49007: اعتكاف كا بنيادي ھدف ، اور مسلمانوں نےيہ سنت كيوں ترك كردي ؟


مسلمانوں نےاعتكاف كرنا كيوں ترك كرديا ہے حالانكہ يہ نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم كي سنت ہے؟
اور اعتكاف كا بنيادي ھدف كيا ہے ؟

الحمد للہ :

اول:

اعتكاف نبي كريم صلي اللہ وسلم كي سنن مؤكدہ ميں سے ہے جس پر نبي صلي اللہ عليہ وسلم نے ساري زندگي ہمشگي كي ہے.

آپ اعتكاف كي مشروعيت كےدلائل ديكھنے كےليے سوال نمبر ( 48999 ) كا جواب ديكھيں .

يہ سنت مسلمانوں كي زندگي سے مخفي ہوچكي ہے صرف وہيں اس سنت پر عمل كرتےہيں جن پر اللہ تعالي كا رحم وكرم ہے، اس سنت كےمتعلق بھي مسلمانوں كي حالت وہي ہے جودوسري سنتوں كےساتھ ہے جنہيں وہ كر چكےہيں يا پھر قريب ہےكہ انہيں ختم كرديں .

اس كےكئي ايك اسباب ہيں ان ميں چندايك يہ ہيں:

1 - بہت سےلوگوں ميں ايماني كمزوري .

2 - دنيا كي لذت اور شھوات ميں بہت زيادہ دھيان، جس نےان ميں ان لذتوں اور شھوات سے دوررہنےكي قدرت ہي ختم كرڈالي ہے اگرچہ تھوڑي دير ہي دور نہيں ہوسكتے.

3 - بہت سےلوگوں كےنفسوں ميں جنت كي اھميت كا ہلكا ہوجانا، اور ان كا راحت وآرام كي جانب ميلان جس كي بنا پر وہ اعتكاف كي مشقت برداشت ہي نہيں كرسكتےاگرچہ اس ميں اللہ تعالي كي رضا وخوشنودي ہے.

جس نےبھي جنت اور اس كي نعمتوں كي قدرومنزلت اور عظمت كو پہچان ليا وہ اسے حاصل كرنے كےليے قيمتي سے قيمتي چيزبھي خرچ كرديتا ہے رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

( خبردار اللہ تعالي كا مال بڑا قيمتي ہے خبردار اللہ تعالي كا مال جنت ہے ) اسے ترمذي نےروايت كيا اور علامہ الباني رحمہ اللہ تعالي نے صحيح ترمذي ( 2450 ) ميں صحيح قرار ديا ہے.

4 - بہت سےلوگوں كا صرف زباني كلامي نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم سے محبت كا اظہار اور عملي طور محبت كا نہ پايا جانا، يہ محبت سنت محمديہ صلي اللہ عليہ وسلم پر عمل پيرا ہونے اور اس كي تطبيق كا نام جس ميں اعتكاف بھي شامل ہے.

فرمان باري تعالي ہے:

{يقينا تمہارےليے رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم ميں عمدہ نمونہ ( موجود ) ہے، ہر اس شخص كےليے جو اللہ تعالي كي اور قيامت كےدن توقع ركھتا ہے، اور بكثرت اللہ تعالي كي ياد كرتا ہے} الاحزاب ( 21 )

حافظ ابن كثيررحمہ اللہ تعالي اس آيت كي تفسير ميں كہتےہيں:

يہ آيت رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم كےاقوال، افعال اور احوال كي پيروي واقتدا كي اصل اصيل اور دليل ہے. اھ

ديكھيں: تفسير ابن كثير ( 3 / 756 )

بعض سلف نے تومسلمانوں كا اعتكاف ترك كرنےپر تعجب كا اظہار كيا ہے حالانكہ نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم نےباقاعدگي كےساتھ ہميشہ اعتكاف كيا ہے.

ابن شھاب زھري رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں:

مسلمانوں پر تعجب ہے كہ انہوں نےاعتكاف ترك كرديا ہےحالانكہ نبي كريم صلي اللہ جب سے مدينہ ميں آئے اعتكاف نہيں چھوڑا حتي كہ اللہ تعالي نےان كي روح كي قبض كرلي .

دوم:

نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم نےاپني زندگي كےآخرتك رمضان كےآخري عشرہ كا اعتكاف باقاعدگي سے ہميشہ كيا، اوريہ چند ايام ايك تربيتي دورہ كي طرح ہيں، انسان كي زندگي ميں اعتكاف كي راتوں اور دنوں كےبہت سے ايجابي اور فوري نتائج مرتب ہوتےہيں، اورانسان كي زندگي پر دوسرے رمضان المبارك تك كےليے اس كا ايجابي اثر بھي ہوتا ہے .

مسلمانوں آج اس سنت كوزندہ كرنے كي بہت زيادہ ضرورت ہے اور اسے اس طريقہ اپنانےكي ضرورت ہےجس طرح نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم اور صحابہ كرام نےاپنايا تھا.

لوگوں كي غفلت اور امت ميں فساد بپاہونےكےباوجود اس پر عمل پيرا ہونےوالوں كي خوش نصيبي اور بہت بڑي كاميابي ہے.

سوم:

نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم كےاعتكاف كا بنيادي اور اساسي ہدف ليلۃ القدر كي تلاش اور اس كا حصول تھا:

ابوسعيد خدري رضي اللہ تعالي عنہ بيان كرتےہيں كہ: رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نے رمضان المبارك كےپہلےعشرہ كا اعتكاف كيا، پھر درميانے عشرہ كا تركي خيمہ ميں اعتكاف كيا جس كےدروازےپر چٹائي لٹكائي ہوئي تھي، ابوسعيد رضي اللہ تعالي كہتےہيں: نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم نےاپنے ہاتھ سے وہ چٹائي خيمہ كےايك كنارے كي طرف كركے اپنا سرنكالا اور لوگوں سےبات كي تولوگ آپ كےقريب ہوگئے تورسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

ميں نےيہ رات تلاش كرنےكےليے پہلےعشرے كا اعتكاف كيا، پھر درميانے عشرہ كا بھي اعتكاف كيا پھر ميرے پاس آنےوالا آيا اور مجھےيہ كہا گياكہ يہ رات آخري عشرہ ميں ہے، لھذا تم ميں سے جو بھي اعتكاف كرنا پسند كرتا ہے وہ اعتكاف كرے، تو لوگوں نےنبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم كےساتھ اعتكاف كيا. صحيح مسلم حديث نمبر ( 1167 )

اس حديث ميں بہت سےفوائد ہيں:

1 - نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم كےاعتكاف كا اساسي و بنيادي ہدف ليلۃ القدر كا حصول اور اس رات كےقيام كي استعداد پيدا كرنا اور وہ رات عبادت كر كےبسر كرنا تھا، اس ليے كہ اس رات كو بہت عظيم فضيلت حاصل ہے:

فرمان باري تعالي ہے:

{ليلۃ القدر ہزار مہينوں سے بہتر ہے} القدر ( 3 )

2- اس رات كا علم ہونےسے قبل نبي صلي اللہ عليہ وسلم كا اس كي تلاش ميں كوشش وجستجو كرنا، اسي ليے پہلےعشرہ كےاعتكاف سے ابتدا كي اور پھر درميانےعشرہ كا اعتكاف كيا اور جب يہ علم ہوا كہ يہ رات آخري عشرہ ميں ہے توپھرمہينہ كےآخر تك اعتكاف جاري ركھا، يہ سب كچھ ليلۃ القدر كي تلاش اور جستجوكي چوٹي ہے.

3 - صحابہ كرام رضوان اللہ عليھم اجمعين كا رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم كي پيروي اور اتباع كرنا، كيونكہ انہوں نےبھي رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم كےساتھ ہي اعتكاف كيا اور آپ كےساتھ مہينہ كےآخر تك اعتكاف كي حالت ميں ہي رہے، اوريہ سب كچھ نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم كي اتباع و پيروي ميں ان كي شديد حرص كي بنا پر تھا.

4 - نبي كريم صلي اللہ كي اپنےصحابہ كرام پرشفقت اوررحمت، اعتكاف كي مشقت كومد نظر ركھتےہوئے نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم نےانہيں اپنےساتھ اعتكاف جاري ركھنےيا اعتكاف ختم كرنےكااختيار ديتےہوئےفرمايا: ( تم ميں سے جوبھي اعتكاف كرنا پسند كرتا ہے وہ اعتكاف كرے ) .

اعتكاف كےاور بھي كئي ايك مقاصد ہيں جن ميں سے چندايك ذكر كيے جاتےہيں:

1 - جتنا بھي ممكن ہوسكےلوگوں سے منقطع اور عليحدہ ہوكر اللہ تعالي سے تعلق پيدا كيا جائے، حتي كہ اس كا اللہ تعالي سے تعلق اور انس پيدا ہوجائے.

2 - اللہ تعالي كےساتھ مكمل تعلق پيدا كركے دل كي اصلاح .

3 - عبادات يعني نماز، قرآن مجيد كي تلاوت اور ذكر اذكاراور دعاء كےليے مكمل طورپرانقطاع .

4 - روزے پر اثرانداز ہونےوالي ہر چيزيعني نفساني شھوات وغيرہ سے روزہ كومحفوظ ركھنا.

5 - دنياوي مباح امور ميں كمي اورطاقت وقدرت ہونےكےباوجود ان سے زھد اختيار كرنا .

ديكھيں: كتاب الاعتكاف نظرۃ تربويۃ تاليف ڈاكٹر عبدللطيف بالطو.

واللہ اعلم  .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments