43355: نبى صلى اللہ عليہ سلم كا وضوء نيند سے نہيں ٹوٹتا


نيند سے وضوء ٹوٹنے كى كيا دليل ہے ؟
اور ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہ كے ساتھ قيام والى حديث ميں اس كى تفسير كيا كى جائيگى كہ سونے كے بعد نبى صلى اللہ عليہ وسلم نے اٹھ كر بغير وضوء كيے نماز فجر ادا كى ؟

الحمد للہ:

اول:

نيند كے نواقض وضوء ہونے كى دليل درج ذيل حديث ہے:

صفوان بن عسال رضى اللہ عنہ بيان كرتے ہيں كہ:

" جب ہم سفر ميں ہوتے تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم ہميں حكم ديتے كہ ہم اپنے موزے تين دن اور راتيں نہ اتاريں، مگر جنابت سے ليكن پاخانہ اور پيشاب اور نيند سے نہ اتاريں "

سنن ترمذى حديث نمبر ( 89 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے اس حديث كو حسن كہا ہے.

تو اس حديث ميں يہ بيان ہوا ہے كہ نيند نواقض وضوء ميں شامل ہے.

اور سوال نمبر ( 36889 ) كے جواب ميں نيند سے وضوء ٹوٹنے كے متعلق علماء كرام كا اختلاف بيان ہو چكا ہے، اور يہ بھى بيان كيا گيا ہے كہ راجح يہ ہے كہ اگر نيند گہرى ہو تو اس سے وضوء ٹوٹ جاتا ہے، ليكن تھوڑى سى نيند سے وضوء نہيں ٹوٹتا.

دوم:

ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما كى جس حديث كى طرف سائل نے اشارہ كيا ہے اسے بخارى اور مسلم نے روايت كيا ہے وہ درج ذيل ہے:

ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ ميں ميمونہ رضى اللہ تعالى عنہا كے پاس سويا اور اس رات نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم ان كے پاس ہى تھى تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم وضوء كيا اور پھر كھڑے ہو كر نماز ادا كرنے لگے، تو ميں ان كى بائيں جانب كھڑا ہوگيا، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے مجھے پكڑ كر اپنى دائيں جانب كر ديا اور تيرہ ركعات ادا كيں، پھر سو گئے حتى كہ خراٹے لينے لگے، جب رسول كريم صلى اللہ سوتے تو خراٹے ليا كرتے تھے، پھر ان كے پاس مؤذن آيا اور رسول كريم صلى اللہ عليہ چلےگئے اور وضوء نہ كيا "

صحيح بخارى حديث نمبر( 698 ) صحيح مسلم حديث نمبر( 763 ).

اس حديث ميں بيان ہوا ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سوئے اور پھر اٹھ كر نماز ادا كى اور وضوء نہ كيا، اہل علم نے بيان كيا ہے كہ يہ حكم ( نيند سے وضوء نہ ٹوٹنا ) رسول كريم صل اللہ عليہ وسلم كے ساتھ خاص ہے، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى آنكھيں سويا كرتى تھيں ليكن دل نہيں سوتا تھا، اور جب وضوء ٹوٹتا تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو اس كا شعور اور احساس ہو جاتا تھا.

امام نووى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

قولہ: " پھر ليٹ كر سو گئے حتى كہ خراٹے لينے لگے، اور اٹھ كى نماز ادا كى ليكن وضوء نہ كيا "

يہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے خصائص ميں شامل ہے كہ ان كا ليٹ كر سونے سے وضوء نہيں ٹوٹتا؛ كيونكہ ان كى آنكھيں سوتى ہيں ليكن دل نہيں سوتا، جب ہوا خارج ہونے سے وضوء ٹوٹ جائے تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو اس كا علم ہو جاتا ہے، ليكن ان كے علاوہ دوسروں لوگوں كو نہيں " انتہى.

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ كہتے ہيں:

قولہ: ( بغير وضوء كيے ہى نماز ادا كى "

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى آنكھيں سوتى تھيں اور ان كا دل نہيں سويا كرتا تھا، اس ليے اگر ان كا وضوء ٹوٹتا تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو اس كا علم ہو جاتا، اسى ليے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم بعض اوقات نيند سے اٹھ كر وضوء كيا كرتے اور بعض اوقات وضوء نہيں كيا كرتے تھے.

خطابى رحمہ اللہ كہتے ہيں: ان كو دل كو سونے سے اس ليے روك ديا گيا تھا تا كہ انہيں نيند ميں آنے والى وحى كو بھى ياد كرليں " انتہى.

امام بخارى رحمہ اللہ نے عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا سے بيان كيا ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" ميرى آنكھيں تو سوتى ہيں اور دل نہيں سوتا "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 3569 ).

اور اسے مسند احمد نے ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ سے روايت كيا ہے. ديكھيں مسند احمد حديث نمبر ( 7369 )، اور سلسلۃ الاحاديث الصحيحۃ ( 696 ) بھى ديكھيں.

اور ابن ماجہ رحمہ اللہ نے عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا سے بيان كيا ہے كہ:

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سوتے حتى كہ خراٹے لينے لگتے اور پھر اٹھ كر نماز ادا كرتے اور وضوء نہ كرتے تھے "

سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 474 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ابن ماجہ ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

ابن ماجہ كے حاشيہ ميں سندى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

قولہ: " حتى ينفخ " وہ آواز جو سونے والے سے سنائى ديتى ہے.

قولہ: " تو وہ نماز ادا كرتے اور وضوء نہيں كرتے تھے "

اس ليے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى آنكھيں سوتى تھيں اوران كا دل نہيں سوتا تھا، جيسا كہ صحيح بخارى وغيرہ ميں اس كى صراحت موجود ہے، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى نيند وضوء نہيں توڑتى، اس ليے كہ نيند وضوء اس خدشہ كے پيش نظر توڑتى ہے كہ سونے والے سے كى ہوا خارج ہو اوراسے اس كا احساس اور شعور بھى نہ ہو اور جس كا دل نہ سوتا ہو اس كو ايسا نہيں ہوتا.

پھر كہتے ہيں: اس باب ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى نيند والى احاديث ذكر نہيں كرنى چاہيں ( يعنى نيند كے ساتھ وضوء ٹوٹنے كے باب ميں ) ليكن اگر بيان كى جائيں تو يہ بيان ہونا چاہيے كہ يہ حكم رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے ساتھ خاص ہے، لہذا اسے سمجھنا چاہيے " انتہى مختصرا.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments