظ ہيں:

" ميں نے اسے كاٹ كر دو تكيے بنا ديے، اور ميں نے ديكھا كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم ان ميں سے ايك تكيے پر ٹيك لگائے ہوئے تھے اور اس ميں تصاوير تھيں "

ليكن يہ علم ميں رہے كہ ذى روح كى تصاوير حرام ہيں، نہ تو يہ كام ميں بنائى جا سكتى ہيں، اور نہ ہى لباس وغيرہ ميں، اس كے دلائل اوپر بيان ہو چكے ہيں.

پنجم:

اس طرح كے سكے بنانے جائز نہيں جن پر كفريہ شعار اور علامات كنندہ ہوں، اور سنار اور دوكانوں والوں كا يہ كہنا كہ وہ صرف غير مسلموں كو ہى فروخت كرتے ہيں مسلمانوں كو نہيں انہيں اس عمل كے ليے جواز فراہم نہيں كرتا، كيونكہ وہ دار اسلام ميں ہيں، اور جو شخص بھى دار الاسلام ميں ہو اسے وہى كام كرنا ہوگا جو شريعت اسلاميہ اس كے ليے جائز قرار دے.

اور يہ حجت اور دليل بالكل اس شخص كى دليل جيسى ہى ہے جو شراب فروخت كرے اور يہ كہے: كہ ميں تو شراب صرف غير مسلموں كو فروخت كرتا ہوں، مسلمانوں كو نہيں، كيونكہ مردوں كے ليے سونے كى انگوٹھى حرام ہے.

ماخوذ از: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 13 / 68 – 69 - 73 ).
Create Comments