43274: ايك شخص نے سمجھا كہ تعجيل منى سے نكل جانا ہے چاہے كنكرياں نہ بھى ماريں ہوں !


ہم نے حج ميں تعجيل ( يعنى منى سے دو يوم بعد نكلنا ) كى اور مغرب سے قبل منى سے نكل گئے تا كہ ہميں تيسرے يوم كے ليے دير نہ ہو جائے، اور مغرب كے بعد ہم دوبارہ منى ميں گئے اور كنكرياں ماريں، تو كيا ہمارا يہ عمل جائز ہے؟
اور كيا جلدى كرنے والے شخص كے ليے دوسرے دن كے غروب شمس سے قبل رمى كرنا شرط ہے، يا رمى كا اس سے كوئى تعلق نہيں، صرف اتنا ہے كہ غروب شمس سے قبل ہى منى سے نكلا جائے؟ اور اگر ہم نے غلطى كى تو ہم پر كيا لازم آتا ہے ؟

الحمد للہ :

تعجيل كا يہ معنى صحيح نہيں، بلكہ تعجيل يہ ہے كہ ايام تشريق كے دوسرے رمى جمرات كر كے غروب شمس سے قبل منى سے نكل جائے، بغير رمى كيے غروب شمس سے قبل منى سے نكلنے كا نام تعجيل نہيں، اور خاص كر جب وہ جمرات كو كنكرياں مارنے كے ليے غروب شمس سے كے بعد منى واپس گيا ہو.

مستقل فتوى كميٹى كے علماء كرام كا كہنا ہے:

جب بارہ ذوالحجہ كو حاجى زوال كے بعد جمرات كنكرياں مار كر غروب شمس سے قبل مكہ وغيرہ چلا جائے تو اس پر تيرہ ذوالحجہ كى كنكرياں مارنا لازم نہيں، اور نہ ہى اس كے حق ميں ايسا كرنا مشروع ہے.

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العليمۃ والافتاء ( 11 / 274 ).

فرمان بارى تعالى ہے:

﴿اور اللہ تعالى كى ياد ان گنتى كے چند دنوں ( ايام تشريق ) ميں كرو، دو دن كى جلدى كرنے والے پر بھى كوئى گناہ نہيں، اور جو پيچھے رہ جائے اس پر بھى كوئى گناہ نہيں، يہ پرہيزگار كے ليے ہے ﴾البقرۃ ( 203 ).

اس آيت كى تفسير ميں مستقل كميٹى كے علماء كرام كہتے ہيں:

آيت كا معنى يہ ہے كہ: جو شخص يوم النحر كے بعد منى ميں دو راتيں بسر كرنے اور گيارہ اور بارہ ذوالحجہ كو تينوں جمرات كو كنكرياں مارنے كے بعد منى سے جلد نكلنا چاہتا ہو تو اس پر كوئى گناہ نہيں، اور اس پر دم واجب نہيں ہوتا، كيونكہ اس نے اپنے ذمہ واجب كو ادا كر ديا ہے.

اور جو شخص تيرہ ذوالحجہ كى رات كى منى ميں بسر كرے اور تيرہ ذوالحجہ كے دن تينوں جمرات كى رمى كرے تو اس پر بھى كوئى گناہ نہيں، بلكہ اس كا منى ميں يہ رات بسر كرنا اور دن كو جمرات كى رمى كرنا افضل اور زيادہ اجروثواب كا باعث ہے، كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ايسا كيا تھا"

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 11 / 267 ).

شيخ فوزان حفظہ اللہ تعالى كا كہنا ہے:

حج كے ايام ميں منى كے اندر قيام كى كم از كم مدت گيارہ اور بارہ ذوالحجہ ـ يعنى عيد كے بعد دو دن ـ ہيں، اور تعجيل يہى ہے، اور اكمل اور زيادہ اجروثواب اس ميں ہے كہ تيرہ ذوالحجہ بھى وہيں رہيں، اور اسے تاخير كہتے ہيں.

اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿اور جو كوئى دو دنوں ميں جلدى كرے اس پر بھى كوئى گناہ نہيں، اور جو تاخير كرے اس پر بھى كوئى گناہ نہيں، يہ پرہيز گاروں كے ليے ہے ﴾البقرۃ ( 203 ).

تو تعجيل كا معنى يہ ہوا كہ:

بارہ ذوالحجہ كو زوال كے بعد رمى كر كے غروب آفتاب سے قبل منى سے نكل جانے كو تعجيل كہتے ہيں، اور اگر اسے منى ميں ہى غروب شمس ہو گيا اور وہ منى سے نہ نكل سكا تو اسے تيرہ تاريخ كى رات منى ميں ہى بسر كر كے صبح ظہر كے بعد تيرہ تاريخ كى رمى بھى كرنا ہو گى.

واللہ اعلم.

فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء فتوى نمبر ( 16386 ).

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى سے دريافت كيا گيا:

ايك حاجى كا خيال تھا كہ بارہ تاريخ كى رمى نہ كرنى تجيل ہے اور اس نے جہالت كى بنا پر منى ميں رات نہ بسر كى اور طواف وداع بھى نہ كيا ايسے شخص كا حكم كيا ہے؟

شيخ رحمہ اللہ تعالى كا جواب تھا:

آپ كا حج صحيح ہے، كيونكہ آپ نے حج كے اركان ميں سے كوئى ركن ترك نہيں كيا، بلكہ تين واجب ترك كيے ہيں:

پہلا واجب: منى ميں رات بسر كرنا تھا.

دوسرا واجب: بارہ تاريخ كى كنكرياں مارنا.

تيسرا واجب: طواف وداع.

يہ تينوں واجب ترك كيے گئے ہيں، اور اہل علم كے ہاں يہ اصول ہے كہ اگر انسان حج ميں واجب ترك كرے تو اس پر دم لازم آتا ہے، جو مكہ ميں ذبح كر كے وہاں كے فقراء ميں تقسيم كيا جائيگا.

ليكن منى ميں ايك رات بسر نہ كرنے سے دم واجب نہيں ہوتا، تو اس مناسبت سے ميں اپنے حاجى بھائيوں كو سائل كى اس غلطى پر متنبہ كرنا چاہتا ہوں، كيونكہ بہت سے لوگ اللہ تعالى كے فرمان:

﴿اور جو كوئى دو دنوں ميں جلدى كرے﴾.

سے يہ سمجھتے اور اس كا مفہوم يہ ليتے ہيں كہ گيارہ تاريخ كو منى سے نكل جائيں، اور وہ دو دن عيد اور گيارہ تاريخ كا دن شمار كرتے ہيں، حالانكہ معاملہ ايسا نہيں بلكہ يہ فہم اور سمجھنے كى غلطى ہے، كيونكہ اللہ تعالى كا فرمان ہے:

﴿اور اللہ تعالى كا معدود اور چند ايام ميں ذكر كرو، اور جو كوئى دو دنوں ميں جلدى كرے﴾.

اور يہاں ايام معدودات سے ايام تشريق مراد ہيں، اور ايام تشريق كا پہلا دن گيارہ تاريخ ہے، تو اس طرح اللہ تعالى كا فرمان:

﴿اور جو كوئى دو دنوں ميں جلدى كرے﴾.

يعنى ايام تشريق ميں اور وہ بارہ تاريخ ہے، اس ليے انسان كو اس مسئلہ ميں اپنا مفہوم صحيح كرنا چاہيے تا كہ وہ غلطى نہ كرے.

ديكھيں: فتاوى الحج سوال نمبر ( 40 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments