45713: اگر كسى شخص كو كسٹم معاف ہو تو كيا كوئي اور شخص اس كے نام سے سامان خريد سكتا ہے ؟


ميں اور ميرے ساتھ كچھ بھائى ايسے ملك ميں ڈپلوميٹ ہيں جہاں ہميں كسٹم معاف ہے، اور اس ملك كے كچھ لوگ ہمارے نام سے سامان خريدنے آتے ہيں اور كسٹم كى اس چھوٹ كے عوض ميں ہميں كچھ مالى رقم بھى ديتے ہيں تو كيا ايسا كرنا جائز ہے ؟

الحمد للہ:

يہ سوال دو امور پر مشتمل ہے:

اول:

جسے كسٹم كا نام ديا جاتا ہے، اور يہ وہ ٹيكس ہے جو سامان اور مال پر ليا جاتا ہے، اور مسلمانوں سے اس كا لينا تو بہت شديد حرام ہے، اور يہ وہى ٹيكس ہے جس كے متعلق رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" بلا شبہ ٹيكس لينے والا جہنم ميں ہے" مسند احمد حديث نمبر ( 16553 )، علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے السلسلۃ الصحيحۃ ميں اسے صحيح قرار ديا ہے، ديكھيں حديث نمبر ( 3405 ).

اور سوال نمبر ( 25758 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

اور انسان كے ليے ہر اس ممكن وسيلہ اور طريقہ كے ذريعہ اس حرام ٹيكس سے چھٹكارا پانا مشروع ہے جس كى بنا پر اسے كوئى نقصان يا اس سے بھى بڑھ كر فساد پيش نہ آتا ہو، اگرچہ يہ كسى حيلہ كے ساتھ ہى كيوں نہ ہويا اس پر ہونے والے ظلم سے چھٹكارا پانے كے ليے اسے پيسے ہى كيوں نہ ادا كرنے پڑيں.

اور اگر كوئى قائل يہ كہےكہ:

يہ تو انسان كا مال لے كر اپنے حق كو چھوڑنے اور ترك كرنے ميں سے ہے اور ايسا كرنا جائز ہے ( اور يہ فقہاء كے ہاں اسقاط يا فراغ كے نام سے جانا جاتا ہے، اور مالكيہ نے شفعہ كا حق ترك كرنے كے عوض ميں مال لينے كو جائز قرار ديا ہے، اور احناف مال كے عوض ملازمت اور پرورش كا حق ترك كرنا جائز قرار ديا ہے .

ديكھيں: الموسوعۃ الفقھيۃ الكويتيۃ ( 4 / 243 ) ( 32 / 83 ).

تو اس كا جواب يہ ہے كہ:

يہ اس ميں سے نہيں، كيونكہ جو كسٹم معاف كرتے ہيں وہ صرف انہيں معاف كرتے ہيں جوان كى لائن ميں اور سلسلے كى كڑى كے ايك فرد ہوں، اور وہ اس امتياز كو ايسى فرصت اور موقع بنانے كى اجازت نہيں ديتے كہ اس سے ان افراد كے علاوہ كوئى اور فائدہ اٹھائے، پھر كسى دوسرے كا مال وا گزار كروانا دھوكہ اور حيلہ كى ايك قسم ہے، اور اگر يہ جائز بھى ہو تو ضرورت كى بنا پر ہو گا، اور اس كے پيچھے نفع نہيں اٹھايا جاسكتا.

ذيل ميں ہم بعض نصائح پيش كرتے ہيں:

1 - اس سلسلہ ميں ملازمت كرنے والے ڈپلوميٹ كو چاہيے كہ وہ اپنے بھائيوں كى بلا معاوضہ خدمت كريں، كيونكہ ايسا كرنا ان سے ظلم دور كرنے كے باب ميں سے ہے اور يہ بقدر استطاعت واجب ہے.

2 - اگر وہ يہ خدمت فرى اور بلامعاوضہ نہيں كرنا چاہتے تو پھر وہ اس مثلى اجرت سے زيادہ وصول نہيں كرسكتے جو انہوں نے سامان كارگو كروانے اور اسے لينے اور سارے معاملات نپٹانے يا پھر اس كے ساتھ سفر وغيرہ ميں خرچ كيا ہو.

اس كے ساتھ انہيں تنبيہ ہے كہ وہ اپنے مسلمان بھائيوں كے ساتھ نرمى كرنى چاہيے اور اس ميں انہيں نيت اچھى ركھنى چاہيے، اور ان كا ہم وغم فقط مال جمع كرنا ہى نہيں ہونا چاہيے.

اللہ تعالى ہى توفيق بخشنے والا ہے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments