449: امام كى كچھ خفيہ معصيت و نافرمانياں ہيں كيا وہ امامت جارى ركھے ؟


ايك نوجوان مسجد كا امام ہے، اور وہ ـ اس كے كہنے كے مطابق ـ مسجد كميٹى كو محبوب ہے، اسے اپنے آپ كا علم ہے كہ اس ميں كمى و كوتاہياں ہيں، اور اس ميں بعض معصيت و نافرمانى بھى پائى جاتى ہيں اور وہ امامت كا مستحق نہيں، اور نہ ہى وہ لوگوں كى اس محبت اور عزت و تكريم كا مستحق ہے، اسے خدشہ ہے كہ اگر وہ امامت كرواتا رہا تو اس ميں رياء كارى اور نفاق پيدا ہو جائيگا، تو كيا وہ مسجد ميں رہے اور لوگوں كى امامت كرواتا رہے، يا كہ رياء كارى اور نفاق كے خدشہ سے امامت ترك كردے ؟

الحمد للہ:

يہ نوجوان جس كے متعلق آپ نے كہا ہے كہ وہ اپنى قوم كو بہت محبوب ہے، ليكن اس نوجوان ميں كچھ اسراف ہے جو اس كے اور رب كے مابين ہے، ميں كہتا ہوں:

يہ نوجوان جسے اللہ تعالى نے امامت كى بنا پر اس كى قوم كے ليے اسے محبوب اور پسنديدہ شخص بنا ديا ہے، اس كى وجہ سے ضرورى اور واجب ہے كہ وہ اپنے اندر پائى جانے والى كمى و كوتاہى كو دور كرے، اور عبادت كو اچھے انداز سے سرانجام دے، اور اس كے ساتھ ساتھ اس نعمت پر اللہ تعالى كا شكر ادا كرے.

كيونكہ كسى انسان كا اپنى قوم كے ہاں محبوب اور پسنديدہ ہونا، اور ان كى امامت كروانا اللہ تعالى كى عظيم نعمتوں ميں شمار ہوتا ہے.

فرمان بارى تعالى ہے:

﴿ اور اللہ رحمن كے بندے جو زمين پر بڑے آرام سے چلتے ہيں ﴾.

آگے چل كر اللہ سبحانہ وتعالى نے فرمايا:

﴿اور ہميں متقين كا امام و پيشوا بنا﴾.

اور پھر نمازى حضرات تو متقين ميں شامل ہيں،اور ان كا امام اللہ تعالى كے اس فرمان ميں داخل ہے:

﴿اور ہميں متقين كا امام و پيشوا بنا﴾.

چنانچہ اسے اس نعمت پر اللہ تعالى كا شكر بجا لانا چاہيے، اور اپنے اوپر زيادتى كرنے سے اجتناب كرے، اور اسے ان اسباب ميں شامل كرے جو اس كے ليے اللہ تعالى كى اطاعت و فرمانبردارى ميں ممد و معاون ہو، اور اسے اپنى جگہ پر اللہ تعالى سے ڈرنا چاہيے.

اور اس كا يہ كہنا كہ:

ميں رياء كارى اور نفاق سے ڈرتا ہوں، يہ ايك شيطانى وسوسہ ہے جب بھى انسان كوئى نيكى اور اللہ تعالى كى اطاعت و فرمانبردارى كا كام سرانجام دينے لگتا ہے تو شيطان يہ وسوسہ ڈال كر اپنا شيطانى اسلحہ استعمال كرتا ہوا كہتا ہے: تم تو رياء كار ہو.

چنانچہ انسان كو يہ وسوسہ ختم كرنا چاہيے اور وہ اس كى طرف توجہ ہى نہ دے، اور اللہ تعالى سے مدد و تعاون حاصل كرے، اور پھر وہ تو ہر نماز ميں يہ كلمات دھراتا رہتا ہے: ﴿اياك نعبد و اياك نستعين﴾.

واللہ اعلم .

لقاء الباب المفتوح ابن عثيمين ( 53 / 77 ).
Create Comments