42629: ان كے ساتھ نماز ادا كرنے كا حكم


ميں ايك ايسى بستى ميں رہائش پذير ہوں جہاں بہت مشكلات ہيں وہ آپس ميں لڑتے ہيں، اور امام اراضى پر ظلم كرتا ہے، تو كيا ان كے ساتھ نماز ادا كرنا جائز ہے ؟

الحمد للہ:

ہم اللہ تعالى سے دعا گو ہيں كہ وہ آپ كى اس بستى اور سارے مسلمان ممالك كى بھى اصلاح فرمائے، اور وہاں كے رہائشيوں كو سيدھى راہ دكھائے، اور فتن و فساد اور شيطان كى چالوں كو ان كے مابين سے ختم فرمائے، اور تمہارے ليے كوئى صالح امام ميں آسانى پيدا فرمائے جو اللہ تعالى كے حكم كے مطابق تمہيں نماز پڑھائے، اور اپنے قول و عمل سے تمہارے پروردگار كى طرف آپ كى راہنمائى فرمائے.

اس طرح كے امام كو اس عظيم دينى منصب نماز ميں لوگوں كى امامت پر فائز نہيں كرنا چاہيے، بلكہ اسے اس منكر اور برائى سے روكنا، اور اس پر ڈانٹ ڈپٹ كرنى چاہيے، اور اگر وہ اپنے ظلم اور برائى سے بغير بائيكاٹ كيے باز نہ آئے تو اس سے بائيكاٹ كرنا چاہيے، ليكن اس كے پيچھے نماز كى ادائيگى ترك كرنا جائز نہيں، ليكن اگر اس كے علاوہ كوئى اور امام مل جائے جو اس سے زيادہ دينى علم ركھتا ہو، اور ظلم و خواہشات سے دور رہے تو پھر ہو سكتا ہے.

آپ كى اس بستى كے رہائشي نمازيوں كے ساتھ آپ بھى نماز ادا كريں، اگرچہ وہ فى نفسہ فاسق اور ظالم ہى ہوں.

شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

اگر مقتدى كو علم ہو جائے كہ بدعتى امام اپنى بدعت كى طرف دعوت ديتا ہے، يا فاسق جس كا فسق ظاہر ہے، اور وہ مستقل امام ہو جس كے علاوہ كسى اور كے پيچھے نماز ادا كرنى جائز نہ ہو، مثلا جمعہ اور عيدين كا امام اور ميدان عرفات ميں نماز حج كا امام وغيرہ.

عام سلف اور خلف اہل علم كے ہاں مقتدى اس كے پيچھے نماز ادا كرے گا امام احمد، شافعى، اور ابو حنيفہ وغيرہ رحمہم اللہ كا مسلك يہى ہے.

اسى ليے انہوں نے عقائد ميں كہا ہے:

ہر نيك اور فاجر امام كے پيچھے نماز جمعہ اورعيد ادا كى جائے گى.

اور اسى طرح اگر بستى ميں صرف ايك ہى امام ہو تو اس كے پيچھے نماز باجماعت ادا كى جائيگى، كيونكہ جماعت اكيلے آدمى كى نماز سے بہتر ہے اور افضل ہے، چاہے امام فاسق ہى ہو، جمہور علماء كرام احمد بن حنبل، شافعى رحمہم اللہ وغيرہ كا مسلك يہى ہے، بلكہ امام احمد رحمہ اللہ تعالى كے ظاہر مذہب ميں جماعت فرض عين ہے.

اور جو كوئى فاجر امام كے پيچھے نماز ترك كردے امام احمد وغيرہ آئمہ كے ہاں مبتدع ہے.

صحيح يہ ہے كہ وہ اس كے پيچھے نماز ادا كرنے كے بعد اسے نہيں لوٹائے گا؛ كيونكہ صحابہ كرام رضى اللہ تعالى عنہم فاجر قسم كے آئمہ كرام كے پيچھے نماز جمعہ اور نماز باجماعت ادا كيا كرتے اور اسے لوٹاتے نہيں تھے، جيسا كہ ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہ حجاج كے پيچھے نماز ادا كيا كرتے تھے، اور ابن مسعود رضى اللہ تعالى عنہ وغيرہ وليد بن عقبہ كے پيچھے نماز ادا كيا كرتے تھے حالانكہ وہ شراب نوش تھا، حتى كہ ايك بار اس نے انہيں فجر كى نماز چار ركعت پڑھا دى، اور پھر كہنے لگا: كيا اور زيادہ پڑھاؤں ؟

تو ابن مسعود رضى اللہ تعالى عنہ كہنے لگے: جب سے ہم تيرے ساتھ ہيں آج تك زيادہ ہى ہو رہا ہے !! اسى ليے اس كا معاملہ عثمان كى طرف اٹھايا گيا...

فى نفسہ فاسق اور مبتدع كى نماز صحيح ہے؛ چنانچہ جب اس كے پيچھے نماز كى جائے تو اس كى نماز باطل نہيں ہوتى، ليكن جنہوں نے اس كے پيچھے نماز ادا كرنا مكروہ قرار ديا ہے اس نے يہ مكروہ اس ليے كہا ہے كہ برائى سے منع كرنا، اور نيكى كا حكم دينا واجب ہے، اور اس ميں ( يعنى امر بالمعروف اور نھى عن المنكر ) يہ شامل ہے كہ جس نے بدعت ظاہر كى، يا فسق و فجور كا اظہار كيا، اسے مسلمانوں كا امام نہيں بنايا جائيگا، اس ليے كہ وہ تعزير كا مستحق ہے حتى كہ وہ اس سے توبہ كر لے.

اور اگر توبہ كرنے تك اس سے بائيكاٹ كرنا ممكن ہو تو يہ بہتر ہے، اور اگر كچھ لوگ اس كے پيچھے نماز ادا كرنا ترك كے كسى اور كے پيچھے ادا كريں تو اس كا اثر ہوگا حتى كہ وہ توبہ كرلے يا اسے معزول كر ديا جائے، يا پھر اس طرح كے گناہ سے لوگ باز آ جائيں..

تو اس طرح كے شخص نے اگر اس كے پيچھے نماز ادا كرنى ترك كردى تو اس ميں مصلحت ہے، اور مقتدى كى نماز جمعہ اور نماز باجماعت فوت نہ ہو ليكن اگر اس كے پيچھے نماز ادا نہ كرنے سے نماز باجماعت اور جمعہ فوت ہوتا ہو تو يہاں ان كے پيچھے نماز ادا كرنا ترك نہيں كي جائيگى، الا يہ كہ وہ مبتدع صحابہ كرام كا مخالف ہو.

اور اسى طرح اگر مستقل امام جسے حكمران نے مقرر كيا ہو، اور اس كے پيچھے نماز ادا نہ كرنے ميں كوئى مصلحت نہ ہو، تو يہاں اس كے پيچھے نماز ترك نہيں كى جائيگى، بلكہ امام كے پيچھے نماز ادا كرنا زيادہ افضل ہے.

ديكھيں: مجموع الفتاوى ( 23 / 352 ).

امام طحاوى رحمہ اللہ تعالى اپنى كتاب " عقيدہ " جس ميں انہوں نے اہل سنت كے اصول بيان كيے ہيں كہتے ہيں:

( ہم ہر نيك اور فاجر اہل قبلہ كے پيچھے نماز ادا كرنا صحيح سمجھتے ہيں اور ان ميں سے فوت ہو جانے والے پر رحمت كى دعا كرتے ہيں )

اور اس معنى كى ابو داود ميں حديث بھى ہے:

ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" فرضى نماز ہر نيك مسلمان كے پيچھے واجب ہے، چاہے وہ نيك ہو يا فاجر، چاہے وہ كبيرہ گناہ كا مرتكب ہو "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 594 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے ضعيف ابو داود ميں اسے ضعيف قرار ديا ہے.

باوجود اس كے كہ اس حديث كى سند ثابت نہيں، جيسا كہ عون المعبود ميں عقيلى، اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالى سے نقل كيا گيا ہے، شوكانى رحمہ اللہ تعالى كا كہنا ہے:

ليكن پہلے دور كے علماء ميں باقى صحابہ كرام اور ان كے ساتھ تابعين عظام كا ظالموں كے پيچھے نماز ادا كرنے ميں اجماع فعلى ثابت ہے، اور اس كے قولى اجماع ہونے ميں كوئى بعد نہيں ہے؛ كيونكہ اس دور ميں گورنر نماز پنجگانہ ميں امام ہوا كرتے تھے، ہر علاقے كا گورنر ہى لوگوں كو نماز پڑھايا كرتا تھا....

امام بخارى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح بخارى ميں " مفتون اور مبتدع كے عنوان سے باب باندھا اور اس كے بعد عبيد اللہ بن عدى بن خيار سے روايت كيا ہے كہ:

وہ محاصرہ كے دوران عثمان بن عفان رضى اللہ تعالى عنہ كے پاس گئے اور انہيں كہنے لگے:

" آپ عمومى امام ہيں ( يعنى آپ لوگوں كے امام ہيں ) اور جو كچھ ہم ديكھ رہے ہيں آپ اس ميں مبتلاء ہيں، اور ہميں اس وقت فتنہ باز امام نماز پڑھا رہا ہے، ہم اس ميں حرج سمجھتے ہيں ؟ ! ( يعنى ہميں اس كے ساتھ نماز ادا كرنے ميں حرج اور گناہ كا خدشہ ہے ). تو عثمان رضى اللہ تعالى عنہ فرمانے لگے:

" لوگوں كا سب سے بہترين اور احسن عمل نماز ہے، جب وہ لوگ احسن عمل كريں تو تم بھى ان كے ساتھ احسن عمل كرو، اور جب وہ برا كريں تو آپ ان كى برائى ميں ان كے ساتھ نہ ہوں بلكہ اجتناب كريں "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 695 ).

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

اس سے ظاہر يہ ہوتا ہے كہ عثمان رضى اللہ تعالى عنہ نے ان كے ساتھ نماز ادا كرنے كى رخصت دى تھى، گويا كہ وہ يہ كہہ رہے ہيں: اس كا فتنہ باز ہونا آپ كو كوئى نقصان اور ضرر نہيں دے گا، بلكہ جب وہ اچھا عمل كرے تو اس كے احسان ميں اس كى موافقت كرو، اور جب فتنہ پھيلائے تو اس كا ساتھ مت دو، اور يہ باب كے سياق كے مطابق ہے.

پھر سھل بن يوسف انصارى كى روايت ذكر كى ہے كہ وہ اپنے باپ سے بيان كرتے ہيں انہوں نے كہا:

جنہوں نے عثمان رضى اللہ تعالى عنہ كا محاصرہ كيا ہوا تھا لوگوں نے ان كے پيچھے نماز ادا كرنا ناپسند كيا، ليكن عثمان رضى اللہ تعالى عنہ نے ناپسند نہ كيا بلكہ فرمايا: جو نماز كى دعوت دے اس كى بات تسليم كرو. انتہى.

وہ كہتے ہيں: كہ ان كے قول " نماز احسن ہے " سے يہ صراحت ہوتى ہے كہ اس سے ان كا مقصود اس كے پيچھے نماز ادا كرنے كا اشارہ تھا، اور اس ميں مصنف كے فہم كى تائيد بھى ہوتى ہے جو انہوں نے فتنہ باز امام سے مفہوم ليا ہے.

حافظ رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

اس اثر ميں نماز باجماعت ميں حاضر ہونے كى ترغيب دى گئى اور ابھارا گيا ہے، اور خاص كر فتنہ و فساد كے دور ميں تا كہ تفرقہ اور زيادہ نہ ہو.

اور اس ميں يہ بھى ہے كہ: جس كے پيچھے نماز ادا كرنا ناپسند ہو اس كے پيچھے نماز ادا كرنا نماز باجماعت كو معطل كرنے سے بہتر ہے.

حاصل يہ ہوا كہ: آپ كا اپنى بستى كے لوگوں كے ساتھ نماز ترك كر كے اپنے گھر وغيرہ ميں اكيلے نماز ادا كرنا جائز نہيں ہے، بلكہ آپ پر لوگوں كے ساتھ نماز باجماعت ادا كرنا واجب ہے، اور اگر آپ عادل اور صالح امام پائيں تو اس كے ساتھ نماز ادا كريں، وگرنہ مذكورہ امام كے ساتھ ہى، آپ كو اپنى نماز اجروثواب ملے گا، اور ا سے اس كے ظلم و ستم اور فجور كا گناہ و بال.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments