Fri 18 Jm2 1435 - 18 April 2014
45918

فرد كے ليے لازمى اور خاندان كے ليے اختيارى انشورنس ميں شريك ہونے كا حكم

ميں اسٹريليا ميں پڑھتا ہوں، جو شخص بھى يہاں آئے اس پر انفرادى انشورنس كے معاملات نپٹانے لازمى ہيں، ليكن اس كے اہل وعيال كى انشورنس لازمى نہيں كرتے، بعض نوجوان اپنى اور اپنے خاندان كے افراد كى بھى انشورنس كرواتے ہيں كيونكہ يہ مالى لحاظ سے زيادہ فائدہ مند ہے، لہذا كيا ايسا كرنا جائز ہے ؟

الحمد للہ :

 ہم نے اس كے بارہ ميں فضيلۃ الشيخ عبد اللہ بن جبرين حفظہ اللہ تعالى سے دريافت كيا تو ان كا جواب تھا:

الزامى انشورنس جس كے بغير كوئى چارہ نہ رہے اور اس ميں شريك ہونے پر مجبور كر ديا جائے تو اس ميں مجبورا شريك ہونے والا معذور ہے، ليكن جو انشورنس الزامى نہيں يعنى جسے لازمى عائد نہيں كيا گيا اس ميں شركت كرنى جائز نہيں ہے، جبكہ وہ تجارتى انشورنس كى قسم ميں سے ہو تو وہ حرام اور جوا ہے. اھـ

انشورنس كا حكم سوال نمبر ( 8889 ) كے جواب ميں بيان كيا جا چكا ہے، اس كى تفصيل وہاں ديكھى جاسكتى ہے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments