Fri 18 Jm2 1435 - 18 April 2014
41731

جمعہ كے روز بيٹھے ہوئے لوگوں كى گردنيں پھلانگنے كى حرمت

گزارش ہے كہ جمعہ كے روزہ لوگوں كى گردنيں پھلانگنے كا حكم بيان كريں، آيا يہ حلال ہے يا حرام ؟

الحمد للہ:

ابو داود اور ابن ماجہ ميں عبد اللہ بن بسر رضى اللہ تعالى عنہ سے حديث مروى ہے كہ:

" نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم جمعہ كا خطبہ ارشاد فرما رہے تھے كہ ايك شخص لوگوں كى گردنيں پھلانگتا ہوا آيا، تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اسے فرمايا:

" بيٹھ جاؤ آپ نے يقينا تكليف سے دوچار كيا ہے "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 1118 ) سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 1115 )

علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح ابو داود ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

اس حديث ميں نماز جمعہ كے ليے بيٹھے ہوئے اشخاص كى گردنيں پھلانگنے كى ممانعت بيان ہوئى ہے.

اس كے حكم ميں علماء كرام كے دو قول ہيں:

پہلا قول:

ايسا كرنا مكروہ ہے، اسے ابن منذر نے جمہور علماء كرام سے نقل كيا ہے، اور ابن حجر رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں: اكثر علماء كرام كے ہاں يہ كراہت تنزيہى ہے، شافعيہ كے ہاں يہى مشہور ہے، اور حنابلہ كى ايك روايت.

ديكھيں: فتح البارى ( 2 / 392 ) كشاف القناع ( 2 / 44 ) المجموع ( 4 / 466 ).

امام مالك اور اوزاعى رحمہما اللہ نے اس ميں قيد يہ لگائى ہے كہ: جب امام منبر پر خطبہ دے رہا ہو تو يہ مكروہ ہے.

مدونہ ميں ہے: امام مالك رحمہ اللہ كا كہنا ہے كہ: جب امام نكل كر منبر آ جائے تو گردنيں پھلانگنا مكروہ ہے، جو بھى اس وقت گردن پھلانگے گا وہ اس حديث كے تحت آئے گا، ليكن جو شخص امام سے پہلے آئے اور نمازيوں كے مابين جگہ ہو تو ايسا كرنے ميں كوئى حرج نہيں، ليكن وہ اس ميں نرمى كرے" انتھى

ديكھيں: المدونۃ ( 1 / 159 ).

دوسرا قول:

مطلقا گردنيں پھلانگنا حرام ہے چاہے جمعہ كا دن ہو يا كوئى اور، اس كى دليل عبد اللہ بن بسر رضى اللہ تعالى عنہ كى حديث ہے:

" نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم خطبہ جمعہ ارشاد فرما رہے تھے كہ ايك شخص لوگوں كى گردنيں پھلانگتا ہوا آيا تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اسے فرمايا:

" بيٹھ جاؤ تم نے بہت اذيت دى "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 1118 ) سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 1115 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح ابو داود ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

امام ترمذى كہتے ہيں:

" اہل علم كے ہاں اس پر عمل ہے، انہوں نے جمعہ كے روز لوگوں كى گردن پھلانگنے كو مكروہ قرار ديا ہے، اور اس ميں بہت شدت كى ہے" انتہى

محققين ميں سے ايك جماعت مثلا ابن منذر، ابن عبد البر، امام نووى، اور شيخ الاسلام ابن تيميہ وغيرہ نے اسے راجح كہا ہے، جيسا كہ اختيارات الفقھيۃ ( 81 ) ميں ہے، اور معاصرين ميں سے الشيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى نے.

تحريم والے قول كى تعليل كرتے ہوئے ابن منذر كہتے ہيں:

كيونكہ تھوڑى اور زيادہ اذيت دينا حرام ہے، اور يہ بھى اذيت ہے، جيسا كہ صحيح حديث ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے گردنيں پھلانگنے والے شخص كو ديكھ كر فرمايا:

" بيٹھ جاؤ يقينا تم نے اذيت سے دوچار كيا "

ديكھيں: المجموع ( 4 / 467 ).

اور " التمھيد " ميں ابن عبد البر كہتے ہيں:

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا جمعہ كے روز لوگوں كى گردنيں پھلانگنے والے كو" تو نےاذيت سے دوچا كيا" كہ كر يہ بيان كيا ہے گردن پھلانگنا اذيت ہے، اور كسى بھى حال ميں مسلمان كو اذيت دينا حرام ہے، چاہے جمعہ ہو يا بغير جمعہ كے.

ديكھيں: التمھيد ( 1 / 316 ).

امام نووى رحمہ اللہ كا كہنا ہے:

" مختار مسلك يہى ہے كہ احاديث كى بنا پر گردنيں پھلانگنا حرام ہے"

ديكھيں: روضۃ الطالبين ( 11 / 224 ).

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى كا كہنا ہے:

" خطبہ وغيرہ كى حالت ميں گردنيں پھلانگنا حرام ہے، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے لوگوں كى گردنيں پھلانگنے والے كو فرمايا تھا:

" بيٹھ جاؤ تم نے يقينا اذيت سے دوچار كيا "

اور دوران خطبہ تو اس كى اور بھى زيادہ تاكيد ہو جاتى ہے؛ كيونكہ اس ميں لوگوں كو اذيت ہوتى ہے، اور خطبہ سننے ميں دخل اندازى كا باعث ہے چاہے كسى خالى جگہ كے ليے ہى گردنيں پھلانگى جائيں؛ كيونكہ اذيت كى علت موجود ہے" انتہى

ديكھيں: فتاوى و رسائل الشيخ ابن عثيمين ( 16 / 147 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments