Sun 20 Jm2 1435 - 20 April 2014
47705

خاوند كى لاعلمى ميں گھريلو اخراجات ميں سے كچھ رقم صدقہ كرنا

خاوند مجھے ميرے اور بچيوں كے خرچہ كے ليے ہر ماہ كچھ رقم مہيا كرتا ہے، ليكن ميں خاوند كو بتائے بغير اس ميں سے كچھ مبلغ صدقہ كر ديتى ہوں، كيا يہ عمل جائز ہے يا كہ مجھے خاوند سے دريافت كرنا چاہيے، كہ آيا وہ صدقہ كرنے ميں ميرى موافقت كرتا ہے يا نہيں ؟

الحمد للہ:

اگر خاوند اپنے مال ميں سے بيوى كو صدقہ كرنے كى اجازت ديتا ہے تو عورت كے ليے خاوند كے مال سے صدقہ كرنے ميں كوئى حرج نہيں، يہ اجازت زبانى بھى ہو سكتى ہے مثلا بيوى كو كہے: تم ميرے مال سے اتنا صدقہ كرو، يا جتنا چاہو صدقہ كر سكتى ہو.

اور بعض اوقات رواج اور عادت كے مطابق بھى اجازت ہو سكتى ہے، يعنى لوگوں ميں عادت ہو كہ وہ اس طرح كے كام پر راضى ہوتے ہيں، يا پھر بيوى كو علم ہو كہ وہ اس سے راضى ہو گا اور اسے ايسا كرنے سے منع نہيں كريگا.

اس حال ميں بيوى كے ليے اپنے خاوند كے مال سے صدقہ كرنے ميں كوئى حرج نہيں؛ اور بيوى كو بھى صدقہ كرنے كا اجروثواب حاصل ہوگا، اور خاوند كو بھى.

ليكن اگر خاوند اسے منع كر دے، يا پھر بيوى كو علم ہو كہ وہ اس پر راضى نہيں ہوگا تو اس صورت ميں بيوى كے ليے خاوند كے مال سے كچھ بھى صدقہ كرنا جائز نہيں.

ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" كيا بيوى كے ليے خاوند كى اجازت كے بغير خاوند كے مال سے تھوڑى سى رقم بھى صدقہ كرنا جائز ہے يا نہيں ؟

اس ميں دو روايتيں ہيں؛ پہلى روايت يہ ہے كہ: ايسا كرنا جائز ہے؛ كيونكہ عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" عورت جو بھى اپنے خاوند كے گھر سے ( اللہ كى راہ ميں ) خرچ كرتى ہے اور وہ اس ميں خرابى نہ كرنے والى ہو تو اسے اس ميں اجروثواب حاصل ہوتا ہے، خاوند كو كمانے اور بيوى كو خرچ كرنے كا اور خزانچى كو بھى اتنا ہى اجروثواب ملےگا اور ان ميں سے كسى ايك كے اجروثواب ميں كوئى كمى نہيں كى جائيگى "

يہاں اجازت كا ذكر نہيں ہے.

اور اسماء رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ وہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس آئيں اور عرض كيا:

اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم ميرے پاس اپنا كچھ نہيں صرف وہى كچھ ہے جو زبير رضى اللہ تعالى عنہ مجھے ديتے ہيں، تو كيا جو وہ مجھے ديتے ہيں اس ميں سے كچھ عطيہ دے سكتى ہوں ؟

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: تم ميں جتنى استطاعت ہے عطيہ دے ديا كرو "

الرضخ عطاء كو كہا جاتا ہے، اور بخارى شريف كى روايت ميں " تصدقى " كے الفاظ ہيں كہ تم صدقہ كيا كرو "

يہ روايت متفق عليہ ہے.

اور اس ليے بھى كہ عام طور پر عادتا اس كى اجازت ہوتى ہے، اور اس سے دل خوش ہوتا ہے، اس ليے يہ صريح اجازت كے قائم مقام ٹھرا.

اور دوسرى روايت ہے كہ: بغير اجازت ايسا كرنا جائز نہيں؛ ليكن پہلى روايت زيادہ صحيح ہے.....

اور اگر خاوند بيوى كو صدقہ كرنے سے منع كرتے ہوئے كہتا ہے: تم ميرے مال ميں سے كچھ اور تھوڑا يا زيادہ سا بھى صدقہ مت كرو تو عورت كے صدقہ كرنا جائز نہيں ہوگا " اھـ كچھ كمى و بيشى اور اختصار كے ساتھ.

ديكھيں: المغنى ( 4 / 301 ).

خاوند كى اجازت كے بغير صدقہ كرنے كے عدم جواز پر درج ذيل حديث دلالت كرتى ہے:

ابو امامہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں ميں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو فرماتے ہوئے سنا:

" عورت اپنے گھر سے خاوند كى اجازت كے بغير كچھ بھى خرچ مت كرے، عرض كيا گيا: اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم غلہ اور كھانا بھى نہيں ؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: يہ تو ہمارے سب سے افضل مال ميں سے ہے "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 3565 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ابو داود ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

" الا باذن زوجھا " يعنى خاوند كى صريح يا پھر دلالت حال كى اجازت كے بغير صدقہ مت كرے " عون المعبود.

مستقل فتوى كميٹى كے علماء كرام سے درج ذيل مسئلہ دريافت كيا گيا:

ايك عورت خاوند كى اجازت كے بغير خاوند كا مال صدقہ كرتى ہے كيا ايسا كرنا جائز ہے ؟

كميٹى كے علماء كا جواب تھا:

" اصل تو يہى ہے كہ عورت خاوند كا مال اس كى اجازت كے بغير صدقہ مت كرے، ليكن تھوڑا سا جس كى عام طور پر عادت ہو مثلا پڑوسيوں كى صلہ رحمى اور سوال كرنے بھكاريوں كے ليے تھوڑى سى چيز جس سے خاوند كو ضرر و نقصان نہ ہو، اور اس كا اجروثواب دونوں كو حاصل ہوگا؛ كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" عورت جو بھى اپنے خاوند كے گھر سے ( اللہ كى راہ ميں ) خرچ كرتى ہے اور وہ اس ميں خرابى نہ كرنے والى ہو تو اسے اس ميں اجروثواب حاصل ہوتا ہے، خاوند كو كمانے اور بيوى كو خرچ كرنے كا اور خزانچى كو بھى اتنا ہى اجروثواب ملےگا اور ان ميں سے كسى ايك كے اجروثواب ميں كوئى كمى نہيں كى جائيگى " اھـ

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ و الافتاء ( 10 / 81 ).

شيخ محمد صالح ابن عثيمين رحمہ اللہ سے درج ذيل سوال كيا گيا:

كيا عورت كے ليے خاوند كى اجازت كے بغير خود بخود صدقہ كرنا جائز يا كسى فوت شدہ كے ليے ؟

شيخ رحمہ اللہ كا جواب تھا:

" يہ سب كو معلوم ہے كہ خاوند كا مال خاوند كى ملكيت ہے، اور كسى شخص كے ليے كسى دوسرے كا مال اس كى اجازت كے بغير صدقہ كرنا جائز نہيں.

اس ليے اگر خاوند اپنى بيوى كو اپنے ليے يا پھر اپنے كسى فوت شدہ شخص كے ليے صدقہ كرنے كى اجازت دے تو اس ميں كوئى حرج نہيں، ليكن اگر وہ اجازت نہيں ديتا تو پھر خاوند كے مال سے كچھ بھى صدقہ كرناحلال نہيں ہے؛ كيونكہ وہ مال تو خاوند كى مليكت ہے، اور كسى بھى مسلمان شخص كا مال اس كى مرضى كے بغير لينا حلال نہيں " اھـ

ديكھيں: مجموع فتاوى ابن عثيمين ( 18 / 472 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments