46868: متعدد قسموں كى بنا پر كفارے بھى كئى ايك ہونگے


ميں والدہ ہوں اور اپنے بچوں پر بہت زيادہ قسميں اٹھاتى ہوں اور بعض اوقات ان ميں سے كچھ پورى نہيں كرتى، كيا ميں ايك قسم كا كفارہ ادا كروں يا مجھے كيا كرنا ہوگا ؟

الحمد للہ :

قسم اٹھانے ميں زيادتى سے كام نہيں لينا چاہيے؛ كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿ اور آپ ہر بہت زيادہ قسميں اٹھانے والے ذليل انسان كى بات نہ مانيں ﴾ القلم ( 10 ).

اس آيت ميں زيادہ قسميں كھانے والے شخص كى مذمت كى طرف اشارہ ہے، لہذا آپ اللہ تعالى كى تعظيم اور اپنى قسم كى حفاظت كرتے ہوئے زيادہ قسميں نہ اٹھايا كريں.

اور يہ علم ميں ركھيں كہ ہر چھوٹى اور بڑى چيز ميں قسم اٹھانے سے لوگوں كے ہاں قسم كى قيمت اور اہميت گر جاتى ہے، اور اس كے باعث جھوٹى قسم سے بھى بچنا مشكل ہو جاتا ہے، جو كہ اللہ تعالى كى تعظيم كے بھى منافى ہے.

آپ نے جو قسميں اٹھائى ہيں ان ميں دو چيزوں كا احتمال ہے:

اول:

اگر تو قسم سے آپ كا مقصد وہ قسميں ہيں جو آپ نے اٹھائى ہيں: يعنى منعقد شدہ قسموں كا قصد ہے تو آپ كے ذمہ قسم كا كفارہ ہے، اور منعقدہ قسم وہ ہے جو كسى انسان سے مستقبل كے كسى امر پر اٹھائى ہو كہ وہ ايسا كرے گا يا نہيں كرے گا.

دوم:

آپ كا مقصد قسم نہ ہو، تو يہ لغو قسم ميں شمار ہوتى ہے، اور علماء كرام لغو قسم كى تحديد ميں كئى ايك اقوال ركھتے ہيں: اور اقرب ترين قول يہ ہے كہ لغو قسم مندرجہ ذيل اشياء پر مشتمل ہوتى ہے:

1 - كلام كرنے والے شخص كى زبان پر بغير كسى قصد اور ارادہ كے جارى ہونے والى قسم: مثلا كوئى شخص اپنى كلام كے دوران يہ كہتا ہے، نہيں اللہ كى قسم ميں نہيں جاؤنگا، كيوں نہيں اللہ كى قسم ضرور جاؤنگا، يہ قول شافعيہ اور حنابلہ كا ہے.

2 - اس نے جو قسم اٹھائى ہے اس كے بارہ ميں گمان كرتا ہے وہ سچا ہے، ليكن اس كے خلاف ظاہر ہو جاتا ہے، جيسا كہ حنابلہ اس كى طرف گئے ہيں.

3 - شيخ الاسلام نے لغو قسم كے ساتھ يہ ملحق كيا ہے كہ: جب قسم اٹھانے والے كا اعتقاد ہو كہ جس پر قسم اٹھائى جا رہى ہے وہ مخالفت نہيں كرے گا تو وہ اس كى مخالفت كردے.

اور اسى طرح اگر وہ كسى دوسرے پر عزت و اكرام كى غرض سے نہ كہ لازم كرنے كى غرض سے قسم اٹھائے كہ وہ ضرورى كرے گا تو اس صورت ميں اس كى قسم نہيں ٹوٹے گى.

ان كا كہنا ہے كہ: كيونكہ يہ امر كى طرح ہے، اور جب امر سے عزت و اكرام سمجھا جائے تو امر واجب نہيں ہوتا، كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ابو بكر رضى اللہ تعالى عنہ كو صف ميں كھڑا ہونے كا حكم ديا ليكن وہ كھڑے نہيں ہوئے.

ديكھيں: مجموع الرسائل الفقھيۃ للشيخ خالد المشيح ( 234 ).

اوپر جو كچھ بيان ہوا ہے اس كى بنا پر اگر تو آپ كى سارى يا بعض قسميں منعقدہ تھيں تو آپ كے ذمہ قسم كا كفارہ ہے، اور كيا آپ كے ذمہ ايك كفارہ آئے يا كئى ايك كفارے ہيں ؟

يہ جس چيز پر قسم اٹھائى گئى ہے اس كے اعتبار سے ہو گا اگر تو جس چيز كى قسم اٹھائى گئى وہ ايك ہى ہے تو كفارہ بھى ايك ہى ہو گا، اور اگر آپ نے كئى ايك امور پر قسم اٹھائى ہے، مثلا آپ نے كہا كہ: اللہ كى قسم ميں آج نہيں كھاونگى، اللہ كى قسم ميں آج نہيں پيئوں گى، اللہ كى قسم ميں آج سفر نہيں كرونگى، اگر آپ نے اسے كر ليا تو ہر معاملہ ميں آپ كے ذمہ ايك كفارہ لازم آتا ہے، اگر آپ نے كھا ليا اور پى ليا اور سفر كر ليا تو آپ كے ذمہ تين كفارے ہونگے.

اور اگر آپ نے كئى ايك اشياء پر ايك ہى قسم اٹھائى مثلا آپ نے يہ كہا كہ: اللہ كى قسم نہ تو ميں كھاؤنگى نہ پئيونگى، اور نہ سفر كرونگى، تو ان امور ميں سے ايك يا سب كام كرنے پر ايك ہى كفارہ لازم آئے گا.

ديكھيں: مجموع الرسائل الفقھيۃ خالد المشيقح ( 266 ).

ليكن اگر آپ كى سارى يا بعض قسميں لغو ہوں تو جمہور علماء كرام نے بيان كيا ہے كہ لغو قسم كا كوئى كفارہ نہيں ہے، كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿ اللہ تعالى لغو قسموں ميں تمہارا مؤاخذہ نہيں كرتا ﴾البقرۃ ( 225 ).

مزيد تفصيل كے ليے آپ سوال نمبر ( 45676 ) اور ( 34730 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments