Fri 25 Jm2 1435 - 25 April 2014
49002

اعتكاف كے ليے كم از كم مدت

اعتكاف كى كم از كم مقدت كتنى ہے ؟
كيا ممكن ہے كہ ميں تھوڑا وقت اعتكاف كر لوں، يا كہ كچھ ايام كا اعتكاف كرنا ضرورى ہے ؟

الحمد للہ :

اعتكاف كى كم از كم مدت ميں علماء كرام كا اختلاف ہے:

جمہور علماء كرام كہتے ہيں ايك لحظہ كا بھى اعتكاف ہو سكتا ہے، امام احمد، امام شافعى اور امام ابو حنيفہ رحمہم اللہ كا مسلك يہى ہے.

ديكھيں: الدر المختار ( 1 / 445 ) المجموع ( 6 / 489 ) الانصاف ( 7 / 566 ).

امام نووى رحمہ اللہ تعالى" المجموع " ميں كہتے ہيں:

اور اعتكاف كى كم از كم مدت ميں جمہور علماء كرام نے جو صحيح بيان كيا ہے، كہ اس ميں مسجد ميں ٹھرنے كى شرط لگائى ہے، اس ميں كثير اور قليل حتى كہ ايك گھنٹہ اور لحظہ بھى ہے. اھـ اختصار كے ساتھ

ديكھيں: المجموع للنووى ( 6 / 514 ).

اور انہوں نے كئى ايك دلائل سے استدلال كيا ہے:

1 - لغت ميں اعتكاف ٹھرنے كو كہتے ہيں، اور يہ كم اور زيادہ مدت پر صادق آتا ہے، اور شريعت ميں كوئى دليل نہيں ملتى جو اس مدت كو محدود اور معين كرتى ہو.

ابن حزم رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" عربى لغت ميں اعتكاف ٹھرنے كو كہتے ہيں، تو مسجد ميں اللہ تعالى كے قريب كى نيت سے ٹھرنا اعتكاف كہلاتا ہے.... چاہے مدت كم ہو يا زيادہ، كيونكہ قرآن و سنت نے كوئى تعداد اور وقت مقرر نہيں كيا" اھـ

ديكھيں: المحلى ابن حزم ( 5 / 179 ).

2 - ابن ابى شيبہ رحمہ اللہ تعالى نے يعلى بن اميہ رضى اللہ تعالى عنہ سے بيان كيا ہے كہ انہوں نے كہ:

" ميں ايك گھڑى مسجد ميں رہونگا، اور اعتكاف كے ليے ہى ٹھرونگا اس سے ابن حزم رحمہ اللہ تعالى نے ابن حزم ميں دليل پكڑى ہے.

ديكھيں: ابن حزم ( 5 / 179 ) اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالى نے اس روايت كو فتح البارى ميں ذكر كرنے كے بعد اس پر سكوت اختيار كيا ہے.

اور گھڑى وقت كا ايك حصہ ہے، آج اصطلاح ميں جو ساٹھ منٹ كا گھنٹہ ہے وہ مراد نہيں.

اور بعض علماء كرام كہتے ہيں كہ اعتكاف كى كم از كم مدت ايك دن ہے، يہ ابو حنيفہ رحمہ اللہ تعالى سے ايك روايت اور بعض مالكيہ كا قول ہے.

اور شيخ ابن باز رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" اعتكاف مسجد ميں اللہ تعالى كى اطاعت كے ليے ٹھرنے كو كہتے ہيں چاہے تھوڑى يا زيادہ دير كے ليے ٹھرا جائے، كيونكہ ميرے علم كے مطابق اس كى تحديد ميں كوئى دليل وارد نہيں، نہ تو ايك دن اور نہ ہى دو دن يا اس سے زيادہ، اور يہ اعتكاف ايك مشروع عبادت ہے، ليكن اگر كوئى شخص نذر مانے تو يہ واجب ہو جاتا ہے، اور يہ مرد اورعورت ميں برابر ہے. اھـ

ديكھيں: مجموع الفتاوى ابن باز ( 15 / 441 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments