45889: نذر مانى كہ جب وہ گناہ ہوا صدقہ كرونگا گناہ كر ليا اور صدقہ نہ كيا


ميں ايك معصيت اور نافرمانى ميں مبتلا ہو گيا، اور ايك دن وہ گناہ كرنے كے بعد بہت ندامت كا احساس ہوا تو ميں نے اپنے آپ كو برا كہنا شروع كرديا، پھر ميں نے انگلى اٹھا كر ايك ہى حرف ميں كہا: اگر ميں نے يہ كام دوبارہ كيا تو ميں پانچ سو ريال صدقہ كرنے كى نذر ہے، اور اگر پھر ايك بار اور كيا تو اتنے ريال اور صدقہ كرونگا.
يعنى جب بھى وہ يہ عمل كرے گا تو ہر بار پانچ سو ريال صدقہ كرونگا ليكن ميں نے وہ فعل بہت زيادہ بار كيا ہے.
سوال يہ ہے كہ: اس معاملہ ميں مجھ پر كيا لازم ہے، يہ علم ميں رہے كہ ميں نے اب تك ايك ريال بھى صدقہ نہيں كيا، اور مجھے يہ بھى علم نہيں كہ ميں يہ فعل كتى بار كيا ہے، بہت طويل مدت گزر چكى ہے، مجھے اس مسئلہ ميں فتوى ديں. ؟
اللہ تعالى آپ كو جزائے خير عطا فرمائے.

الحمد للہ :

اول:

بعض سلف رحمہ اللہ تعالى گناہ سے بچنے كے ليے نذر مانا كرتے تھے، اور يہ اپنے آپ كو سزا دينے اور معصيت و نافرمانى نہ كرنے كى تربيت كےليے كرتے تھے ليكن يہ اس ميں كرتے تھے جس كى ان ميں استطاعت اور قدرت ہوتى تھى.

حرملہ رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں كہ ميں نے ابن وہب رحمہ اللہ تعالى كو كہتے ہوئے سنا:

ميں نے نذر مانى كہ جب بھى كسى انسان كى غيبت كرونگا تو اس كے بدلے ايك يوم كا روزہ ركھوں گا، تو مجھے لاغر كرديا، تو ميں جب بھى غيبت كرتا روزہ ركھا كرتا تھا.

تو ميں نے نيت كى كہ جب بھى كسى كى غيبت كرونگا تو ايك درھم صدقہ كرونگا، تو درھموں كى محبت كى بنا پر ميں نے غيبت كرنى چھوڑ دى.

امام ذہبى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں: اللہ كى قسم علماء كرام ايسے تھے اور نفع مند علم كا پھل اور ثمرہ بھى يہى ہے.

ديكھيں: سير اعلام النبلاء ( 9 / 288 ).

اور مسلمان كے ليے اولى اور افضل يہ ہے كہ وہ معصيت كے ارتكاب سے بغير كسى قسم اور نذر كے ہى رك جائے، تا كہ وہ قسم نہ توڑے يا پھر نذر پورى نہ كرنے كا مسئلہ پيدا ہو.

دوم:

جب نذر ماننے والے شخص كا نذر سے وہ مقصد ہو جو قسم سے ہوتا ہے: مثلا كسى فعل سے اپنے آپ كو منع كرنا، يا تو اس كى قسم توڑ دے گا يہ نہيں توڑے گا.

اگر وہ قسم نہيں توڑتا تو اس كے ذمہ كچھ لازم نہيں آتا، اور اگر وہ قسم توڑ دے تو اسے دو چيزوں كا اختيار ديا جائے گا: يا تو وہ نذر پورى كرے، يا پھر قسم كا كفارہ ادا كرے.

ابن قدامۃ المقدسى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" جب نذر قسم كے طور پر ہو، وہ اس طرح كہ اپنے آپ كو يا كسى دوسرے كو كسى چيز سے منع كرے، يا كسى چيز پر ابھارے: مثلا وہ يہ كہے كہ: اگر ميں نے زيد سے كلام كى تو مجھ پر اللہ كے ليے حج، يا مال كا صدقہ، يا ايك برس كے روزے، تو يہ قسم كے زمرے ميں آتا ہے.

اور اس كا حكم يہ ہے كہ اسے اختيار ہے كہ اس نے جس پر قسم كھائى ہے اسے پورا كرے تو اس كے ذمہ كچھ لازم نہيں آئے گا، اور يا پھر قسم توڑ دے اور جس كى نذر مانى ہے وہ كر لے، يا قسم كا كفارہ ادا كردے، اور اسے جھگڑالو اور غضب كى نذر كا نام ديا جاتا ہے، اور اس پر اس كا پورا كرنا متعين نہيں ہوتا..

يہ عمر، ابن عباس اور ابن عمر، عائشہ، حفصہ زينب بنت ابى سلمہ رضى اللہ تعالى عنہم كا قول ہے، اور امام شافعى رحمہ اللہ تعالى كا بھى يہى كہنا ہے. اھـ مختصرا

ديكھيں: المغنى لابن قدامۃ المقدسى ( 13 / 461 ).

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى سے مندرجہ ذيل سوال كيا گيا:

ميں نوجوان ہوں ميں زيادتى اور كوتاہى كرتا رہا تو اللہ تعالى نے مجھے ہدايت سے نوازا، ليكن ميں اب تك ايك گناہ كا مرتكب ہوتا رہا ہوں، كئى بار كوشش كى كہ اس سے توبہ كرلوں ليكن نہ كرسكا، تو ميں اپنے دل ميں نذر مان لى كہ اگر ميں نے دوبارہ اس گناہ كا ارتكاب كيا تو مسلسل دو ماہ كے روزے ركھوں گا، ليكن شيطان نے ميرے ليے مزين كر ديا، اور ميں كہنے لگا كہ اس حالت ميں نذر قسم كے معنى ميں ہے اور اس كا كفارہ ہے، اور ميں اس گناہ كا پھر ارتكاب كرنے لگا، اللہ تعالى آپ كو جزائے خير عطا فرمائے، مجھے كيا كرنا ہو گا؟

كيا ميرے ليے ساٹھ مسكينوں كو كھانا كھلانا جائز ہے ؟ كيونكہ يہ ميرے ليے روزوں سے آسان ہے ؟

يہ علم ميں رہے كہ اللہ تعالى نے مجھ پر احسان كيا ہے اور ميں اس گناہ سے توبہ كر چكا ہوں ؟

شيخ رحمہ اللہ تعالى كا جواب تھا:

انسان كو سچے عزم والا اور قوى ہونا چاہيے، اور اسے بغير كسى قسم اور نذر كے حرام كام ترك كرنا چاہيے، اور اسے بغير كسى نذر اور قسم كے واجب پر عمل كرنا چاہيے.

اللہ تبارك وتعالى كا فرمان ہے:

( اور انہوں نے بہت پختہ قسميں اٹھائيں كہ اگر آپ انہيں حكم ديں تو وہ نكليں گے، آپ كہہ ديجئے قسميں نہ اٹھاؤ، ( بلكہ ) اچھے طريقہ سے اطاعت كرو، يقينا اللہ تعالى جو تم عمل كرتے ہو ديكھنے والا اور خبردار ہے ).

ليكن كچھ لوگ اپنے نفس كى سركشى كو لگام دينے سے عاجز ہوتے ہيں تو انہيں واجب پر عمل كرنے يا حرام كردہ كو ترك كرنے كے ليے مجبورا نذر يا قسم كا سہارا لينا پڑتا ہے، اور علماء رحمہم اللہ تعالى نے بيان كيا ہے كہ:

جس نذر سے مقصود كوئى كام كرنا يا كسى سے ركنا ہو تو وہ نذر قسم كے حكم ميں ہوتى ہے، اور اس ليے اس سوال كرنے والے بھائى كو چاہيے كہ وہ اپنى نذر سے قسم كا كفارہ ادا كر دے، وہ اس طرح كہ دس مسكينوں كو كھانا كھلائے، ہر مسكين كو ايك مد ( ٹوپہ ) چاول يا گندم ادا كرے، يا دس مسكينوں كو لباس مہيا كرے، يا ايك غلام آزاد كرے، ان تين اشياء ميں اختيار ہے، اگر وہ يہ نہيں پاتا تو پھر مسلسل تين يوم كے روزے ركھے، كيونكہ سورۃ المآئدۃ ميں اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

( اللہ تعالى تمہارى قسموں ميں لغو قسم پر تمہارا مؤاخذہ نہيں كرتا، ليكن اس پر مؤاخذہ فرماتا ہے كہ تم جن قسموں كو مضبوط كردو، اس كا كفارہ دس محتاجوں كو كھانا دينا ہے اوسط درجے كا جو اپنے گھروالوں كو كھلاتے ہو يا ان كو كپڑا دينا، يا ايك غلام يا لونڈى آزاد كرنا، ہے، اور جو كوئى نہ پائے تو وہ تين دن كے روزے ركھے، يہ تمہارى قسموں كا كفارہ ہے جب كہ تم قسم كھا لو، اور اپنى قسموں كا خيال ركھو! اسى طرح اللہ تعالى تمہارے واسطے اپنے احكام بيان فرماتا ہے تا كہ تم شكر كرو ) المآئدۃ ( 89 ).

اور كھانا دينے ميں جائز ہے كہ وہ دوپہر يا رات كا كھانا تيار كر كے دس مسكينوں كو اس كھانے كى دعوت دے. اھـ

ديكھيں: فتاوى اسلاميۃ ( 3 / 501 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments