Thu 17 Jm2 1435 - 17 April 2014
48956

کیا خاوند اپنی بیوی کواعتکاف کرنے سے منع کرسکتا ہے ؟

کیا خاوند بیوی کو اعتکاف سے روکنے کا حق رکھتا ہے ؟

الحمد للہ
بیوی کے لیے جائزنہیں کہ وہ خاوندکی اجازت کے بغیر اعتکاف کرے ، اس لیے کہ مسجدمیں اعتکاف کرنے سے خاوند کا حق فوت ہوجاتا ہے ۔

لیکن اگر خاوند اسے اعتکاف کی اجازت دیتا ہے تواسے اس اجازت سے رجوع اوربیوی کواعتکاف سے نکالنے کا بھی حق حاصل ہے ۔

ابن قدامہ رحمہ اللہ تعالی المغنی میں کہتے ہیں :

بیوی اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر اعتکاف نہيں کرسکتی ۔۔۔ لھذا اگر خاوند نے اسے اجازت دے دی اوردوران اعتکاف وہ بیوی کو اعتکاف سے نکالنا چاہے تو اسے نفل میں یہ حق حاصل ہے ، امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی یہی کہنا ہے ۔۔۔

لیکن اگر اس نے کسی نذر والی چيز میں اجازت دی تو اسے دوران عمل ختم کرانے کا حق حاصل نہيں کیونکہ اس عمل کی ابتداء کرنے سی تعیین ہوجاتی ہے ، جس کا مکمل کرنا واجب ہے ، تویہ حج کی طرح ہی ہوجائے گا کہ جب عورت سے حج کا احرام باندھ لیا تو اسے مکمل کرنا ہوگا ۔ اھ کچھ کمی وبیشی کے ساتھ ۔

دیکھیں : المغنی لابن قدامۃ المقدسی ( 4 / 485 ) ۔

سنت نبویہ بھی اس پر دلالت کرتی ہے خاوندکی اجازت کے بغیر بیوی اعتکاف نہیں کرسکتی ۔

عائشہ رضي اللہ تعالی بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف کا ارادہ کرتے تونماز فجر ادا کرنے کے بعد معتکف میں داخل ہوجاتے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری عشرے کا اعتکاف کرنا چاہا توخیمہ لگانے کا حکم دیا توخیمہ لگادیا گيا ، زینب رضي اللہ تعالی نے اپنا خيمہ لگانے کا حکم دیا توان کا خیمہ بھی لگادیا گيا ، اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری بیویوں نے اپنے خیمے لگانے کا حکم دیا توان کے خیمے بھی لگادیے گئے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجرادا کرلی توبہت سے خیمے دیکھے تونبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے :

کیا یہ نیکی چاہتی ہیں ، توان کے خیمے اکھاڑنے کا حکم دیا اوراعتکاف چھوڑ دیا اورپھر شوال کے پہلے عشرے کا اعتکاف کیا ۔

صحیح بخاری حدیث نمبر ( 2033 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1173 )

اوربخاری کی ایک روایت میں ہے کہ :

( عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی توانہيں اجازت دے دی ، اورحفصہ رضي اللہ تعالی نے بھی عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا سے اجازت طلب کرنے کا کہا توانہوں نے ان کی بھی اجازت لے لی )۔

امام نووی رحمہ اللہ تعالی عنہ اس کی شرح میں کہتے ہیں :

( نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سے خیمے دیکھے توفرمانے لگے : کیا وہ نیکی اوراطاعت کرنا چاہتی ہیں؟ اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیمے اکھاڑنے کا حکم دیا تواکھاڑ دیے گئے )

فوض : یعنی اکھاڑدیے گئے ۔

البر: یعنی اطاعت ۔

قاضی رحمہ اللہ کا کہنا ہے :

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ان کے فعل کے انکار میں کہی ، اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ کو اس کی اجازت بھی دی جیسا کہ بخاری کی روایت میں واضح ہے ، وہ کہتے ہیں : اس فعل پر انکار کرنے کا سبب یہ تھا کہیں وہ اپنے اعتکاف میں مخلص نہ ہوں ، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب رہنا چاہتی ہوں ، یا تونبی صلی اللہ علیہ وسلم پرغیرت کرتےہوئے یا پھر جن کواجازت مل گئي ان سے غیرت کرنے لگیں ۔

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں ان کا رہنا صحیح نہ سمجھا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوگ جمع ہوتے اوراعرابی اور منافق بھی وہاں آتے تھے ، اورازاوج مطہرات وہاں سے آنے جانے کی محتاج تھیں جس کی بنا پرانہيں تنگی ہوتی ۔

یا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہيں اپنے پاس مسجدمیں دیکھا اوروہ خود بھی مسجد میں تھے توایسے ہی ہوا کہ وہ اپنی بیویوں کے ساتھ گھر میں ہی ہیں ، جس کی بنا پراعتکاف کا سب سےاہم مقصد جاتا رہتا جوکہ بیوی اوردنیاوی متعلقات وغیرہ سے علیحدگی ہے ۔

یا پھریہ تھا کہ انہوں نے اپنے خیموں سے مسجد تنگ کردی تھی ، اوراس حدیث میں عورتوں کا اعتکاف صحیح ہونے کی دلیل پائی جاتی ہے ، اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہيں اعتکاف کی اجازت دی تھی ، اوربعد میں انہيں کسی سبب کے باعث منع کیا تھا ۔

اس حدیث میں دلیل ہے کہ خاوند کی اجازت کے بغیر بیوی اعتکاف نہيں کرسکتی ، سب علماء کرام نے بھی یہی کہا ہے اوراگرخاوند بیوی کواعتکاف کی اجازت دے دے توکیا بعد میں وہ بیوی کواعتکاف سے روک سکتا ہے ؟

اس میں علماء کرام کا اختلاف ہے ، امام شافعی اورامام احمد ، داود رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں کہ اسے نفلی اعتکاف سے نکالنے کا حق حاصل ہے ۔ اھـ

اورابن المنذر وغیرہ کا کہنا ہے کہ :

حدیث میں ہے کہ عورت خاوندکی اجازت کے بغیر اعتکاف نہیں کرسکتی اوراگراجازت کے بغیر اعتکاف کرے توخاوند کواسے اعتکاف سے نکالنے کا حق حاصل ہے ، اوراگر اجازت سے اعتکاف کرے توپھربھی خاوند کو حق ہے کہ وہ اجازت سے رجوع کرتے ہوئے اسے اعتکاف سے روک دے ۔

اوراہل الرائے کہتے ہیں کہ : اگر خاوند نے اجازت دے دی اورپھر اسے منع کردیا تواس سے وہ گنہگار ہوگا لیکن عورت اعتکاف سے رک جائے گی ۔

اورامام مالک رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں خاوند کا اس کا حق نہیں ، لیکن یہ حدیث ان کےخلاف دلیل ہے ۔ اھـ فتح الباری ۔

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments