41899: قربانى كے جانور ميں عمر كا خيال ركھنا


كيا قربانى كے جانور كے ليے كوئى عمر معين ہے ؟
اور كيا ڈيڑھ سال كى گائے قربانى ميں ذبح كي جا سكتى ہے ؟

الحمد للہ:

اول:

علماء كرام كا اتفاق ہے كہ شريعت مطہرہ نے قربانى كے جانور كے ليے عمر كى حد متعين كى ہے اس سے كم عمر كا جانور ذبح كيا جائے تو اس كى قربانى نہيں ہو گى.

ديكھيں: المجموع للنووى ( 1 / 176 ).

اس كى دليل كئى ايك احاديث ميں پائى جاتى ذيل ميں چند ايك احاديث پيش كى جاتى ہيں:

بخارى اور مسلم نے براء بن عازب رضى اللہ تعالى عنہما سے روايت كيا ہے كہ:

" ميرے ايك ماموں جن كا نام ابوبردہ تھا نماز عيد سے قبل ہى قربانى كا جانور ذبح كر ديا تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے انہيں فرمايا:

" تيرى بكرى ايك عام گوشت والى بكرى تھى "

تو انہوں نے عرض كيا: اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم ميرے پاس گھر كى ايك بكرى كا جذعہ ہے.

صحيح بخارى حديث نمبر ( 5556 ) صحيح مسلم حديث نمبر( 1961 )

اور ايك روايت ميں ہے كہ:

" عناق جذعۃ " كے لفظ ہيں.

اور بخارى كى ايك روايت ميں ہے:

" ميرے پاس جذعہ ہے جو دوندے سے بھى بہتر ہے، كيا ميں اسے ذبح كر لوں ؟ "

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

ذبح كر لو، اور تيرے علاوہ كسى اور كے ليے صحيح نہيں "

اور ايك روايت ميں ہے:

" تيرے بعد كسى اور كے ليے جائز نہيں "

پھر رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جس نے نماز سے قبل ذبح كيا تو اس نے وہ جانور اپنے ليے ذبح كيا ہے، اور جس نے نماز كے بعد ذبح كيا تو وہ اس كى قربانى ہے، اور اس نے مسلمانوں كى سنت پر عمل كيا "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 5563 ).

اس حديث ميں ہے كہ بكرى كا جذعہ قربانى كے ليے جائز نہيں، اور جذعہ كا معنى آگے بيان كيا جا رہا ہے.

ابن قيم رحمہ اللہ تھذيب السنن ميں كہتے ہيں:

قولہ: " اور تيرے بعد كسى اور كے علاوہ كفائت نہيں كرے گا "

يہ قطعى نفى ہے كہ اس كے بعد كسى كے ليے بھى جائز نہيں " انتہى.

جابر رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" دو دانتے ( دوندا ) كے علاوہ كوئى جانور ذبح نہ كرو، ليكن اگر تمہيں وہ ملنا مشكل ہو جائے تو پھر بھيڑ كا جذعہ ذبح كر لو "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 1963 ).

اس حديث ميں بھى اس بات كى صراحت پائى جاتى ہے كہ دو دانتا ہى ذبح كرنا ضرورى ہے، ليكن بھيڑ كى نسل سے جذعہ كفائت كر جائيگا.

مسلم كى شرح ميں امام نووى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

علماء كرام كا كہنا ہے كہ:

" مسنہ اونٹ، گائے، بكرى ميں سے دو دانتے اور اس سے زيادہ والے كو كہتے ہيں، يہ صراحت اس ليے ہے كہ بھيڑ كے جذعہ كے علاوہ كوئى بھى جذعہ كسى بھى حالت ميں جائز نہيں " انتہى.

اور حافظ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" حديث كا ظاہر يہ تقاضا كرتا ہے كہ: بھيڑ كا جذعہ بھى اس وقت جائز ہے جب دو دانتا نہ ملے، اور اجماع اس كے خلاف ہے، چنانچہ اس كى تاويل كرنا ضرورى ہے كہ اسے افضليت پر محمول كيا جائےگا، اس كى تقدير يہ ہو گى كہ: مستحب يہ ہے كہ دو دانتے كے علاوہ كوئى نہ ذبح كيا جائے " انتہى

ديكھيں: التلخيص ( 4 / 285 ).

اور امام نووى رحمہ اللہ نے بھى مسلم كى شرح ميں ايسے ہى كہا ہے.

اور عون المعبود ميں ہے:

" يہ تاويل لازمى اور متعين ہے " انتہى.

پھر قربانى ميں بھيڑ كے جذعہ كے جواز ميں كچھ احاديث ذكر كى ہيں جن ميں سے ايك يہ بھى ہے:

عقبہ بن عامر رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ:

" ہم نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے ساتھ بھيڑ كے جذعہ كى قربانى كى "

سنن نسائى حديث نمبر ( 4382 ) حافظ رحمہ اللہ نے اس كى سند كو قوى كہا ہے، اور علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح نسائى ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

اور الموسوعۃ الفقھيۃ ميں قربانى كى شروط ميں ہے:

دوسرى شرط:

وہ جانور قربانى كى عمر كو پہنچا ہوا ہو، وہ اس طرح كہ اونٹ، گائے اور بكرى ميں سے دو دانتا يا اس سے زيادہ ہو، يا پھر بھيڑ سے جذعہ سے بڑا ہو، بھيڑ كے علاوہ دو دانتے سے كم عمر كا كوئى جانور قربانى كے ليے جائز نہيں، اور نہ ہى بھيڑ كے جذعہ سے كم عمر كا...

اس شرط پر سب فقھاء متفق ہيں، ليكن جذعہ اور دو دانتا كى تفسير ميں ان كے مابين اختلاف پايا جاتا ہے " انتہى.

ديكھيں: الموسوعۃ الفقھيۃ ( 5 / 83 ).

اور ابن عبد البر رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" جس جانور كى قربانى دى جاتى ہے ان ميں سے اور بكرى كے جذعہ كى قربانى كرنا جائز نہيں، صرف بھيڑ كے جذعہ كى قربانى ہو سكتى ہے، بلكہ سب جانوروں ميں سے دو دانتا يا اس سے زيادہ عمر كا جانور ذبح كرنا جائز ہے، اور سنت نبويہ كے مطابق بھيڑ كا جذعہ قربانى كيا جا سكتا ہے " انتہى

ديكھيں: ترتيب التمھيد ( 10 / 267 ).

اور " المجموع " ميں امام نووى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" امت كا اس پر اجماع ہے كہ اونٹ، گائے اور بكرى ميں سے دو دانتا ہى قربانى كرنا جائز ہے، اور بھيڑ كا جذعہ ذبح كيا جا سكتا ہے، اور يہ مذكورہ اشياء قربانى ميں كفائت كرتى ہيں، الا يہ كہ جو ہمارے اصحاب ابن عمر اور امام زھرى نے بيان كيا ہے كہ:

" بھيڑ ميں سے جذعہ كفائت نہيں كرتا "

اور عطاء، اوزاعى كہتے ہيں كہ: اونٹ، گائے، بكرى اور بھيڑ سب كا جذعہ كفائت كرےگا " انتہى.

ديكھيں: المجموع للنووى ( 8 / 366 ).

دوم:

بالتحديد قربانى كى عمر ميں علماء كرام كا اختلاف ہے:

احناف اور حنابلہ كے ہاں بھيڑ ميں سے جذعہ اسے كہتے ہيں جو مكمل چھ ماہ كا ہو.

اور مالكيہ اور شافعيہ كے ہاں ايك سال كا جذعہ شمار ہوتا ہے.

اور مسنۃ يعنى دو دانتا: احناف، مالكيہ، حنابلہ كے ہاں بكرى ميں دو دانتا ايك سال كا ہے، اور شافعيہ كے ہاں دو سال كا.

گائے ميں سے احناف، شافعيہ، حنابلہ كے ہاں دو دانتا وہ ہے جو مكل دو سال كا ہو، اور مالكيہ كے ہاں مكمل تين برس كا.

اور اونٹ ميں سے احناف، شافعيہ، مالكيہ، حنابلہ كے ہاں دو دانتا وہ ہے جو مكمل پانچ برس كا ہو.

ديكھيں: بدائع الصنائع ( 5 / 70 ) البحر الرائق ( 8 / 202 ) التاج والاكليل ( 4 / 363 ) شرح مختصر خليل ( 3 / 34 ) المغنى ( 13 / 368 ).

اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ " احكام الاضحيۃ " ميں كہتے ہيں:

" اونٹ ميں سے دو دانتا وہ ہے جو مكمل پانچ برس كا ہو، اور گائے ميں مكمل دو سال كا، اور بكرى ميں سے ايك سال كا.

اور جذعہ جو نصف سال كا ہو، چنانچہ اونٹ، گائے، بكرى ميں سے دو دانتے سے كم عمر كا جانور قربانى كرنا صحيح نہيں، اور نہ ہى بھيڑ ميں سے جذعہ سے چھوٹا جانور " انتہى.

اور مستقل فتوى كميٹى كے فتاوى جات ميں ہے:

" شرعى دلائل اس پر دلالت كرتے ہيں كہ بھيڑ ميں سے چھ ماہ كا جانور قربانى كے ليے جائز ہے، اور بكرى ميں سے ايك برس اور گائے ميں سے دو سال، اور اونٹ ميں سے پانچ برس كا قربانى كرنا جائز ہے، اس سے چھوٹا جانور نہ تو حج كى قربانى ميں لگےگا اور نہ ہى عام قربانى ميں، كيونكہ كتاب و سنت كے دلائل ايك دوسرے كى تفسير كرتے ہيں " انتہى.

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 11 / 377 ).

اور كاسانى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

عمروں كا يہ اندازہ جو ہم نے كہا ہے وہ نقص منع كرنے كے ليے ہے نہ كہ زيادہ منع كرنے كے ليے؛ تا كہ كوئى شخص اس سے كم عمر كا جانور ذبح كرے گا تو يہ جائز نہيں، اور اگر وہ اس سے بڑى عمر كا جانور ذبح كرتا ہے تو جائز ہوگا، اور يہ افضل ہوگا، اور قربانى ميں نہ تو حمل اور نہ ہى چھوٹا سا بچہ، اور نہ ہى بچھڑا، اور فصيل ذبح كرنا جائز ہے، كيونكہ شريعت ميں وہى عمريں بيان ہوئى ہيں جو ہم بيان كر چكے ہيں اور ان كا نام نہيں ليا گيا " انتہى

ديكھيں: البدائع الصنائع ( 5 / 70 ).

چنانچہ اس سے يہ واضح ہوا كہ دو سال سے چھوٹى گائے ذبح كرنا جائز نہيں، كسى بھى امام نے اسے جائز نہيں كہا.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments