Sun 20 Jm2 1435 - 20 April 2014
47142

عورتوں كو وراثت كے عوض ميں ہديہ دينا

عورتوں كو وراثت كے عوض ميں ہديہ دينے والوں كے متعلق آپ كيا كہتے ہيں ؟

الحمد للہ:

جاہليت كے ظالمانہ نظام ميں ميت كا مال صرف اس كے بڑے بيٹوں كو ہى منتقل ہوتا تھا، اور اگر اس كا كوئى بڑا بيٹا نہ ہوتا تو پھر ميت كے بھائى يا چچا كو مال ديا جاتا، اور چھوٹے بچے اور نہ ہى عورتيں مال متروكہ كے وارث نہيں بن سكتے تھے، اور دليل يہ دى جاتى تھى كہ يہ الدمار كا بچاؤ نہيں كر سكتے.

( الدمار يہ ہے كہ: ہر وہ كچھ جس كا انسان پر بچاؤ كرنا واجب ہوتا ہے، اور اس كا دفاع كرنا ضرورى ہو، مثلا اہل و عيال، اور عزت وغيرہ كا دفاع كرنا )

اور يہ چھوٹے بچے اور عورتيں نہ تو لڑائى كرتے ہيں، اور نہ ہى غنيمت لاتے ہيں.

جاہليت كى منطق يہى تھى جو آج بھى بعض لوگوں كے سينوں ميں پنپنے لگى ہے جن كى فطرت الٹ ہو چكى ہے، دين اسلام نے اعلانيہ طور پر اس جاہليت كے ظالمانہ نظام كو باطل كرتے ہوئے انہيں وراثت كا حق ديا ہے اسى كے متعلق اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿ والدين اور رشتہ داروں نے جو كچھ تركہ چھوڑا ہے اس ميں سے مردوں كا حصہ ہے، اور عورتوں كا بھى حصہ ہے جو والدين اور رشتہ داروں نے چھوڑا ہے چاہے وہ مال كم ہو يا زيادہ يہ حصے مقرر كردہ ہيں ﴾النساء ( 7 ).

پھر اس كے بعد تركہ كى تقسيم كى تفصيلى آيت نازل ہوئى جس ميں اللہ احكم الحاكمين كى جانب سے عورت اور مرد كا حصہ پورے عدل و انصاف اور حكمت كے ساتھ بيان كيا گيا.

ديكھيں: التحقيقا المرضيۃ فى المباحث الفرضيۃ صفحہ نمبر ( 17 ).

اس سے آپ يہ معلوم كر سكتے ہيں كہ عورتوں كو بغير كسى شرعى سبب وراثت سے محروم كرنا بہت ہى بڑا اور عظيم جرم ہے، اور اللہ تعالى كى شريعت كى دشمنى اور اس پر زيادتى، اور اللہ تعالى كى حدود سے تجاوز ہے، اور پھر اللہ سبحانہ وتعالى نے آيات ميراث كے بعد كچھ اس طرح فرمايا ہے:

﴿ يہ اللہ تعالى كى حديں ہيں، اور جو كوئى بھى اللہ تعالى اور اس كے رسول كى اطاعت و فرمانبردارى كريگا، اللہ تعالى اسے جنت ميں داخل كريگا، اس كے نيچے سے نہريں بہتى ہونگى، اس ميں وہ ہميشہ كے ليے رہے گا، اور يہ بہت بڑى كاميابى ہے، اور جو كوئى اللہ تعالى اور اس كے رسول كى نافرمانى كريگا، اور اس كى حدوں سے تجاوز كريگا اللہ تعالى اسے جہنم كى آگ ميں داخل كريگا، وہ اس ميں ہميشہ كے ليے رہےگا، اور اس كے ليے اہانت آميز عذاب ہے ﴾النساء ( 13 - 14 ).

اور ابو امامہ رضى اللہ تعالى كى حديث سے ثابت ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جس كسى نے بھى اپنے كسى مسلمان بھائى كا حق جھوٹى قسم كے ساتھ كھايا تو اللہ تعالى اس كے ليے آگ كو واجب كر ديتا ہے، اور اس پر جنت كو حرام كر ديتا ہے "

تو ايك شخص نے عرض كيا: اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم چاہے وہ چيز حقير اور چھوٹى سى ہو ؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" اور اگرچہ وہ اراك كى ايك چھڑى ہى ہو "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 137 ).

اور اس وراثت كے عوض ميں عورتوں كو كوئى ہديہ اورعطيہ وغيرہ دينا اس حق سے كوئى فائدہ نہيں ديتا، اور نہ ہى اس سے وہ حق ختم ہو جاتا ہے، بلكہ جو كوئى بھى ايسا كرے تو اسے جتنا عطيہ بھى دے دے ليكن وراثت ميں سے حصہ نہ دے تو وہ گنہگار ہوگا، چاہے وہ وراثت كے حصے سے زيادہ رقم كا عطيہ بھى دے دے، كيونكہ اس نے تو يہ اشياء اسے ہديہ اور عطيہ كر كے دى ہيں، نہ كہ انہيں ان كا وراثت ميں سے شرعى حق سمجھ كر.

اور چاہے وہ انہيں وراثت كے حق كے عوض ميں دے تو يہ اسے كوئى فائدہ نہيں ديگا، كيونكہ ہديہ اور چيز ہے، اور بيع اور معاوضہ اور چيز ہے اس ليے وراثت ميں سے ان كا حق ان كى طرف ضرور منتقل ہونا چاہيے، اور اس حق ميں انہيں تصرف اور لين دين كا حق بھى حاصل ہونا چاہيے، چاہيے وہ اپنا حصہ اپنے پاس ركھيں، يا اسے فروخت كر ديں، يا ہبہ كر ديں اور كوئى اور تصرف كريں جس طرح ايك مالك اپنے مال ميں كرتا ہے.

ليكن وہ وراثت كا مال صرف مردوں كے ماتحت رہے، اور مرد جو چاہيں اس ميں تصرف كرتے پھريں، اور عورتيں يا تو ان مردوں كو ہى اپنا حصہ فروخت كرنے پرمجبور ہو جائيں، يا پھر وہ كسى عوض يا بغير عوض كے اپنا حق چھوڑنے پر مجبور ہوں، تو يہ جائز نہيں، بلكہ يہ تو غصب اور ظلم ہے.

كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿ اے ايمان والو! تم اپنا مال آپس ميں ظلم كے ساتھ نہ كھاؤ، مگر يہ كہ وہ آپس ميں رضامندى سے تجارت كے ساتھ ہو ﴾النساء ( 29 ).

اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" خريد و فروخت تو آپس ميں رضامندى سے ہوتى ہے "

سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 2185 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ابن ماجہ ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

اور ايك حديث ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان كچھ اس طرح ہے:

" كسى بھى شخص كا مال اس كى رضامندى كے بغير حلال نہيں "

مسند احمد حديث نمبر ( 20172 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح الجامع حديث نمبر ( 7662 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

اور اسى طرح اگر اسے فروخت كرنے كا سبب مردوں سے شرم و حياء ہو، اور ان كى محبت و رضامندى حاصل كرنے كى حرص ہو تو بھى مندرجہ بالا دلائل كى روشنى ميں يہ جائز نہيں.

ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" تو مكرہ يعنى جس پر جبر كيا گيا ہو حق كے بغير اس كى بيع صحيح نہيں، اس ليے اگر كسى ظالم حكمران نے كسى شخص كو اپنا سامان كسى دوسرے شخص كو فروخت كرنے پر مجبور كيا اور اس نے فروخت كر ديا تو يہ بيع صحيح نہيں ہوگى، كيونكہ يہ سودا رضامندى كے بغير ہوا ہے.

اور اسى طرح يہ بھى ہے كہ اگر آپ كو يہ معلوم ہو جائے كہ اس بائع نے آپ كو اپنا سامان حياء اور شرم كى وجہ سے فروخت كيا ہے تو آپ كے ليے اس سے وہ سامان خريدنا جائز نہيں، جب آپ كو يہ علم ہو جائے كہ اگر شرم اور حياء مانع نہ ہوتى تو وہ يہ سامان آپ كو فروخت نہ كرتا " اھـ

ديكھيں: الشرح الممتع ( 8 / 121 ).

اور جب وراثت سے محروم كى جانے والى عورت اور لڑكى يتيم ہو تو يہ گناہ اور بھى زيادہ شديد ہو جاتا ہے، يعنى ابھى وہ لڑكى بالغ بھى نہ ہوئى اور اس كا والد فوت ہوگيا ہو، اور اسے وراثت سے محروم كر ديا جائے، كيونكہ يہ اللہ تعالى كى حدود سے تجاوز ميں شامل ہوتا ہے، اور پھر يہ لوگوں كا باطل طريقہ سے مال كھانے ميں بھى شامل ہوگا.

اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿ يقينا وہ لوگ جو يتيموں كا مال ناحق طريقے اور ظلم كے ساتھ كھاتے ہيں وہ تو اپنے پيٹوں ميں جہنم كى آگ ڈال رہے ہيں، اور وہ جہنم ميں داخل ہونگے ﴾النساء ( 10 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments