4649: دنياوى لذتوں كى انواع و اقسام


كيا لذت كا حصول دين اسلام ميں حرام ہے، اور لذت كے متعلق اسلامى موقف كيا ہے، اس اعتبار سے كہ دين مشكل اور مشقت والے احكام كا مجموعہ ہے ؟

الحمد للہ:

دنيا كى لذتيں تين قسموں ميں تقسيم كى جا سكتى ہے:

پہلى قسم:

وہ لذت جس كے نتيجہ ميں اس لذت سے بھى بڑى سزا ملتى ہے، يا پھر اس سے بھى بڑى لذت ختم ہو جاتى ہے، يہ ان نافرمانوں اور غافلوں كے مختلف طبقات كى وہ لذتيں ہيں جن سے وہ بزعم خود لذت حاصل كرتے ہيں مثلا زنا، و شراب نوشى، اور چورى وغيرہ سے لذت حاصل كرنے والے، اور يہى وہ لوگ ہيں جن كے متعلق روز قيامت كہا جائيگا:

﴿ تم نے اپنى نيكياں دنيا كى زندگى ميں ہى برباد كر ديں، اور ان سے فائدے اٹھا چكے، آج تمہيں ذلت كے عذاب كى سزا دى جائيگى ﴾الاحقاف ( 20 ).

دوسرى قسم:

ايسى لذت جس كے نتيجہ ميں آخرت ميں كوئى سزا نہيں ملتى، ليكن ان لذات ميں منہمك ہونے سے خير و بھلائى كے اعلى درجات نہيں ملتے، اور اجروثواب كا حصول ختم ہو جاتا ہے، يہ وہ مباح لذات ہيں جن سے خير و بھلائى ميں معاونت نہيں لى جاتى، اور نہ ہى اس سے اجروثواب حاصل كرنے كى نيت ہوتى ہے، اور يہ عبادت كى نيت و معانى سے خالى ہوتى ہے، مثلا كھانے پينے والى اشياء اور سوارى، اور گھر و عمارتيں، اور سفر و سياحت وغيرہ جن ميں نہ تو كوئى ضرر ہے، اور نہ ہى حرام كا ارتكاب.

تيسرى قسم:

وہ لذات جن پر اجروثواب حاصل ہوتا ہے، اور يہ لذات مومن كے خاصہ ميں شامل ہوتى ہيں جو ان سے وہ فائدہ حاصل كرتے ہيں جس سے وہ اللہ تعالى كى اطاعت و فرمانبردارى ميں معاونت ليتے ہيں، اور اس سے اللہ تعالى كى نافرمانى ميں اجتناب كرنے كا كام ليتے ہيں.

تو ان عظيم مقاصد كے ساتھ يہ چيز اطاعت و فرمانبردارى كى قسم ميں شامل ہوگى، اور اسى كے متعلق رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" يقينا اللہ تعالى اس شخص سے راضى ہوتا ہے جو كھانے كے بعد اللہ كا شكر ادا كرے، اور پينے كے بعد اللہ تعالى كى حمد بيان كرے "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 2734 ) انس رضى اللہ تعالى عنہ سے مروى ہے.

اور حديث ميں ہے:

ابو ذر رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ:

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" اور تمہارے ايك كے عضو ( جماع ) ميں صدقہ ہے "

صحابہ كرام نے عرض كيا:

اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم! كيا ہم ميں سے كوئى اپنى شہوت پورى كرے تو كيا اس ميں بھى اسے اجروثواب ملےگا ؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" مجھے يہ تو بتاؤ كہ اگر وہ اسے حرام ميں استعمال كرے تو كيا اسے گناہ ہو گا ؟

تو اسى طرح اگر وہ اسے حلال ميں استعمال كرتا ہے تو اسے اجروثواب حاصل ہو گا "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 1006 ).

اس حديث ميں يہ بيان ہوا ہے كہ ان شہوات سے اللہ تعالى كا شكر و تعريف كرنے، اور اس كے فضل و كرام كے اعتراف، اور حرام سے اجتناب اور اجروثواب كے حصول كا مقصد ہو تو ان سے فائدہ حاصل كرنا اللہ كا احسان ہے "

ديكھيں: مجموع الفوائد ابن سعدى ( 234 ).

اور اس سے ہميں يہ معلوم ہوتا ہے كہ اسلام ميں مباح قسم كى لذتيں مثلا كھانا پينا، اور لباس، مباح سوارياں پائى جاتى ہيں، اور ايسى لذات بھى ہيں جن پر انسان كو آخرت ميں اجرو ثواب حاصل ہوگا، اور اس كے ساتھ ساتھ دنيا ميں اسے لذت بھى ملتى ہے، مثلا جو شخص اللہ تعالى كى اطاعت پر قوت حاصل كرنے كے ليے كھانا كھائے، اور اپنى نيند ميں قيام الليل اور نماز فجر باجماعت ادا كرنے كى نيت ركھے، اور بيوى سے ہم بسترى كرنے ميں اپنى اور اپنى بيوى كى عفت و عصمت محفوظ ركھنا مقصود ہو، اور حرام سے اجتناب اور اولاد كے حصول كى نيت ركھتا ہو، اور تجارت اور ملازمت ميں اس كى نيت اپنے اور اہل و عيال اور والدين وغيرہ پر حلال كما كر خرچ كرنا مقصد ركھے.

واللہ اعلم .

الشيخ محمد صالح المنجد
Create Comments