Thu 24 Jm2 1435 - 24 April 2014
44038

مذاق ميں طلاق دينے كا حكم

اگر كوئى شخص اپنى بيوى كو " تجھے طلاق " كے الفاظ بولے ليكن وہ طلاق نہ دينا چاہتا ہو، بلكہ اس سےمذاق كر رہا ہو تو كيا طلاق واقع ہو جاتى ہے يا نہيں ؟

الحمد للہ:

مذاق ميں طلاق دينے والے كى طلاق واقع ہونے ميں علماء كرام كا اختلاف پايا جاتا ہے.

جمہور علماء كرام كہتے ہيں كہ اس كى طلاق واقع ہو جائيگى، اور انہوں نے درج ذيل حديث سے استدلال كيا ہے:

ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" تين چيزيں حقيقت ميں بھى حقيقى ہيں، اور مذاق ميں بھى حقيقت ہى ہيں: نكاح اور طلاق اور رجوع كرنا "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 2194 ) سنن ترمذى حديث نمبر ( 1184 ) سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 2039 )، اس حديث كو صحيح يا ضعيف قرار دينے ميں علماء كا اختلاف پايا جاتا ہے علامہ البانى رحمہ اللہ نے ارواء الغليل ( 1826 ) ميں اسے حسن قرار ديا ہے.

اور اس كا معنى كچھ صحابہ كرام پر موقوف روايت بھى ملتى ہے.

عمر بن خطاب رضى اللہ تعالى عنہ كا فرمان ہے:

" چار چيزوں كى جب كلام كى جائے تو يہ جائز ہيں: طلاق اور آزادى اور نكاح اور نذر "

على رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں:

" تين اشياء ميں كوئى كھيل نہيں ہے: طلاق اور غلام آزاد كرنا، اور نكاح "

ابو درداء ضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ:

" تين اشياء ميں مذاق بھى حقيقي ہى ہے: طلاق اور نكاح اور غلام آزاد كرنا "

ابن قيم رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" ان حاديث ميں ہے كہ: جب مكلف شخص طلاق يا نكاح يا رجوع ميں مذاق كرے تو جو اس نے مذاق كيا ہے وہ اس پر لازم كيا جائيگا، يہ اس بات كى دليل ہے كہ ہازل يعنى مذاق كرنے والے كى كلام معتبر ہے، اور اگرچہ سوئے ہوئے اور بھول كر كرنے والے شخص كى كلام معتبر نہيں ہوتى، اور اسى طرح عقل زائل ہونے والے شخص كى اور جس پر جبر كيا گيا ہو اس كى كلام بھى معتبر نہيں.

ان دونوں ميں فرق يہ ہے كہ: ہازل شخص نے الفاظ كا ارادہ كيا ہے ليكن اس كے حكم كا ارادہ نہ تھا، اور يہ چيز اس كى جانب نہيں، بلكہ اسے كى جانب تو اسباب ہيں، رہا مسئلہ مسبب اور اس كے احكام كا يہ شارع پر ہے، چاہے مكلف شخص ارادہ كرے يا نہ كرے، عقل و دانش ركھتے ہوئے مكلف ہونے كى صورت ميں سبب كو اختيار كرے تو اس كا اعتبار كيا جائيگا.

اس ليے اگر اس نے اس كا قصد كيا تو شارع اس پر حكم لاگو كريگا چاہے وہ اس كو حقيقت ميں اختيار كر رہا ہو يا پھر بطور مذاق اختيار كرے، يہ سوئے ہوئے اور عقل ميں خرابى كى علت ہونے كى وجہ سے ہذيان والے شخص اور مجنون اور عقل زائل ہونے والے شخص كے خلاف ہے، كيونكہ ان كا قصد ہى صحيح نہيں، اور نہ ہى وہ مكلف ہيں، اس ليے ان كے الفاظ لغو اور بےمعنى ہيں، اس بچے كى طرح جو ان كے معانى كو ہى سمجھتا نہيں ہے، اور نہ ہى وہ اس كا قصد ركھتا ہے.

مسئلہ كا سر اور راز يہ ہے كہ: الفاظ كا قصد كرنے والا شخص جو اس كے حكم كا ارادہ نہ ركھتا ہو، اور جو اس كا مقصد بھى نہ ركھے اور نہ ہى اس كے معانى كو جانتا ہو ان دونوں ميں فرق يہ ہے كہ شريعت نے جن مراتب كا اعتبار كيا ہے وہ چار ہيں:

اول:

حكم كا قصد ہو ليكن الفاظ ادا نہ كيے جائيں.

دوم:

الفاظ كا قصد نہ كيا جائے اور نہ ہى حكم كا.

سوم:

الفاظ كا قصد ہو ليكن حكم كا نہ ہو.

چہارم:

الفاظ اور حكم دونوں كا قصد كيا جائے.

پہلے دونوں لغو ہيں، اور آخرى دونوں معتبر ہونگے، مجموعى طور پر نصوص اور اس كے احكام سے يہى حاصل ہوتا ہے " انتہى

ديكھيں: زاد المعاد ( 5 / 204 - 205 ).

اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" حقيقت اور مذاق ميں طلاق دينے والے كى طلاق واقع ہو جائيگى، اور ان دونوں ميں فرق يہ ہے كہ حقيقت ميں طلاق دينے والا شخص الفاظ اور حكم دونوں كا قصد كرتا ہے، ليكن غير حقيقت يعنى مذاق ميں طلاق دينے والے نے الفاظ كا قصد تو كيا ہے ليكن حكم كا نہيں.

چنانچہ حقيقى طور پر طلاق دينے والا شخص جب اپنى بيوى كو طلاق ديتا ہے تو وہ طلاق كا قصد كرتا ہے، ليكن غير حقيقى طور پر مذاق ميں طلاق دينے والا شخص صرف الفاظ كا ارادہ ركھتا ہے حكم كا نہيں، تو مثلا وہ يہ كہےگا ميں تو بيوى سے مذاق كر رہا تھا يا ميں اپنے دوست سے مذاق كر رہا تھا: كہ ميرى بيوى كو طلاق يا اس طرح كے الفاظ كہے، وہ كہےگا ميں نے بيوى كو طلاق كا قصد تو نہيں كيا بلكہ صرف الفاظ كا قصد ضرور كيا تھا.

ہم اسے كہيں گے اس پر حكم مرتب ہوتا ہے، كيونكہ الفاظ تو تم نے ادا كيے ہيں، اور حكم اللہ كى طرف سے ہے.

جب انسان سے معتبر نيت كے ساتھ الفاظ ادا ہوں اور وہ تميز بھى كرنے والا ہو، اور جانتا ہو كہ وہ كيا كہہ رہا ہے اور الفاظ كے معنى بھى جانتا ہو تو يہ واقع ہو گا، اس كا يہ كہنا كہ: ميرا مقصد واقع كرنا نہ تھا، يہ اس كے ذمہ نہيں بلكہ يہ تو اللہ كى طرف ہے.

يہ تو نظر اور علت كے اعتبار سے ہے.

ليكن اثر اور حديث كے اعتبار سے يہ ہے كہ ہمارے پاس ايك حديث ہے جس ميں ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ:

" تين اشياء حقيقت ميں بھى حقيقت ہيں اور ان كا مذاق بھى حقيقت ہے: نكاح اور طلاق اور رجوع "

يہ اثر ميں سے ايك دليل ہے.

اور بعض اہل علم كا كہنا ہے كہ: مذاق ميں طلاق دينے والے كى طلاق واقع نہيں ہوتى، كيونكہ اس كى طلاق كيسے واقع ہو سكتى ہے اس نے تو صرف الفاظ كا ہى قصد كيا ہے ؟

اور بعض اہل علم نے مذاق ميں طلاق ہو جانے كا كہنے والوں كو كہا ہے ان كا يہ قول شنيع ہے ان كا كہنا ہے: تم يہ كہتے ہو كہ اس نے مذاق كيا ہے، تو پھر تم اس كے سے حقيقت ميں ايسا كرنے والے شخص جيسا كيوں معاملہ كرتے ہو ؟

ان كے رد اور جواب ميں ہم يہ كہتے ہيں:

ہم تو وہى كچھ كہہ رہے ہے جس پر دليل دلالت كرتى ہے، اور يہ حديث بھى صحيح ہے، اور بعض نے اسے حسن بھى قرار ديا ہے، بلاشك يہ حديث حجت و دليل ہے، اس ليے ہم نے اسے ليا اور اس سے دليل لى ہے.

پھر نظر كا بھى يہى تقاضا ہے؛ كيونكہ اگر ہم نے اس كو لے ليا اور اس دروازہ كو كھول ديا تو ہر كوئى يہى دعوى كرنے لگے گا كہ ميں تو مذاق كر رہا تھا، اور زمين پر طلاق باقى ہى نہ رہے گى، اس ليے صحيح يہى ہے كہ اس سے طلاق واقع ہو جائيگى چاہے وہ حقيقت ميں دے يا مذاق ميں.

پھر ہمارا يہ كہنا كہ اس سے طلاق واقع ہو جائيگى اس ميں ايك تربيتى فائدہ بھى ہے، وہ يہ كہ كھلواڑ كرنے والوں كى بيخ كنى ہے، جب انسان كو علم ہو جائے كہ وہ طلاق سے كھيلےگا تو بھى اس كا مؤاخذہ ہو گا تو پھر وہ كبھى بھى اس كا اقدام نہيں كريگا.

ليكن جو يہ كہتا ہے كہ ميں مذاق كر رہا تھا تو وہ لوگوں كے ليے اللہ تعالى كى آيات كے ساتھ مذاق كرنے كا دروازہ كھول رہا ہے " انتہى

ديكھيں: الشرح الممتع ( 10 / 461 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments