45635: بناؤ سنگھار ميں كھانے والى اشياء كا استعمال كرنا


كيا بناؤ سنگھار ميں كھانے والى اشياء استعمال كرنا جائز ہيں، دوسرے معنوں ميں يہ كہ: كيا باتھ رومز ميں سبزياں لے جا كر جسم پر ملنى اور تقريبا روزانہ ايك گھنٹہ باتھ روم ميں رہنا جائز ہے، اور ہر روز كوئى نئى سبزى لے جانى اور بعض مصالحہ جات وغيرہ ميں سے اشياء باتھ روم لے جانا ؟

الحمد للہ:

اول:

پھل اور سبزياں بناؤ سنگھار ميں استعمال نہيں كرنى چاہييں، كيونكہ يہ ان نعمتوں كو ان كى جگہ اور مقصد كے علاوہ كہيں اور استعمال كرنا ہے، اور پھر اس كے ساتھ ساتھ اس ميں اسراف و فضول خرچى اور وقت كا بھى ضياع ہے، اور جو كچھ بناؤ سنگھار اور بيوٹى ڈاكٹر كى جانب سے بيان ہو، اور جو اجنبى اور يورپى ميگزين ميں بناؤ سنگھار كے متعلق آئے اس كے پيچھے دوڑنا، اور ان كى ہو بہو نقالى كرنے كے مترادف ہے، مومن كو چاہيے كہ وہ آخرت ميں بلند درجات كے حصول كے ليے اپنى ہمت كو اونچا كرے اور بڑھائے.

دوم:

ديكھا گيا ہے كہ ان اشياء كا بطور علاج اور بناؤ سنگھار ميں انہيں استعمال كرنے ميں علماء كرام كے ہاں فرق پايا جاتا ہے، شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ سے درج ذيل سوال كيا گيا:

ميرى كچھ سہيلياں انڈے، شہد اور دودھ چہرے كى چھائياں اور نشانات دورے كرنے ميں استعمال كرتى ہيں كيا ان كے ليے ايسا كرنا جائز ہے ؟

شيخ رحمہ اللہ كا جواب تھا:

" يہ تو معلوم ہے كہ يہ اشياء كھانے پينے والى اشياء ميں شامل ہوتى ہيں، جنہيں اللہ تعالى نے بدن كى غذا كے ليے پيدا فرمايا ہے، اس ليے جب انسان كو يہ اشياء كسى دوسرى ايسى چيز ميں استعمال كرنے كى ضرورت پيش آئے جو نجس نہ ہو مثلا بطور علاج تو اس ميں كوئى حرج نہيں؛ كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

﴿ اللہ تعالى وہ ذات ہے جس ميں زمين ميں سارى چيزيں تمہارے ليے پيدا فرمائى ہيں ﴾.

تو يہاں " لكم " تمہارے ليے كے الفاظ عمومى نفع اور فائدہ كو شامل ہيں، جبكہ اس كى حرمت پر كوئى دليل نہ ملتى ہو.

ليكن انہيں بناؤ سنگھار ميں استعمال كرنا، تو اس كے ليے اور ان اشياء كے علاوہ اور بہت سارى چيزيں ہيں جن سے بناؤ سنگھار كيا جا سكتا ہے، اس ليے دوسرى اشياء كا استعمال اولى اور افضل ہے.

اور يہ معلوم رہنا چاہيے كہ بناؤ سنگھار ميں كوئى حرج نہيں بلكہ اللہ سبحانہ و تعالى جميل اور اور جمال و خوبصورتى كو پسند فرماتا ہے، ليكن اس ميں اسراف و فضول خرچى كرنا حتى كہ انسان كا سب سے بڑا اور اہم كام يہى بن كر رہ جائے، كہ اس كے علاوہ كسى اور چيز كا اہتمام ہى نہ كرے، اور اس كى بنا پر بہت سارے دينى اور دنياوى امور و مصالح سے غافل ہو كر رہ جائے، يہ كام صحيح نہيں كيونكہ يہ اسراف و فضول خرچى ميں داخل ہوتا ہے، اور اسراف و فضول خرچى كو اللہ تعالى پسند نہيں فرماتا " انتہى.

ماخوذ از: فتاوى المراۃ جمع و ترتيب محمد المسند صفحہ نمبر ( 238 ).

باتھ روم ميں ان سبزيوں كو لے جانے ميں كوئى حرج نہيں، ليكن بناؤ سنگھار كے ليے وہاں گھنٹوں رہنا اسراف ميں شامل ہوتا ہے جيسا كہ اوپر بيان ہو چكا ہے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments