45854: سامان خريدنے كے بعد قرعہ اندازى كا حكم


تجارتى انعامى مقابلہ ميں شركت كرنے كا حكم كيا ہے، وہ اس طرح كہ استعمال كرنے كے ليے كچھ ڈبے اور بورياں خريدى جائيں اور ان كى رسيد كمپنى كو ارسال كريں تا كہ قرعہ اندازى ميں شامل ہوں، اور قرعہ اندازى ميں كامياب ہونے والے كو كچھ رقم بطور انعام حاصل ہو، كيا يہ حلال ہے يا حرام ؟

الحمد للہ:

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

اب تجارت اور صنعت سامان زيادہ بنانے لگى ہيں، اور لوگ بغير حد كے خريد رہے ہيں، اور جيسا كہ آپ مشاہدہ كر رہے ہيں ہر ايك كے گھر ميں كئى قسم كے برتن، يا كئى قسم كے لباس پائے جاتے ہيں، آپ كو معلوم ہے كہ كمپنياں تو صرف مادى ہيں اور وہ مال بٹورنے كے چكر ميں ہيں، جو بھى اس كا سامان خريدے اس كے ليے انعام مقرر كرتے ہيں تو ہم يہ كہينگے اس ميں دو شرطوں كے ساتھ كوئى حرج نہيں:

پہلى شرط:

قيمت ـ يعنى سامان كى قيمت ـ اس كى حقيقى قيمت ہو، يعنى انعام كى بنا پر اس كى قيمت ميں اضافہ نہ كيا گيا ہو، اگر انعام كى وجہ سے قيمت بڑھا دى گئى ہو تو يہ قمار بازى اور جوا ہے اور حلال نہيں.

دوسرى شرط:

انسان انعام حاصل كرنے كے ليے سامان نہ خريدے، اگر اس نے صرف انعام حاصل كرنے كى غرض سے سامان خريدا نہ كہ اس كى ضرورت كى بنا پر تو يہ مال ضائع كرنے كے مترادف ہو گا، ہم نے سنا ہے كہ بعض لوگ دودھ يا لسى كا ڈبہ خريدتے ہيں، انہيں اس كى ضرورت تو نہيں ہوتى ليكن وہ اس ليے خريدتے ہيں كہ ہو سكتا ہے اسے انعام مل جائے، تو آپ ديكھتے ہيں كہ اسے بازار يا پھر گھر كے ايك كونے ميں انڈيل ديتا ہے، تو يہ جائز نہيں؛ كيونكہ اس ميں مال ضائع ہوتا ہے، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے مال ضائع كرنے سے منع فرمايا ہے.

ديكھيں: اسئلۃ الباب المفتوح نمبر ( 1162 ).
Create Comments