Fri 18 Jm2 1435 - 18 April 2014
47736

كيا غير مسلم كا مدينہ ميں داخل ہونا جائز ہے ؟

كيا غير مسلم شخص كا مدينہ ميں حرم كى حدود ميں كسى ضرورت كے ليے داخل ہونا جائز ہے ؟

الحمد للہ:

اول:

كسى بھى كافر كے ليے جزيرہ عرب ميں رہائش كو ممكن بنانا جائز نہيں، علماء كرام ميں جزيرہ عرب كى تحديد ميں اختلاف پايا جاتا ہے، ليكن مدينہ منورہ كا جزيرہ عرب ميں شامل ہونے كے متعلق كوئى اختلاف نہيں ہے.

ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" ان ميں ( يعنى كفار ) ميں سے كسى كو بھى حجاز ميں رہائش اختيار كرنا جائز نہيں، امام مالك، امام شافعى رحمہم اللہ كا يہى قول ہے، اور امام مالك رحمہ اللہ كہتے ہيں كہ: ميرى رائے يہ ہے كہ عرب كا سارا علاقہ كفار سے پاك ہونا چاہيے، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جزيرہ عرب ميں دو دين اكٹھے نہيں ہو سكتے "

اور ابو داود رحمہ اللہ نے اپنى سند كے ساتھ عمر رضى اللہ تعالى عنہ سے روايت كيا ہے كہ انہوں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو يہ فرماتے ہوئے سنا:

" ميں يہوديوں اور عيسائيوں كو جزيرہ عرب سے ضرور نكال باہر كرونگا، اس ميں سوائے مسلمان كے كسى نہيں چھوڑونگا "

ترمذى رحمہ اللہ كہتے ہيں كہ يہ حديث حسن صحيح ہے.

اور ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما سے مروى ہے كہ:

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے تين چيزوں كى وصيت فرمائى: فرمايا:

" جزيرہ عرب سے مشركوں كو نكال دو، اور وفد كى آؤ بھگت اسى طرح كرو جس طرح ميں كرتا ہوں، اور تيسرى سے خاموش رہے "

سنن ابو داود.

ديكھيں: المغنى ابن قدامہ ( 9 / 285 - 286 ).

دوم:

كفار تجارت كے ليے مدينہ ميں داخل ہو سكتے ہيں، ليكن وہاں اقامت اختيار نہيں كر سكتے، اور انہيں اس كے ليے كافى وقت دے كر پھر انہيں وہاں سے سفر كرنا كا حكم ديا جائيگا.

ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اور وہ تجارت كے ليے حجاز ميں داخل ہو سكتے ہيں؛ كيونكہ عمر رضى اللہ تعالى عنہ كے دور ميں عيسائى مدينہ ميں تجارت كے ليے جايا كرتے تھے، عمر رضى اللہ تعالى عنہ كے پاس ايك بوڑھا شخص آيا اور كہنے لگا:

ميں نصرانى بوڑھا ہوں اور آپ كے عامل نے مجھ سے دو بار عشر ليا ہے تو عمر رضى اللہ تعالى عنہ كہنے لگے:

ميں دين حنيف پر چلنے والا ہوں، اور پھر عمر رضى اللہ تعالى عنہ نے اس كے ليے يہ كلمات لكھ ديے: سال ميں صرف ايك بار عشر ليا جائے، اور ان كے ليے تين دن سے زيادہ رہنے كى اجازت نہ دى جائے "

عمر رضى اللہ عنہ سےايسا ہى مروى اور منقول ہے.

اور قاضى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

وہ چار يوم تك رہ سكتا ہے، جس قدر مسافر اپنى نماز مكمل ادا كرتا ہے.

ديكھيں: المغنى ابن قدامہ المقدسى ( 9 / 286 ).

سوم:

ہم نے جو كچھ مدينہ اور مدينہ كى حدود حرم كے متعلق بيان كيا ہے وہ حرم مكى پر منطبق نہيں ہوتا، كيونكہ مكہ ميں ہرحالت ميں كفار كا داخلہ ممنوع ہے.

الموسوعۃ الفقھيۃ ميں درج ہے:

جمہور علماء كرام اور ان كے ساتھ احناف ميں سے محمد بن حسن بھى شامل ہيں كے ہاں مكہ كى حدود حرم ميں كسى بھى حالت ميں كافر كا داخلہ ممنوع ہے، اور احناف كا مسلك يہ ہے كہ صلح يا اجازت كے ساتھ داخل ہونا جائز ہے.

ليكن مدينہ كى حدود حرم ميں كسى ايلچى يا تجارت يا سامان اٹھانے والے كو داخل ہونے سے نہيں روكا جائيگا، ليكن اس كے علاوہ ـ باقى سرزمين عرب ـ ميں اجازت يا صلح كے بغير كافر داخل نہيں ہو سكتا، فقھاء كرام اس ميں تفصيل بيان كرتے ہيں .... انتہى.

ديكھيں: الموسوعۃ الفقھيۃ ( 3 / 130 - 131 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments