43635: خاوند كى اجازت كے بغير وراثت سے دستبردار ہونا


چار ماہ كے ليے خاوند سفر پر گيا تو ميں نے عدالت ميں جا كر اپنى مرضى سے والد صاحب كى جانب سے ملنے والى حق وراثت سے دستبردار ہو گئى، ليكن ميرا خاوند ايسا نہيں چاہتا تھا، كيونكہ اس نے ميرے والد كى وفات سے قبل ان سے كچھ زمين خريدى تھى، اور ابھى اس كا رسمى طور پر انتقال نہيں ہوا تھا، ميرے خاوند كو خدشہ ہے كہ ميرے بھائى اس كے حق سے انكار نہ كر ديں، كيا ميں نے ايسا كر كے غلطى تو نہيں كى ؟

الحمد للہ:

جمہور علماء كرام كے قول كے مطابق عورت اپنى مليكت والى چيز ميں جس طرح چاہے تصرف كر سكتى ہے، ليكن شرط يہ ہے كہ عورت عقل و دانش ركھتى ہو.

ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" فصل: خرقى كے كلام كا ظاہر يہ ہے كہ عقل و دانش ركھنے والى عورت اپنے ملكيتى مال ميں مكمل تصرف كر سكتى ہے، چاہے وہ اسے اللہ كى راہ ميں خرچ كر دے، يا پھر معاوضہ ميں دے.

امام احمد رحمہ اللہ سے بھى ايك روايت يہى ہے، اور امام ابو حنيفہ اور امام شافعى اور ابن منذر رحمہم اللہ كا مسلك بھى يہى ہے.

امام احمد رحمہ اللہ سے دوسرى روايت يہ ہے كہ عوض كے بغير ايك تہائى حصہ سے زيادہ كے مال ميں عورت كو تصرف كا حق حاصل نہيں، ثلث سے زائد ميں اسے خاوند كى اجازت لينا ہوگى، امام مالك رحمہ اللہ كا بھى يہى قول ہے " انتہى

مزيد آپ سوال نمبر ( 48952 ) كا بھى مطالعہ كريں.

ديكھيں: المغنى ( 4 / 299 ).

ليكن خاوند كے ساتھ حسن معاشرت كا تقاضا يہ ہے كہ اسے خاوند كو بتانا چاہيے، خاص كر جب مسئلہ ميں يہ بيان ہوا ہے كہ بھائيوں كى جانب سے اس كے خاوند كا حق ضائع ہونے كا احتمال ہے.

جب حقيقتا آپ اپنے حق وراثت سے دستبردار ہو چكى ہيں تو اب آپ اپنے خاوند كو راضى كرنے كى كوشش كريں، اور اپنے بھائيوں كو ياد كرائيں كہ آپ كے خاوند آپ كے والد كى زمين ميں حق ہے جو اس نے خريدى تھى، اس سے انكار نہيں كرنا چاہيے، كيونكہ حقوق ور بہت مقام ركھتے ہيں، اور لوگوں كا ناحق مال كھانا بہت ہى بڑا ظلم اور خطرناك عمل ہے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments