Thu 24 Jm2 1435 - 24 April 2014
46645

كيا ترديد كرنے كے بغير ہى معاوضہ حاصل كرلے؟

ميں سركارى محكمہ ميں ملازم ہوں، مجھے ترديد كا كام سونپا گيا ليكن ميں نہيں گيا، ليكن اس كے باوجود مجھے اس كا معاوضہ بھيج ديا گيا ہے، تو كيا ميں يہ معاوضہ لے كر كام كى اشياء ميں صرف كر سكتا ہوں؟
يہ علم ميں رہے كہ ميں مينجر كا سيكرٹرى ہوں اور بعض اوقات كام كے ليے مجھے رقم كى ضرورت ہوتى ہے، يا ميں اس رقم كو ترك كردوں كيونكہ يہ رقم ميرے نام پر منتقل ہو چكى ہے، اب صرف نكلوانى باقى ہے، مجھے معلومات فراہم كريں اللہ تعالى آپ كو جزائے خير عطا فرامائے.

الحمد للہ :

جب آپ نے ترديد كا كام نہيں كيا تو پھر اس كا معاوضہ بھى آپ كے ليے حلال نہيں، آپ كو يہ رقم ترك كردينى چاہيے اور اسے وصول نہ كريں، اور آپ كو يہ چاہيے كہ اس كے ذمہ دار كو بتا ديں كہ آپ اس رقم كے مستحق نہيں، ہو سكتا ہے اس سے آپ اپنے بھائيوں كے ليے خير و بھلائى ميں ايك قدوہ اور نمونہ بن جائيں.

ميرے بھائى آپ اپنى كمائى اور كھانا پاكيزہ بنانے كى كوشش كريں، كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى نے مومنوں كو بھى وہى حكم ديا ہے جو رسولوں كو حكم ديا، اور وہ حكم پاكيزہ اشياء ميں سے كھانا اور اعمال صالحہ بجا لانا ہے، اس كا ذكر كرتے ہوئے اللہ تعالى نے فرمايا:

{اے رسولو! تم پاكيزہ اشياء ميں سے كھاؤ اور اعمال صالحہ كرتے رہو، بلا شبہ تم جو عمل كررہے ہو ميں اس كى خبرركھنےوالاہوں}المؤمنون ( 521).

اور ايك مقام پر اس طرح فرمايا:

{اے ايمان والو! ہم نے جو پاكيزہ رزق تمہيں عطا كيا ہے اس ميں كھاؤ، اور اللہ تعالى كا شكر ادا كرتے رہو اگر تم اسى كى عبادت كرتے ہو}البقرۃ ( 172 ).

اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جو جسم بھى حرام پر پلا اس كے ليے آگ زيادہ بہتر اور اولى ہے"

اسے طبرانى نے روايت كيا اور علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى صحيح الجامع ميں صحيح قرار ديا ہے.

اور شيخ ابن باز رحمہ اللہ تعالى سے مندرجہ ذيل سوال كيا گيا:

ميں سركارى ملازم ہوں، اور بعض اوقات ہمارے آفس كى جانب سے ڈيوٹى كے علاوہ ٹائم ميں بغير ڈيوٹى كيے اور دفتر ميں حاضرى ديے الاؤنس ديا جاتا ہے، اور اسے وہ ملازمين كا وقتا فوقتا الاؤنس شمار كرتے ہيں، يہ علم ميں رہے كہ يہ مينجر كے علم ميں ہے، اور وہ اس كا اقرار كرتا ہے، تو كيا يہ رقم لينى جائز ہے؟

اور اگر جائز نہيں تو پھر پہلے وصول كى جانے والى رقم كا كيا كروں، كيونكہ ميں اسے صرف كر چكا ہوں ؟

شيخ رحمہ اللہ تعالى كا جواب تھا:

اگر تو واقعتا ايسا ہى ہے جيسا كہ آپ نے ذكر كيا ہے تو يہ ايك برائى اور منكر فعل ہے اور جائز نہيں، بلكہ يہ خيانت ميں شمار ہوتا ہے، اس طرح كى جتنى بھى رقم آپ وصول كر چكے ہيں وہ گورنمنٹ كے كھاتے ميں واپس كرنى واجب ہے، اور اگر آپ اس كى طاقت نہيں ركھتے تو پھر اس رقم كو فقراء و مساكين اور خير و بھلائى كے كاموں ميں صدقہ كردينے كے ساتھ ساتھ اللہ تعالى كے سامنے توبہ كرتے ہوئے آئندہ ايسا كام نہ كرنے كا عزم كريں، كيونكہ كسى بھى مسلمان كے ليے مسلمانوں كے بيت المال سے غير شرعى طريقہ پر كچھ لينا جائز نہيں، صرف اس شرعى طريقہ ہى سے رقم لى جاسكتى ہے جس پر حكومت عمل كر رہى ہے. اھـ

ديكھيں: فتاوى اسلاميۃ ( 4 / 312 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments