47652: اگر دھوكہ اور تدليس نہ ہو تو بالوں كو سياہ كرنا


اگر بال اصل سياہ ہوں تو كيا انہيں سياہ كرنا جائز ہے، دوسرے معنى ميں يہ كہ ميرے بال سياہ تھے تو ميں نے ان كا رنگ تبديل كر كے سرخ كر ليا، اور اب ميں انہيں سياہ كرنا چاہتى ہوں ؟

الحمد للہ:

بالوں كو سياہ كرنے كے متعلق نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے ممانعت اور نہى آئى ہے.

جابر بن عبد اللہ رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ ابو بكر رضى اللہ تعالى عنہ كے والد ابو قحافہ رضى اللہ تعالى عنہ كو بيعت كرنے كے ليے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس لايا گيا تو اس كا سر بالكل سفيد تھا، چنانچہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" اس سفيدى كو تبديل كر دو، اور سياہ رنگ سے اجتناب كرو "

اسے مسلم نے روايت كيا ہے.

اس ليے بالوں كو سياہ رنگ كرنا مشروع نہيں، چاہے بال سرخ ہوں يا سفيد، علماء كرام نے بيان كيا ہے كہ بالوں كو سياہ كرنے كى ممانعت ميں علت يہ ہے كہ ايسا كرنے ميں دھوكہ، اور چھپاؤ، اور انسان كا غير حقيقى چيز ظاہر كرنا ہے، اور خاص كر اس كى عمر بالوں كے رنگ سے معلوم ہوتى كہ آيا اس كے بال سفيد ہيں يا سياہ، يا پھر سفيد و سياہ مخلوط، چنانچہ بالوں كو سياہ كرنے كا معنى يہ ہے كہ وہ نوجوان ہے، حالانكہ حقيقتا وہ بوڑھا يا زيادہ عمر كا ہوتا ہے.

اس علت كى بنا پر اگر بالوں ميں سفيدى نہ ہو، اور نہ ہى بالوں كو سياہ كرنے ميں دھوكہ اور چھپاؤ ہو جيسا كہ مندرجہ بالا صورت جس كے متعلق سوال كيا گيا ہے ہو كہ بال سياہ تھے پھر انہيں سرخ كر ليا گيا ہو تو كيا انہيں سياہ رنگ كرنا جائز ہے يا نہيں ؟

اولى اور بہتر اور احتياط اسى ميں ہے كہ الفاظ حديث كى رعايت ركھتے ہوئے اور اس حديث پر عمل كرتے ہوئے اس سے اجتناب كيا جائے، خاص كر يہ مذكورہ علت ـ جو كہ دھوكہ اور تدليس ـ يہ استنباط شدہ علت ہے، جسے علماء كرام نے مستنبط كيا ہے، نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے بالنص اسے بيان نہيں فرمايا.

ليكن يہاں ايك چيز پر متنبہ رہنا ضرورى ہے:

وہ يہ كہ عورت كو وقت كى اہميت كا اندازہ ہونا چاہيے اور اسے اس كى قدر كرنى چاہيے، اور اسے يہ معلوم ہونا چاہيے كہ يہ دنيا آخرت كى كھيتى ہے، اس ليے اس كے لائق نہيں كہ وہ اكثر اور زيادہ وقت اپنے لباس اور جسمانى امور، اور بناؤ سنگھار ميں گزار دے، جو وقت اس نے عبادت اور اطاعت و فرمانبردارى اور بچوں كى تربيت اور دين كى دعوت، اور لوگوں كے ساتھ احسان و نيكى ميں بسر كرنا تھا وہ ان بے وقعت كاموں ميں بسر كر دے، ليكن اس كا يہ معنى بھى نہيں كہ وہ بناؤ سنگھار كرے ہى نہ، نہيں بلكہ وہ ان اشياء كے ساتھ بناؤ سنگھار كرے جو اللہ تعالى نے حلال كى ہيں، ليكن كيفيت، كميت اور وقت كے اعتبار سے ايك معقول حد ميں رہتے ہوئے.

پھر اس كے شايان شان اور لائق نہيں كہ وہ ہر نئى چيز كو جلدى لے لے، اور جب بھى كوئى نيا فيشن ديكھا اسے لے كر اسے اپنا ليا، كيونكہ ايسا كرنا تو اسے كافر اور فاسق قسم كى عورتوں سے مشابہت ميں لے جائيگا، اور اس كے علاوہ مال اور قيمتى وقت كا ضياع عليحدہ ہوگا، جو وہ اپنے اور اپنى امت كے فائدہ كےاستعمال كر سكتى تھى.

اللہ سبحانہ و تعالى سے دعا ہے كہ وہ ہميں رشد و ہدايت سے نوازے، اور ہميں صحيح قول و عمل كى توفيق نصيب فرمائے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments