47756: ملتزم كيا ہے، اور وہاں دعا كى كيا كفيت ہے ؟


ملتزم كيا چيز ہے، اور وہاں دعا كيسے كى كيفيت كيا ہو گى ؟

الحمد للہ:

ملتزم كعبہ ميں ايك جگہ كا نام ہے، اور يہ جگہ حجر اسود سے ليكر كعبہ كے دروازے تك ہے، اور التزام يا ملتزم كا معنى چمٹنا ہے، كيونكہ يہاں دعا كرنے والا شخص اپنا چہرہ، ہتھيلياں، اور بازو لگاتا اور چمٹاتا ہے، اور جو چاہے وہ يہاں آسانى سے دعا كرتا ہے.

اور اس ميں كوئى مخصوص دعا نہيں جو مسلمان شخص يہاں مانگے بلكہ جو بھى چاہے دعا كر سكتا ہے، اور كعبہ ميں داخل ہوتے وقت بھى ملتزم پر جايا جا سكتا ہے ( اگر جانا ميسر ہو ) اور طواف وداع كرنے سے پہلے بھى كر سكتا ہے، اور يا پھر كسى بھى وقت وہ ملتزم پر جا كر دعا كر سكتا ہے اس كے كوئى خاص وقت مقرر نہيں.

ليكن دعا كرنے والے شخص كو چاہيے كہ وہ دوسروں كو تنگ نہ كرے اور نہ ہى اتنى لمبا عرصہ وہاں چمٹا رہے كہ دوسرے لوگوں كو موقع ہى نہ ملے، اور اسى طرح وہاں دھكم پيل كرنا بھى جائز نہيں، اور يہاں جانے كے ليے لوگوں كو اذيت سے دوچار كرنا بھى جائز نہيں ہے، اس ليے ديكھےكہ اگر وہاں رش نہيں اور فرصت ہے تو وہاں جا كر دعا كر لے، اور اگر موقع نہ ملے تو پھر اس كے ليے طواف اور نماز كے سجدوں ميں ہى دعا كرنا كافى ہے.

ملتزم پر چمٹنے كے متعلق صحابہ كرام رضى اللہ عنہم سے جو مروى ہے اس ميں صحيح ترين يہى ہے كہ:

عبد الرحمن بن صفوان رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ جب رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فتح مكہ كيا تو ميں كہنے لگا:

ميں اپنا لباس زيت تن ضرور كرونگا، كيونكہ ميرا گھر راستے كے اوپرتھا اور ميں ديكھوں گا كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ كيا كرتے ہيں، چنانچہ ميں گيا تو ديكھا كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كے صحابہ كعبہ كے اندر سے باہر آئے، اور انہوں نے بيت اللہ كو دروازے سے ليكر حطيم تك استلام كيا اور بوسہ ليا، اور انہوں نے اپنے رخسار بيت اللہ پر ركھے ہوئے تھے،اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم ان كے درميان تھے "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 1898 ) مسند احمد حديث نمبر ( 15124 )

اس كى سند ميں يزيد بن ابو زياد ہے، ابن معين اور ابو حاتم اور ابو زرعۃ وغيرہ نے اسے ضعيف كہا ہے.

اور عمرو بن شعيب اپنے باپ سے بيان كرتے ہيں كہ:

" ميں نے عبد اللہ رضى اللہ تعالى عنہما كے ساتھ طواف كيا اور جب ہم كعبہ كے پچھلى طرف آئے تو ميں نے كہا: كيا تم پناہ نہيں مانگو گے ؟ تو وہ كہنے لگے: ہم آگ سے اللہ كى پناہ ميں آتے ہيں، پھر وہاں سے چلے حتى كہ حجر اسود كا استلام كيا اور دروازے اور كونے كے درميان كھڑے ہو كر اپنا سينہ اور چہرہ اور دونوں بازو اور ہتھيلياں كعبہ كے ساتھ اس طرح لگائيں اور انہيں كھول كر ركھا، پھر كہنے لگے:

ميں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو اس طرح كرتے ہوئے ديكھا تھا "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 1899 ) سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 2962 ) اس كى سند ميں مثنى بن الصباح ہے جسے امام احمد اور ابن معين اور ترمذى اور نسائى وغيرہ نے ضعيف كہا ہے، يہ دونوں حديثيں ايك دوسرے كى شاہد ہيں، اور علامہ البانى رحمہ اللہ نے السلسلۃ الصحيحۃ حديث نمبر ( 2138 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

اور ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما سے بيان كيا جاتا ہے كہ انہوں نے فرمايا:

" حجر اسود اور دروازے كے درميان ملتزم ہے "

شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

اگر وہ پسند كرے تو ملتزم ـ حجر اسود اور دوازے كے درميان جگہ ـ پر آئے اور وہاں اپنا سينہ اور چہرہ اور بازو اور ہتھيلياں ركھے، اور اللہ تعالى سے اپنى ضروريات طلب كرتا ہوا دعا كرے، وہ چاہے تو طواف كرنے سے قبل ملتزم پر آسكتا ہے اور چاہے تو بعد ميں، طواف وداع اور اس سے پہلے ملتزم پر جانے ميں كوئى فرق نہيں.

صحابہ كرام جب مكہ داخل ہوتے تو وہ ايسا ( ملتزم پر جاتے ) كيا كرتے تھے، اور اگر چاہے تو ابن عباس سے منقول درج ذيل ماثور دعا پڑھے:

" اللهمَّ إني عبدك وابن عبدك وابن أمتك حملتني على ما سخرتَ لي مِن خلقك وسيرتَني في بلادك حتى بلغتَني بنعمتِك إلى بيتِك وأعنتَني على أداء نسكي فإنْ كنتَ رضيتَ عني فازدَدْ عني رضا وإلا فمِن الآن فارضَ عني قبل أنْ تنآى عن بيتك داري فهذا أوان انصرافي إنْ أذنتَ لي غير مستبدلٍ بك ولا ببيتِك ولا راغبٍ عنك ولا عن بيتِك اللهمَّ فأصحبني العافيةَ في بدني والصحةَ في جسمي والعصمة في ديني وأحسن منقلبي وارزقني طاعتك ما أبقيتَني واجمع لي بين خيري الدنيا والآخرة إنك على كل شيء قدير "

اے اللہ ميں تيرا بندہ ہوں اور تيرے بندے كا بيٹا ہوں، اور تيرى بندى كا بيٹا ہوں، تو نے مجھے اپنى مخلوق ميں سے ميرے ليے مطيع كردہ مخلوق پر سوار كرايا، اور تو نے مجھے اپنے شہروں ميں چلايا، حتى كہ مجھے تيرى نعمت كے ساتھ تيرے گھر بيت اللہ تك پہنچايا، اور مناسك حج اور عمرہ ادا كرنے ميں تو نے ميرى اعانت و مدد كى.

اگر تو مجھ سے راضى ہے تو ميرے ليے اپنى رضامندى ميں اور اضافہ كر وگرنہ ابھى مجھ سے راضى ہو جا قبل اس كے كہ ميں تيرا گھر چھوڑ كر اپنے گھر واپس جاؤں، اگر تو مجھے جانے كى اجازت دے تو يہ ميرے جانے كا وقت ہے، نہ تو ميں تيرے علاوہ كسى اور كو چاہتا ہوں، اور نہ ہى تيرے بيت اللہ كے علاوہ كوئى اور گھر چاہتا ہوں، اور نہ ہى تجھ اور نہ ہى تيرے گھر بيت اللہ سے بے رغبتى برتتا ہوں.

اے اللہ ميرے بدن كو عافيت عطا فرما، اور ميرے جسم كو صحت دے اور ميرے دين كو عصمت عطا كر، اور ميرا واپس پلٹنا بہتر اور اچھا كر دے، اور مجھے اپنى اطاعت و فرمانبردارى كرنے كى توفيق نصيب فرما جب تك ميرى زندگى ہے، اور ميرے ليے دين و دنيا كى بھلائى جمع كر دے، يقينا تو ہر چيز پر قادر ہے "

اور اگر وہ بيت اللہ كے دروازے كے قريب كھڑا ہو ملتزم كے ساتھ چمٹے بغير دعا كرے تو يہ بہتر ہے "

ديكھيں: مجموع فتاوى ابن تيميہ ( 26 / 142 - 143 ).

اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اس مسئلہ ميں علماء كرام كا اختلاف ہے، حالانكہ يہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے ثابت نہيں ( يعنى اس سلسلے ميں وارد شدہ احاديث كو ضعيف مانتے ہوئے، كوئى حديث صحيح وارد نہيں ) بلكہ بعض صحابہ كرام رضى اللہ عنہم سے ايسا كرنا ثابت ہے.

تو كيا ملتزم كے ساتھ چمٹنا سنت ہے ؟

اور اس كا وقت كيا ہے ؟

اور آيا كہ يہ آتے وقت كيا جائيگا، يا كہ واپس جاتے وقت، يا كہ ہر وقت ہو سكتا ہے ؟

علماء كرام كے ہاں اس اختلاف كا سبب يہ ہے كہ: اس كے متعلق نبى كريم صلى اللہ عليہ و سلم سے صحيح حديث ثابت نہيں، ليكن صحابہ كرام رضى اللہ عنہم مكہ جاتے ہوئے ايسا كرتے تھے.

فقھاء كرام كا كہنا ہے كہ: حاجى وہاں سے واپس آتے وقت ايسا كرے اور ملتزم كے ساتھ چمٹ كردعا كرے، ملتزم دوازے اور حجر اسود كے درميان كى جگہ كو كہا جاتا ہے....

اس بنا پر ملتزم كے ساتھ چمٹنے ميں كوئى حرج نہيں ليكن شرط يہ ہے كہ ايسا كرنے ميں كسى كو تنگى اور اذيت نہ پہنچتى ہو "

ديكھيں: الشرح الممتع ( 7 / 402 - 403 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments