Fri 18 Jm2 1435 - 18 April 2014
47627

امام سجدہ كرنا بھول گيا اور پھر اس نے ركعت دوبارہ ادا كى ليكن بعض مقتديوں نے ركعت نہيں لوٹائى

امام نے عشاء كى نماز پڑھائى اور يہ امام رسمى نہ تھا، آخرى ركعت ميں آخرى سجدہ نہ كيا، اور سلام پھير ديا، نہ تو اسے خود ياد آيا اور نہ ہى كسى نمازى نے ياد دلايا، كچھ منٹوں كے بعد ايك نمازى نے آكر اسے ياد دلايا تو اس نے فورا اٹھ كر كہا كہ بھولے ہوئے سجدہ كو كرنے كے ليے ايك ركعت لوٹائى جائيگى، كيا يہ صحيح ہے ؟
اور اگر ايسا نہيں تو صحيح كيا ہے، اور جس نے اس كے ساتھ آخرى سجدہ نہيں كيا اس كا حكم كيا ہے ؟

الحمد للہ :

اول:

اگر امام نماز ميں بھول جائے تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے مقتديوں كو حكم ديا ہے كہ وہ اسے ياد كرائيں.

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" يقينا ميں تمہارى طرح بشر ہوں، ميں بھى اسى طرح بھول جاتا ہوں جس طرح تم بھولتے ہوں، جب ميں بھول جايا كروں تو مجھے ياد دلا ديا كرو "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 401 ).

مسجد ميں جماعت كے مقتديوں كو چاہيے تھا كہ وہ سبحان اللہ كہتے تا كہ امام متنبہ ہو جاتا اور جو سجدہ وہ بھول گيا تھا وہ كر ليتا.

دوم:

پہلا اور دوسرا دونوں سجدے نماز كے اركان ميں سے ايك ركن ہيں ان كے بغير نماز صحيح نہيں، جس نے عمدا اور جان بوجھ كر ايك يا دونوں سجدے ترك كيے وہ گنہگار ہے، اور اس كى نماز باطل ہو گى، اور جو شخص ايك يا دونوں سجدے كرنا بھول گيا تو ياد آنے كى صورت ميں اسے ادا كرنا ہونگے، چاہے وہ امام ہو يا مقتدى، يا اكيلا نماز ادا كر رہا ہو، اور جو يہ سجدہ نہ كرے اس كى نماز صحيح نہيں.

شيخ محمد بن صالح عثيمين رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

اركان واجب ہيں اور واجبات سے زيادہ ضرورى ہيں، ليكن يہ ان سے اس ميں مختلف ہيں كہ اركان سھو كے ساتھ ساقط نہيں ہوتے، اور واجبات سہو سے ساقط ہو جاتے ہيں، اور سجدہ سہو كرنے سے يہ كمى پورى ہو جاتى ہے بخلاف اركان كے، اس ليے جو بھى كوئى ركن بھول گيا تو اسے ادا كيے بغير نماز صحيح نہيں ہو گى "

ديكھيں: الشرح الممتع ( 3 / 315 ).

شيخ كہتے ہيں:

سجدہ سہو اركان كى كمى پورا نہيں كرتا اس كى دليل يہ ہے كہ:

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے جب ظہر يا عصر كى نماز ميں دو ركعت كے بعد سلام پھير ديا تو اسے پورا كيا اور جو چھوڑا تھا وہ ادا كرنے كے بعد سجدہ سہو كيے.

يہ اس بات كى دليل ہے كہ سہو سے اركان ساقط نہيں ہوتے، اسے ادا كرنا ضرورى ہے "

ديكھيں: الشرح الممتع ( 3 / 323 ).

آپ كے امام نے يا دلانے كے بعد آخرى ركعت مكمل ادا كى وہ اس مسئلہ ميں دو اقوال ميں سے ايك قول ہے، كہ جس نے آخرى ركعت ميں سے كوئى ركن چھوڑ ديا اور اسے اس كا علم سلام پھيرنے كے بعد ہوا تو وہ پورى ركعت ادا كرے، امام احمد رحمہ اللہ كا مسلك يہى ہے.

ديكھيں: المغنى ( 1 / 658 ).

شيخ ابن باز رحمہ اللہ تعالى نے بھى يہى قول اختيار كيا ہے، ان سے درج ذيل سوال دريافت كيا گيا:

عصر كى نماز ميں امام آخرى سجدہ بھول گيا، اور اٹھ كر پورى ركعت ادا كرنے كے بعد تشھد پڑھى اور سلام كے بعد سجدہ سہو كيا، اس كا حكم كيا ہے؟

شيخ رحمہ اللہ تعالى كا جواب تھا:

مشروع يہى ہے كہ جب امام سجدہ بھول جائے پھر اسے ياد آئے يا اسے متنبہ كيا جائے، تو وہ اٹھ كر مكمل ركعت ادا كرے اور سلام پھير كر سجدہ سہو كرے، يہى افضل ہے، اور اسى طرح منفرد شخص كا حكم بھى يہى ہے، اور اگر وہ سلام سے قبل سجدہ سہو كرے تو اس ميں بھى كوئى حرج نہيں، ليكن سلام كے بعد كرنا افضل ہے.

ديكھيں: مجموع فتاوى ابن باز ( 11 / 277 ).

اس مسئلہ ميں دوسرا قول:

پورى ركعت ادا كرنا لازم نہيں، بلكہ جو ركن بھول گيا ہو اسے اور اس كے بعد كو ادا كرے.

امام شافعى رحمہ اللہ تعالى كا مسلك يہى ہے.

ديكھيں: المجموع ( 4 / 33 ).

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى نے اسے اختيار كيا ہے.

ديكھيں: الشرح الممتع ( 3 / 374 ).

حاصل يہ ہوا كہ امام كى نماز اور جنہوں نے اس كے ساتھ نماز مكمل كى ان كى نماز صحيح ہے.

اور جنہوں نے اس كے ساتھ نماز مكمل نہيں كى اور جو سجدہ رہ گيا ہے وہ نہيں كيا اس كى نماز صحيح نہيں، ان پر نماز دوبارہ ادا كرنى واجب ہے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments