Sat 19 Jm2 1435 - 19 April 2014
42235

حدیثِ مبارکہ: "یہودیوں اور عیسائیوں سے سلام کرنے میں پہل مت کرو۔۔۔" کیا اسلام کے بارے میں نفرت نہیں پھیلاتی

صحیح مسلم کی حدیث جو کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (یہود و نصاری سے سلام میں پہل مت کرو، جب تمہاری ملاقات کسی سے ہو تو اسے تنگ راستے کی طرف مجبور کردو)کیا اس حدیث پر عمل کرنے سے یہ لوگ اسلام میں داخل ہونے سے متنفر نہیں ہونگے؟

الحمد للہ:

تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں

"یہ جاننا ہمارے لئے ضروری ہے کہ دعوت الی اللہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا صاحبِ بصیرت کوئی نہیں ، اللہ کی طرف دعوت دینے والوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے افضل راہنما ہیں۔

جب ہم یہ بات ذہن نشین کر لیں تو اسکے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی بھی فرمان ہمیں حکمت سے عاری نظر آئے تو ہم فرمانِ نبوی کی بجائے اپنی عقل کو قصور وار ٹھہرائیں گے، اور کہیں گے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کو سمجھنے میں غلطی لگ رہی ہے، لیکن اسکا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہم ہر فرمانِ رسالت کو اپنی عقل اور فہم کیمطابق پرکھنا شروع کردیں، اس لئے ہماری عقل محدود ہے، شریعت میں کچھ عمومی قواعد موجود ہیں جن کا خاص جزئی مسائل میں کلیدی کردار ہوتا ہے"

چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان : (یہود و نصاری سے سلام میں پہل مت کرو، جب تمہاری ملاقات کسی سے ہو تو اسے تنگ راستے کی طرف مجبور کردو) کا مطلب ہے کہ: راستے میں جب ان سے ملو تو انکے کیلئے راستہ کھلا مت چھوڑو، کہ وہ چوڑے ہو کر چلیں اور تم تنگی میں پڑ جاؤ، بلکہ تم اپنے راستے پر چلتے جاؤ، اور اگر راستے میں کہیں تنگی ہو تو اُنہیں اس تنگی میں جانے دو خود مت جانا، اور اس حدیث کے سمجھنے کیلئے یہ بات معروف ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی مدینہ میں کسی کافر یہودی کو دیکھ کر اسے دیوار کی طرف نہیں دھکیلا، کہ اُسے دیوار کے ساتھ ہی لگا دیا ہو، اور نہ ہی یہ کام صحابہ کرام نے پوری دنیا میں فتوحات کے بعد کیا ۔

چنانچہ اس حدیث کا معنی یہ ہوا کہ، تم ان سے سلام کی ابتدا نہ کرو، اور نہ ہی راستہ کھلا کرو، اور اگر راستے میں وہ ملیں تو تم انہیں راستہ دینے کیلئے نہ بکھرو، بلکہ تم جیسے جا رہے ہو ویسے ہی چلتے رہو، اور اگر راستے میں کوئی تنگی ہو تو اُنہیں تنگی میں جانے دو۔

اس حدیث میں اسلام کے متعلق نفرت نہیں ہے، بلکہ اس میں مسلمان کے وقار کو ظاہر کیا گیا ہے، کہ وہ اپنے رب کے علاوہ کسی کے سامنے نہیں جھکتا"انتہی

کچھ تبدیلی کے ساتھ مجموع فتاوی ابن عثیمین (3/38) سے ماخوذ ہے.

اسلام سوال و جواب
Create Comments